Buy website traffic cheap


جنوبی راجستھان میں واقع ایک گاﺅں

جنوبی راجستھان میں واقع ایک گاﺅں
خالد خان
ہمارے پڑوسی ملک بھارت مےں پپلانتری نامی اےک گاﺅں ہے۔ےہ گاﺅں جنوبی راجستھان کے ضلع راجسمند مےں واقع ہے۔گاﺅں پپلانتری کی آبادی تقرےباً آٹھ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔اس گاﺅں کے سر پنچ کا نام شےام سندر پالےوال ہے۔اس گاﺅں مےںکوئی لڑکی پےدا ہوتی ہے تو گاﺅں والے111پودے لگاتے ہےں۔وہ شےشم، نےم ، آملہ اور آم وغےرہ کے درخت لگاتے ہےں۔پپلانتری کے باشندے ےقےنی بناتے ہےں کہ ےہ پودے لڑکی کے بڑے ہونے تک تناور درخت بن جائےں اور پھل بھی دےں۔ وہ لوگ دوسرا کام ےہ کرتے ہےںکہ گاﺅں والے اکےس ہزار روپے اکھٹے کرتے ہےں اور اس کے باپ سے دس ہزار روپے لےتے ہےں۔وہ 31 ہزار روپے لڑکی کے نام پر فکسڈ ڈےپازٹ مےں رکھوادےتے ہےں ۔ےہ رقم مذکورہ لڑکی 20سال بعد نکلوا سکتی ہے۔ گاﺅں والے تےسرا ےہ کام کرتے ہےں کہ اس لڑکی کے والدےن سے حلف نامہ لکھواتے ہےں کہ (1) وہ اپنی بےٹی کی شادی قانونی عمر پوری ہونے تک نہےں کرےں گے۔(2)وہ اپنی بےٹی کو باقاعدگی سے سکول بھےجےں گے۔ (3)اس کے نام سے لگائے گئے درختوں کی دےکھ بھال کرےں گے۔
پپلانتری گاﺅں کے سر پنچ شےام سندر پالےوال کی اےک بےٹی تھی ۔اس کانام کرن تھا۔ شےام کو اپنی بےٹی سے بہت پےار تھا۔اس کی بےٹی فوت ہوگئی۔
شےام سندر پالےوال اکثر اپنی بےٹی کو ےاد کرتا تھا اوراس کی ےاد مےں غم زادہ اور بے حال رہتا تھا۔اےک دن اس نے سوچا کہ مےں کوئی اےسا کام کےوں نہ کروں جس سے دوسرے لوگوں کی بےٹیوں کا بھی فائدہ ہو۔شےام سندر پالےوال نے اپنی بےٹی کرن کی ےاد مےں اےک سو گےارہ(111) درخت لگائے۔اس دن سے گاﺅں مےں جو بھی لڑکی پےدا ہوتی ہے تو اس کے نام پر اےک سو گےارہ درخت لگائے جاتے ہےں اور 31ہزار روپے بھی لڑکی کے نام پر فکسڈ ڈےپازٹ مےں رکھوادےتے ہےں۔پپلانتری گاﺅں مےں ہر سال اوسطاً 60 لڑکےاں پےدا ہوتی ہےں۔پپلانتری کے لوگوں نے اب تک تقرےباً ڈھائی لاکھ پودے لگائے ہےں۔ پپلانتری مےں کوئی فوت ہوجائے تو اس کے نام پر 11 درخت لگائے جاتے ہےں۔اس گاﺅں کے افراد نے اُن درختوں کو دےمک سے بچانے کے لئے 25لاکھ تھوہر کے پودے لگائے ہےں۔ےہ درخت اور تھوہر وغےرہ کے پودے گاﺅں کے کئی افراد کےلئے روز گار کا ذرےعہ ہےں۔اس گاﺅں مےں شراب نوشی اور درخت کاٹنے وغےرہ جےسے جرائم پر پابندی ہے۔کہتے ہےں کہ پپلانتری مےں گذشتہ بےس برسوں مےں کوئی پولےس کےس نہےں ہوا ۔
قارئےن کرام!جب ےہ لڑکی بڑی ہوگی تو وہ کم از کم اےک سو گےارہ درختوں اور کافی ساری رقم کی مالکہ ہوگی۔ اس سے اس کو معاشی پرےشانی نہےں ہوگی۔ وہ تعلےم ےافتہ بھی ہوگی۔ وہ ان پڑھ عورت سے بہتر ہوگی۔ وہ معاشی لحاظ سے بھی مستحکم ہوگی۔اس کی زندگی خوشحال ہوگی۔اس کو کوئی پرےشانی نہےں ہوگی۔اس رواج سے دھےرے دھےرے بھارت مےں دےگر لڑکےوں کی زےست بھی محفوظ ہوجائے گی کےونکہ بھارت مےں بچی پےدا ہونے سے پہلے ہی قتل کردی جاتی ہے۔واضح ہو کہ بھارت مےں سالانہ ہزاروں بچےاں پےدائش سے قبل ہی قتل کردی جاتی ہےں۔
قارئےن کرام! گاﺅں پپلانتری کے باسےوں کے اس رواج سے وطن عزےز پاکستان مےں بھی فائدہ اٹھاےا جاسکتا ہے۔ہم اپرےل فول ،بسنت، وےلنٹائن ڈے وغےرہ منانے مےں دوسروں کی نقل کرسکتے ہےں تو درخت لگانے مےں نقل کےوں نہےں کرتے ہےں۔ اپرےل فول سے دوسروں اور خود فول بن جاتے ہیں۔وےلنٹائن ڈے سے اخلاقےات کا جنازہ نکل جاتا ہے۔بسنت منانے سے قےمتی جانوں اور سرمائے کا نقصان ہوتا ہے جبکہ درخت لگانے سے تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔وطن عزےز پاکستان کی اکثرےت آبادی مسلمان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرماےا کہ کوئی بھی مسلمان اےک پودا لگائے ےا کھےت میں بےج بوئے تواس میں سے پرند ےا انسان ےا چرند جو کھاتے ہیں،وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔” ےعنی جوکوئی انسان ےا حےوان اس درخت ےا کھیتی سے فائد ہ اٹھائے گاتواس کو مسلسل ثواب ملتا رہے گا اورےہ اس کےلئے صدقہ جاریہ بن جائے گا۔ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ درخت لگانا سنت نبویﷺ ہے۔اس سنت کوعام کرنے کے لئے سعی کےوں نہےں کرتے ہےں۔ درخت لگانے سے ماحول خوشگوار ہوجاتا ہے۔ درختوں سے جلانے اور فرنےچر بنانے کے لئے لکڑی حاصل ہوتی ہے۔درختوں سے پھل اور پھول حاصل ہوتے ہےں۔پھلوں اور پھولوں کو برآمد کرنے سے زرمبادلہ کماےا جاسکتا ہے۔گھرےلو سطح پر سبزےاں کاشت کرنی چاہےےں۔ گملوں اور دےگر فالتوڈبوں مےں سبزی اور پودے لگائے جاسکتے ہےں۔ اس سے مہنگائی کے کرب کو کم کےا جاسکتا ہے۔آپ کے گھر مےں وافر مقدار مےں آکسےجن ہوگی۔آپ کا گھر خوبصورت اور زےب نظر ہوگا۔آپ کی چھوٹی سی کوشش سے آپ کے گھر ، محلہ، گاﺅں، شہر اور ملک مےں خوشگوار تبدےلی آسکتی ہے۔