Buy website traffic cheap


اسرائیلی فورسز کی فائرنگ، الجزیرہ کی خاتون رپورٹر شہید

اسرائیلی فورسز کی مغربی کنارے میں فائرنگ سے الجزیرہ ٹی وی کی خاتون رپورٹر شہید ہو گئی ہیں۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹر شیریں ابو عاقلہ کا تعلق فلسطین سے تھا، خاتون جینن میں اسرائیلی فورسز کے چھاپوں کی کوریج کررہی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق گولی لگنے کے بعد صحافی کو فوری اسپتال لے جایا گیا، لیکن ان کی جان نہیں بچائی جا سکی، اور ڈاکٹرز نے ان کے مرنے کی تصدیق کی۔ الجزیرہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صحافی کی موت کے حالات ابھی تک واضح نہیں ، لیکن واقعے کی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ شیریں ابو عاقلہ کو سر میں گولی ماری گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان صحافیوں کے لیے ایک بہت مشکل وقت ہے جو ان کے ساتھ وہاں کام کر رہے تھے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ وزارت صحت نے بتایا کہ ایک اور فلسطینی صحافی کو بھی گولی لگنے کا واقع پیش آیا ہے۔تاہم یروشلم میں مقیم القدس اخبار کے لیے کام کرنے والے علی سامودی کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔

فلسطین اور بیرون ملک سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر صحافی کی بہادری اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام نے لکھا کہ اسرائیلی قابض افواج نے جنین میں ان کی بربریت کی کوریج کرتے ہوئے صحافی شیرین ابو اکلیح کو قتل کر دیا۔ شیریں سب سے ممتاز فلسطینی صحافی اور ایک قریبی دوست تھیں۔ اور اب ہم برطانوی اور عالمی برادری سے صرف حالات پر تشویش کے اظہار جیسے الفاظ سنیں گے۔