Buy website traffic cheap

گوانڈنے

مبینہ پولٹری کارٹیل اور جمشید اقبال چیمہ

ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کارٹیلائزیشن کے الزام میں مختلف پولٹری فیڈ ملوں کو نوٹس جاری ہو گئے۔ دو فیڈ ملوں کے دفاتر پر چھاپے کے بعد ضبط کئے گئے ریکارڈ سے سامنے آیا کہ ایک ہی وقت میں متفقہ طور پر ریٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے ایک وٹس ایپ گروپ بھی پکڑا گیا۔ فیڈ ملوں کی اس مبینہ ساز باز کو چکن کی قیمت میں اضافے کے ساتھ جوڑتے ہوئے الزام ثابت ہونے پر کارروائی کا عندیہ دیا گیاہے۔
پولٹری سیکٹر کے ساتھ ساتھ کسی بھی انڈسٹری میں کسی بھی قسم کی کارٹیلائزیشن کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے اور سنجیدہ صورتحال میں سخت ترین کارروائی کی جانی چاہئے۔ صرف فیڈ ہی نہیں، چوزے اور میڈیسن سمیت کسی بھی ذیلی شعبہ میں اگر کوئی ایسا پہلو پایا جائے جس سے مجموعی طور پر پولٹری فارمنگ متاثر ہوتی ہو تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ ہاں لیکن کسی ایک ذیلی شعبہ میں مبینہ گڑ بڑ کومجموعی طور پر پولٹری سیکٹر کے ساتھ جوڑنا اور یہ تاثر دینا کہ یہ سیکٹر ایک مافیا کی طرز پر کام کرتا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر چکن کے ریٹ کو کنٹرول کیا جاتا ہے ، تو یہ ہر گز مناسب نہیں۔
پولٹری فیڈ یا کسی اور پیداواری جزو کی قیمت میں تغیر کو پولٹری پروڈکٹس کی مارکیٹ پرائس کے ساتھ جوڑنا سیکٹر سے متعلقہ سمجھ نہ ہونے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ پولٹری پروڈکٹس کے ریٹ میں انتہا کی حد تک اتار چڑھاﺅ دیکھا جاتا ہے لیکن کبھی بھی اس کا تعلق چکن کی کاسٹ آف پروڈکشن کے ساتھ نہیں رہا۔مارکیٹ میں پولٹری پروڈکٹس، خصوصاََ چکن کی قیمتیں ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصول کے تحت چلتی ہیں جس میں سال کے مختلف حصوں میں مختلف قیمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پبلک ٹی وی کے ایک پروگرام میں جمشید اقبال چیمہ صاحب نے چکن کی قیمت میں حالیہ اضافے کو کارٹیلائزیشن کے ساتھ جوڑتے ہوئے قیمت کو پیداواری لاگت کے مطابق کنٹرول کرنے کا عندیہ دیا۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ پولٹری میں کارٹیل بنا ہواہے جس کی وجہ سے قیمت میں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹری کو کریمنل کی طرح نہیں ڈیل کرنا چاہئے۔ ان کی گفتگو میں مثبت پہلو یہ تھا کہ کسی بھی انڈسٹری کو چلانے کے لئے ریٹ کا تعین پیداواری لاگت اور منافع کی شرح کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہئے۔
بنیادی طور پر جمشید اقبال چیمہ صاحب کا تعلق زراعت کے شعبہ سے ہے۔ سپیشل اسسٹنٹ ٹو پرائم منسٹر آن فوڈ سیکیورٹی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد امید تھی کہ زراعت کے ساتھ ساتھ لائیوسٹاک اور پولٹری سیکٹر سے متعلقہPopular Opinion کے برعکس وہ حقائق کو ترجیح دیں گے۔ میں پولٹری سیکٹر کے لوگوںسے کہنے ہی والا تھا کہ حالیہ کرائسز میں وہ محترم جمشید اقبال چیمہ سے ملاقات کریں کیونکہ بطور ایگریکلچرل پروفیشنل وہ پولٹری سیکٹر اور پولٹری مارکیٹ میکانزم کا ادراک رکھتے ہوں گے۔ لیکن جب عدیل وڑائچ صاحب کے سوال کے جواب میں چیمہ صاحب کو پولٹری سیکٹر کے بارے عمومی بیان دیتے ہوئے سنا، تو عجیب لگا۔
برائلر کا پروڈکشن سائیکل 35 سے 40دن پر مشتمل ہوتا ہے جس میں چوزہ، فیڈ، ادویات، افرادی قوت ، بجلی اور دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ یہ سائیکل مکمل ہونے کے بعد ایک خاص وز ن سے آگے مرغی کو نہیں پالا جاسکتا۔ اس موقع پر مارکیٹ میں جو بھی ریٹ ہو اور فیڈ، چوزہ، ادویات وغیرہ جس قیمت پر بھی خریدے گئے ہوں، فارمر کو یہ فلاک بیچنا ہی پڑتا ہے۔ ایک شیڈ کے مالک سے لے کر کئی شیڈوں کے مالک تک، سب فارمرز اسی مارکیٹ سسٹم کے تحت چلتے ہیں ۔
دوسری جانب روزانہ کی بنیاد پر چکن کا ریٹ اوپن مارکیٹ کے تحت ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے تحت طے ہوتا ہے۔ اسی لئے چکن 130 روپے فی کلو بھی ملتا ہے اور 320 روپے کلو بھی ۔ جب کبھی ریٹ ایک خاص حد سے اوپر جاتا ہے تو چند دن کے بعد مارکیٹ فورسز خود ہی اسے نیچے لے آتی ہےں۔ اس سارے پراسیس میں کسی بھی مافیاکی منظم کارروائی کا عمل دخل نظر نہیں آتا ۔ اس تناظر میں فیڈ یا کسی اور پیداواری جزو کی قیمت میں اضافے کو چکن کی حالیہ قیمت میں اضافے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔
پاکستان میں تمام لائیوسٹاک پروڈکٹس میں پولٹری پروڈکٹس اور خصوصاََ چکن کی پرائس Decapped ہےں۔ اس کے مقابلے میں دودھ اور گوشت کی قیمتیں Capped ہیں۔ اس تناظر میں سنجیدہ سطح پر کئی دفعہ یہ تجویز زیر غور آئی ہے کہ دودھ اور گوشت کی قیمتوں کو بھی ڈی کیپ کیا جائے تاکہ پولٹری سیکٹر کی طرح یہ شعبہ بھی ترقی کرے اور اس میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔ اس حوالے سے پالیسی میکرز کی جانب سے ہمیشہ پولٹری سیکٹر کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں ڈی کیپنگ کے باعث ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے تحت قیمت ایک ونڈو میں رہتی ہے اور منافع کی امید میں سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ اسی پہلو کو اس سیکٹر کی ترقی کی وجہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے پولٹری پروڈکٹس کی پرائس کیپنگ مجموعی طور پر اس سیکٹر کو ڈسٹرب کرے گی۔ اسی طرح اس سیکٹر کو مافیاقرار دینے سے پولٹری فارمنگ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ اس شعبہ میں کسی بھی قسم کی کارٹیلائزیشن جس سے پولٹری فارمرز متاثر ہوتے ہوں، اس کے خلاف ضرور کارروائی کی جانی چاہئے لیکن مجموعی طور پر اس سیکٹر کو سیاسی مفادات کے لئے مافیا قرار نہیں دینا چاہئے۔ پرائس کیپنگ حل نہیں، حکومت کو پولٹری فارمرز اور پولٹری سیکٹر کے مسائل پر توجہ دیتے ہوئے ان کو حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔