Buy website traffic cheap


امریکی ثالثی میں سوڈان اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ معاہدہ طے پا گیا

خرطوم: سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اور دیگر امور کے حوالے سے امریکی ثالثی میں معاہدہ ابراہیم پر باضابطہ دستخط کردیئے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تعلقات معمول پرلانے کے لیے اسرائیل اور سوڈان کے درمیان معاہدہ ابراہیم پر باضابطہ دستخط خرطوم میں امریکی سفارت خانے میں ہوئے۔ معاہدے پر امریکی وزیرِ خزانہ اسٹیون منچن، سوڈان کے وزیرِ انصاف نصر الدین عبدالباری نے دستخط کیے۔

گزشتہ ماہ امریکا کی جانب سے دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کے بعد سوڈان اسرائیل سے تعلقات کی بحالی اور معاہدے پر دستخط پرراضی ہوا تھا۔

یاد رہے کہ امریکا نے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر رہنماوں کو پناہ دینے کے الزام پر 1990 میں سوڈان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرکے اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

اس فہرست سے نام نکلنے کے بعد سوڈان کو ایک ارب ڈالر کا قرض دینے پر اتفاق کیا گیا تھا تاکہ معاشی پریشانیوں کا سامنا کرنے والا سوڈان عالمی بینک کے واجبات واپس کر سکے۔سوڈان کے ماہر اقتصادیات نے امید ظاہر کی ہے کہ اس معاہدے کے بعد عالمی بینکاری نظام میں شامل اور قرضوں سے چھٹکارہ حاصل ہوگا جب کہ ہر سال عالمی بینک سے 1.5 ارب ڈالرز کا قرضہ بھی حاصل کیا جا سکے گا۔

سوڈان کی اپوزیشن جماعتوں نے اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے اور معاہدہ طے کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک دشنمی اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے اس اقدام کو فی الفور واپس لیا جائے۔واضح رہے کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے گئے معاہدوں کو ”معاہدہ ابراہیم“ کا نام دیا گیا ہے جس پر امریکی ثالثی میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور اب سوڈان نے دستخط کیے ہیں۔