Poetry

ابھی تقدیر کے ٹکڑے کیے ہیں

وشمہ خان وشمہ تری تصویر کے ٹکڑے کیے ہیں ابھی تقدیر کے ٹکڑے کیے ہیں تری جانب سے جو مجھ کو ملی تھی اسی تحریر کے ٹکڑے کیے ہیں عداوت پڑگئی ہے بھائیوں میں تبھی جاگیر کے ٹکڑے کیے ہیں مرے پاون میں ہے جو بے بسی کی کہاں زنجیر کے ٹکڑے کیے ہیں کمانیں […]

اب دیکھ لو پاؤں میں زنجیر بھی نہیں

تیغ و سپر نہیں ہے کوئی تیر بھی نہیں اب دیکھ لو کہ پاؤں میں زنجیر بھی نہیں زادِ سفر میں کھو دیا اپنے وجود کو اس بار ہاتھ میں تری تصویر بھی نہیں شعر و سخن کی بزم سجائی تو ہے مگر غالبؔ نہیں ہے آج کوئی میؔر بھی نہیں ماری گئی ہوں اعدا […]

……انسان نہیں ہو تم

اِس دور کے انساں اب انسان نہیں ہو تم کہلانے کے لائق تو حیواں بھی نہیں ہو تم ہر روز کسی پیڑ کو تم کاٹ دیتے ہو جینے کی وجہ چھین کر نالاں نہیں ہو تم سڑکوں پہ چلے بیٹی یا گھر میں دُبک بیٹھے ہو مغربی لباس یا وہ سر سے پیر ڈھانپے تم […]

اعمال دیکھ کر ہی گر فیصلہ ہوا

اعمال دیکھ کر ہی گر فیصلہ ہوا مجھے بتا کہ تو پھرکیوںکرخدا ہوا ؟ جو کچھ بھی کہتا ہوں کہتے ہو جواباً کچھ اور کہو ، یہ تو ہے پہلے سنا ہوا ہر شخص انقلاب کا ہے منتظر یہاں اپنی اپنی زنجیر سے لیکن بندھا ہوا روز تیرے غضب کو دیتا ہو میں آواز اک […]

تیرا ساتھ گوارا نہ تھا

گر مشکل نہ تھا تو کچھ آ ساں بھی نہ تھا تیرا ساتھ ہی تو اس سفر میں گوارا نہ تھا رنجش کا سماں تھا محو نظر کوی دلکش نظارہ نہ تھا اس بحر بیکراں کو بنا کشتی ہی پار کرنا تھا لہروں سے الجھنا تھا کنارہ یھی ڈھونڈنا تھا اپنی لحد میں بھی ہم […]

عشق کیا ہے اس سے انجان تھے ہم

عشق کیا ہے اس سے انجان تھے ہم مگر تم تو سوچتے کہ انسان تھے ہم ہوں جانور جیسا سلوک اور نا انصافی تم بھول گے تیری گلی مہمان تھے ہم اک زمانہ آج بھی یاد ہے دل کو جب ہوا کرتے تمھاری پہچان تھے ہم تم اک لمحہ بھی بن ہمارے نہ گزارتے تم […]

آؤ پت جھڑ میں کبھی حال ہمارا دیکھو

آؤ پت جھڑ میں کبھی حال ہمارا دیکھو خشک پتوں کے سلگنے کا تماشا دیکھو پاس آ کر مرے بیٹھو مجھے اپنا سمجھو جب بھی روٹھی ہوئی یادو مجھے تنہا دیکھو پھول ہر شاخ پہ کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں کیا تماشا ہے سر نخل تمنا دیکھو کبھی ہم رنگ زمیں ہے کبھی ہم دوش […]

چھوٹے لوگ بڑے لوگ

چھوٹے لوگ بڑے لوگ ذات میں پڑے لوگ نفرت، تعصب، حسد، رقابت، کینہ جیسے رشتوں میں جڑے لوگ انسانی ذہن کا اختراع خانہ تفریق میں بٹے لوگ یہ ، میں ، آپ کی انا جہالت میں گھرے لوگ محدود سوچ کے پنجرے ذہنوں میں قید اڑے لوگ جاوید جینے کا سلیقہ سیکھے محبت کا زینہ […]