Buy website traffic cheap

مبطلہ

چین کے میزائلوں سے لیس ڈرون نے پوری دنیا کو خوف میں مبطلہ کردیا

لاہور(ویب ڈیسک) چین نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا مزائلوں سے لیس ڈرون متعارف کروایا ہے – جس میں 10 مختلف قسم کے ہتھیار لے جانے کی قابلیت ہے-
ذرائع کے مطابق :چین نے مسلسل 35 گھنٹے پرواز کرنے والا جدید ’بمبار ڈرون‘ تیار کرلیا جو 23 ہزار فٹ کی بلندی پر دشمن پر نظر رکھنے اور اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین نے دشمن پر قہر ڈھانے والے جدید ڈرون کی پہلی پرواز کی ویڈیو جاری کردی ہے، بمبار ڈرون کا نام تاحال نہیں بتایا گیا تاہم اس کے خدوخال اور صلاحیتوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ونگ لونگ آئی ڈی ساکھ کا یہ نیا ڈرون 10 مختلف قسم کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اورری فیولنگ کے بغیر 35 گھنٹے تک لگتار پرواز اس کی امتیازی خصوصیات ہیں ۔ نیا ڈرون طیارہ اپنی اونچی اڑان کی وجہ سے بھی دوسروں پر سبقت لے گیا ہے، جدید ڈرون 7 ہزار میٹر بلندی یعنی 23 ہزار فٹ کی اونچائی تک اڑان بھرتا ہے۔

دنیا میں پہلی مرتبہ ڈرون سے بچے تک ویکسین کی کامیاب ترسیل
لاہور(ویب ڈیسک) دنیا میں پہلی مرتبہ ویکسین کی ترسیل میں ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی۔
ذرائع کے مطابق : دور افتادہ اور دشوار گزار جزیرے پر پیدا ہونے والے ویکسین کی سہولت سے محروم بچے تک ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پہلی بار ویکسین پہنچا دی گئی کمرشل ڈرون کے ذریعے بحرالکاہل میں واقع جزیروں کے مجموعے وانوٹو میں ایک ماہ قبل پیدا ہونے والے بچے جوئے نووائی کو یہ ویکسین پہنچائی گئی جہاں ہر پانچ میں سے ایک بچہ ویکسین سے محروم ہے اور خطرناک امراض کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہ دنیا کا پہلا بچہ ہے جس کے لیے ویکسین کی ترسیل میں ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی۔ کمرشل ڈرون نے 40 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور 25 منٹ میں سنگلاخ اور مشکل سے عبور کیے جانے والے پہاڑوں تک پہنچ کر کُک بے خطے پر ویکسین اتاریں جہاں بجلی تک نہیں ہے اور ہسپتال کا نام بھی کسی نے نہیں سنا۔ یہاں پہنچنے کے لیے پیدل یا چھوٹی کشتیوں تک جانا پڑتا ہے جس میں کئی گھنٹے لگتے ہیں۔ ویکسین ملتے ہی وہاں موجود ایک نیم تربیت یافتہ نرس نے پانچ حاملہ خواتین اور 13 مقامی بچوں کو پولیو، ویکسین، ہیپاٹائٹس بی ، خسرہ اور ایبیولا سے بچاؤ کی ویکسین لگائیں۔15 نومبر کو پیدا ہونے والے ’جو‘ کو اپنی پیدائش کے ایک روز بعد فوری طور ٹی بی اور ہیپا ٹائٹس بی کی ویکسین تو مل گئیں مگر چند روز کے اندر اسے مزید امراض کے خلاف ویکسین لگانا تھیں جو نرس کی عدم موجودگی کی وجہ سے ممکن نہیں ہوسکا- اس کی ماں اپنے بچے کے متعلق پریشان تھی اور اسے ویکسین نہ ملنے پر مضطرب تھی۔ اب ڈرون ویکسین ملنے پر وہ بہت خوش ہے کہ اسے گھنٹوں کا سفر نہیں کرنا پڑا جبکہ قریبی نرس صرف 15 منٹ کی مسافت پر موجود تھی۔ یہ سارا انتظام اقوامِ متحدہ کے تحت بچوں کی صحت و تعلیم کی ذیلی تنظیم یونیسیف نے کیا تھا۔ ڈرون کو ایک قدرے آباد اور ترقی یافتہ جزیرے ایرو مانگو کے گاؤں سے اڑایا گیا تھا جو وناٹو کے مغرب میں واقع ہے۔ ڈرون نے کئی پہاڑ عبور کیے۔ ڈرون میں ویکسین ٹھنڈی رکھنے کا پورا انتظام تھا اور جب یہ ڈرون اپنی منزل پر پہنچا تو مقامی افراد نے رقص کرکے اس کا استقبال کیا اور لوگوں کی بڑی تعداد نے ڈرون دیکھا۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو عالمی صحت کے مسائل حل کرنے میں اہم قدم قرار دیا ہے۔