Buy website traffic cheap


کورونا وائرس کہیں دجالی سازش تو نہیں

کورونا وائرس کہیں دجالی سازش تو نہیں
ظفر اقبال ظفر
چائنہ کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کورونا وائرس کہےں دجالی سازش تو نہیں۔ہمیں پیارے نبی کرےم ﷺ کی تعلےم پرعمل کرنا ہے جو آپ ﷺ نے صحابہ کو فتنو ں کے بارے مےں دی آپ ﷺ اپنی امت کے بارے مےں بہت فکرمند رہتے تھے اور ان کو تما م فتنوں سے بار بار آگاہ کرتے تھے نا صرف آگاہ فرماتے بلکہ آپ ﷺ کو مدےنہ منورہ مےں ےہودےوں کی بستی مےں جب اےک ےہودی کے ہاں اےسے لڑکے کا پتہ چلا جس مے دجال کی نشانےاںپائی جاتی تھےں تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کے ہمراہ خود وہاں تشرےف لے گئے اور چھپ کر ساری حقےقت جاننے کی کوشش کرتے رہے۔اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ کو اطلاع ملی کہ ےمن مےں ٹڈےاں ختم ہو گئی ہےں تو آپ پرےشان ہو گئے اور اس کی تحقےق کروائی کےونکہ ٹڈےوں کا ختم ہو جانا علامات قےامت مےں سے ہے۔ امرےکہ کے اندر اےک مقام ہے جسے فلورےڈا کہا جاتا ہے اس مےں پانی پر مشتمل ایک حصہ ہے جسے برموداتکون کہا جاتا ہے اس نام کے پیچھے چھپا مطلب یہ بھی ہے(اےک اےسا خداجس کا انتظار کےا جا رہا ہے)برموداتکون اور شےطانی سمندرلوگوں کے لےے اےک پراسرار علاقہ بن چکا ہے جس کے بارے مےں جاننے کے لےے انسانی تجسس بڑھتا چلا جاتا ہے بعض مسلم محققےن کا خےال ہے کہ اس شےطانی سمندر اور برموداتکون کے اندر دجال نے خفےہ پناہ گاہےں بنائی ہوئی ہےںجہاں سے وہ دنےا کے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ بڑے بڑے دےوہےکل جہازوں کا پرسکون سمندر مےں بغےر کسی خرابی ےا حادثے کے اچانک غائب ہو جانا ۔کبھی مسافروں کا بچ جانا اور جہازوں کا اغوا کےا جانا کبھی جہازوں کا صحےح حالت مےں بچ جانا اور مسافروں کا اغوا کر لےا جانا فضا مےں اڑتے ہوئے جہازوں کا دےکھتے ہی دےکھتے گم ہو جانا ےہ سب اےسے واقعات ہےں جن تشرےح آج تک دل کو مطمن نہےں کر سکی ان کا غائب ہونا اس قدر تےز ہوتا کہ طےاروں کے پائلٹ ےا جہاز کے کپتان کو اےمر جنسی پےغام بھےجنے کی مہلت بھی نہےں مل پاتی۔اس سے بھی زےادہ حےرت کی بات ےہ ہے کہ غائب ہونے والے طےاروں جہازوں اور مسافروں کا کبھی کوئی نام و نشان بھی نہےں مل سکااگرچہ بعض ماہرےن کی طرف سے ےہ باروکرانے کی کوشش کی جاتی رہی کہ اس جگہ سمندر کے اندر اےسے تےز طوفان آتے ہےں جن کی شدت سے ےہ جہاز ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہےں اور پھر ہوائےں ان کو دور دراز کے پانےوں مےں بہا لے جاتی ہےںلےکن اس تشرےح کو انسانی زہن اس لےے تسلےم نہےں کر سکتا کہ جدےد ٹےکنالوجی کے اس دور مےں جبکہ ماہرےن سمندر کی گہرائےوں مےں پہنچ کر مچھلےوں اور دےگر آبی جانوروں پر تحقےق کے لےے ان کے جسموں کے ساتھ کےمرے لگا کر ان کی تمام نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہےںتوکےا آج تک وہ برموداتکون مےں غائب ہونے والے جہازوں کا ملبہ بھی کہےں نہےںڈھونڈ سکے۔نےز اس علاقے مےں رونما ہونے والے تمام حادثات مےں اےک بات انتہائی اہم ہے کہ اغوا ہونے والے طےاروںپائلٹ اور جہازوں کے کپتان ےا مسافروںمےں اپنے وقت کے ماہر قابل لوگ اغوا کئے گئے ہےں۔حادثات کے وقت موسم بالکل معتدل اور دن کا وقت ہوتا تھا۔چنانچہ موسم کی خرابی کو بھی اس مےں دخل نہےں دےا جا سکتاطےاروں اور جہازوں سے ان کے ہےڈ کوارٹر کا رابطہ اچانک منقطع ہوتا گوےا رےڈےو سگنل کسی نے جام کر دئےے ہوں۔اسے مقناطےسی طاقت کا گمان بھی کےا گےا ہے۔مےں جہازوں کے نام ممالک تارےخ مسافروں کی مکمل تفصےل بےان کرنے لگوں تو ےہ کالم اےک کتابی شکل دھار لے گا۔آپ مکمل حقائق جاننا چاہتے ہےں تو انٹرنےٹ سے برموداتکون کے حوالے سے بے شمار معلومات جان سکتے ہےں۔لہذا مےں دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اصل موضوع کی طرف آتاہوں اس برمودا تکون سمندر مےں دجالی پروکار عرصہ دراز سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کر رہے ہےں جن کی سوارےاں اڑن طشترےاں ہےں جو اےک سےکنڈ مےں سات سو کلومےٹر کا فاصلہ طے کرتی ہےںاس کی ٹےکنالوجی امرےکہ سے بھی سو سال آگے ہے اکثر ےہودےوں کے برانڈ لوگو کے اندر دجال کی آنکھ کو فوکس کےا گےا ہے ٹےکنالوجی دجال کا ہتھےار ہوگا۔پروجےکٹر لےزر لائٹ کے زرےعے ہوا مےں منظر کشی کرکے مسلمانوں کو اسلام سے بہکا کر اپنی خدائی کا دعوہ کرئے گاجنہےں کمزور اےمان والے اپنا لےں گے اور ثابت قدم مسلمان کہےں گے پہلے ہمےں شک تھا اب ےقےن ہو گےا ہے کہ تو ہی دجال ہے۔آج بھی دجال کے پروکار دنےا مےںمسلمانوں کے اندر فحاشی قتل وغارت اسلام خلاف عمل کے لےے ان کی مالی اور ہتھےاروں کے زرےعے مدد کرتے ہےں۔ےہی وجہ ہے دنےا مےں درجنوں ممالک مےں مسلمان ہی ظلم وزےادتی کا شکار ہےںانہےں کمزور کرنے کے لےے سب سے زےادہ استعمال حکومتوں کے اندر سے کےا جاتا رہا ہے۔کورونا وائرس مجھے دجالی قوتوں کا تجربہ کےوں لگتا ہے اس کے چند پہلو قابل غور ہےںجن مےں پہلا ےہ کہ چائنہ کے شہر ووہان سے شروع ہو کر دوسو ممالک مےں چلا گےا مگر چائنہ کے دوسرے شہر مےں نہےں گےااس کی سمت کا تعےن کرنے والا کون ہے؟نو سال پہلے اس پر contagionفلم بن چکی ہے کتاب لکھی جا چکی ہے مصنف کو آج پےدا ہونے والے حالات اور کوروناوائرس کے اثرات کےسے معلوم تھے؟کےا ےہ دلےل کافی نہےں کہ ےہ پلان کےا گےا اےک واقعہ ہے۔دوسری طرف آئےں کہ ےہ اسلام دشمن کےوں ہے۔آپ کو ےاد ہوگا ہمارے زرےراعظم صاحب دنےا کو بتاتے رہے ہےں کہ مسلمان موت سے نہےں ڈرتا ۔اور آغاز گفتگوقرآنی آےات جس کا ترجمہ ۔اللہ تےری ہی عباد ت کرتے ہےں اور تجھ سے ہی پناہ مانگتے ہےں۔اور آج نظر نہ آنے والے کورونا وائرس نے موت کا خوف بھی دےدےا اور اللہ کی مدد کا دعوہ کرنے والے سے ہی اللہ کی عبادت گاہےں بھی بند کروا کے رکھ دی گئےںدوسری طرف دےوبند ی تبلےغی جماعت جس کا عقےدہ تھا کہ اللہ سے سب کچھ ہونے کا ےقےن اور مخلوق سے کچھ نہ ہونے کا ےقےن ۔اب مخلوق کی حکومت اور وائرس کا خوف دونوںانہےں قےد کرکے رکھے ہوئے ہے۔اس کے علاوہ اہل بےت کے نام پر عقےدے بنانے والے بھی اس وائرس کے اثرات مےں مبتلا ہےںاولےا اللہ کے مزارات بھی بند کر دئےے گے ۔اللہ کرےم کے ماننے والے اسلام کی پےروی اور پھےلاﺅ مےں رک کےو ںگے کےا اللہ سب سے بڑی طاقت نہےں کےا اللہ ہر دشمن اسلام کو شکست دےنے مےں قادر نہےں ۔ہونا تو ےہ چاہئے تھاکہ ہم مسلمان اللہ سے مدد لے کر اس وائرس کوناکام بناتے اور اتحاد اتفاق سے قرآن پاک اور حدےث کی راہنمائی مےں دنےا کو بتاتے کہ اللہ ہی ہر سازش کو ناکام بنا کر مسلمانوں کی حفاظت کرتا ہے۔مجھ سمےت کئی مسلمانوں مےںکمزورےاں ہو سکتی ہےں مگر اسلام کمزور نہےں ہے ابھی بھی وقت ہے اسلام کا دامن تھام کراپنی حقےقی اصلاح سے اس وائرس کو ہرا کر اسلام کی جےت کا اعلان کےا جا سکتا ہے مےرے لےے سارے مسلمان چاہئے وہ کسی بھی فرقے اور مسلک سے ہوں قابل احترام ہےں مےری نشاندہی تو اللہ کی ناراضگی والے برے اعمال ہےںجن کو دور کرکے ہم غےر مسلموں کے لےے اسلام کا راستہ کھلوا سکتے ہےں اورسازشی موت مےں مبتلا ہونے کی بجائے اللہ سے سچادےکھاتے۔