Buy website traffic cheap


روزانہ انڈے کھانا جان لیوا ہوسکتا ہے : تحقیق

لاہور(ویب ڈیسک) گذشتہ برس ہا برس  سے ماہرین انڈے کے انسانی صحت کیلئے فواید ونقصانات کے حوالے سے اپنی متضاد آراء پیش کرتے چلے ہیں۔ انڈہ جہاں بعض پہلوئوں سے انسانی صحت، تندرتی اور توانائی کے حصول کے لیے اہمیت کا حامل ہے تو وہیں انڈہ کے بعض انتہائی خطرناک پہلو بھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق : ایک سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ انڈہ روزانہ نہیں کھانا چاہیے بلکہ ہفتے میں ایک آدھ یا دو بار کافی ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ دو انڈے اپنے معدے میں اتارتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ انڈے اس کے دل کی صحت، خون کی شریانوں اور دیگر امراض کا موجب بن کرقبل از وقت وفات کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈے میں کولیسٹرول کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ ایک انڈے میں کولیسٹرول کی مقدار 185 ملی گرام تک ہوسکتی ہے۔ امریکی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار بھی یہی ہیں۔ روزانہ کولیسٹرول کی جتنی مقدار ایک شخص کو درکار ہوتی ہے ایک انڈے میں اس سے دو گنا ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بعض اوقات ایک انڈے میں کولسٹرول کی مقدار 300 ملی گرام تک ہوتی ہے۔ امریکی طبی سائنسی جریدے میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے انڈے کے انسانی صحت کے لیے نقصانات پر مسلسل 17 سال تک تحقیق کی اور 30 ہزار افراد کو اس تجربے سے گذارا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جو روزانہ اپنی خوراک میں کولیسٹرول کی 300 ملی گرام مقدار شامل کرتے ہیں تو ان میں امراض قلب اور دل کی شریانوں کے بند ہونے کا خطرہ 17 فی صد بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنی طبعی عمر سے 18 سال پہلے وفات پاسکتے ہیں۔ ان ماہرین کا مشورہ ہے کہ انڈے کا استعمال کم سے کم کیا جائے ورنہ ہفتے میں تین سے چار انڈے کھانے والے افراد میں امراض قلب اور قبل از وقت وفات کے خطرات 6 سے 8 فی صد بڑھ جاتے ہیں۔