Buy website traffic cheap


داتا گنج بخشؒ یونیورسٹی کا قیام وقت کی اہم ضروت

ممتاز احمد طاہر
خاتم النبین رسول اکرم ﷺکے بعد نبوت کا سلسلہ تکمیل کو پہنچا تاہم دین اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ اولیاءکرام ؒ نے نہایت حسن و خوبی سے انجام دیا اور ساری دنیا میں اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کا پیغام پہنچایا۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ برصغیر پاک وہند میں خاص طور پر اسلام کے فروغ کا سہرا بزرگان دین اور اولیا ئے کرام ؒ کے سر ہے۔کفرستان ہند میں ذات پات کی تفریق اور نسلی انتہا پسندی نے نچلی ذات اور غربت کی چکی میں پسے ہوئے افرادپر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا۔ اولیائےکرام نے یہاں اسلامی اخوت اور انسان دوستی کا پیغام دیا اور لوگوں میں عزت و وقار کے ساتھ جینے کی ایک نئی امنگ پیدا کردی۔ لاکھوں بندگان خدا جوق در جوق اولیا اللہ کے گرد جمع ہونے لگے اور پھر ان کے حسن اخلاق اور بھائی چارے کی عملی تصویر دیکھ کر وہ خود بھی اسی راہ پر چل نکلے۔ بزرگان دین اور اولیااللہ نے اپنی تعلیمات، اعلیٰ کارکردگی، حسن اخلاق اور بھائی چارے کا عملی نمونہ پیش کرکے انہیں حلقہ بگوش اسلام کیا۔ اگر آگے چلیں اپنے اسلاف کی زندگی کو دیکھیں اور مشاہیر اسلام کا جائزہ لیں تو ہمیں علامہ اقبال ؒ کے افکار و اشعار میں تصوف کی حقیقی رنگ قائد اعظم کے شاندار کردار میں اولیائاللہ کی تعلیمات کا جذبہ بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔ تحریک آزادی کی کامیابی اور پاکستان کا قیام اولیائے کرام کی تعلیمات اور روحانی فیض کی بدولت ہی ممکن ہوا۔ عالم اسلام ان دونوں رہنماﺅں نے اولیائے کرام کی تعلیمات کی بدولت اگرچہ ایک آزاد مملکت خدادحاصل کر کے مسلمانوں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا تاہم یہ بات افسوسناک ہے کہ ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی مملکت نہیں بنا سکے۔ آج کی نوجوان نسل خصوصاًطالبعلموں کو ہنود یہود کے کلچر اور مخرب اخلاق ہتھکنڈوں سے بچانے کا بہترین راستہ یہی ہے کہ انہیں اولیائے کرام کی تعلیمات سے آگاہ اور تصوف کے رنگ میں رنگنے کیلئے بھرپور کو ششیں کی جائیں ۔ یہ امر اطمینان و مسرت کا باعث ہے کہ لاہور گیریژن یونیورسٹی نے اولیاءاللہ بالخصوص حضرت سید علی ہجویری ؒکے پیغام کو عام کرنے کیلئے کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ ہم اس موقع پر یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ آج کے سیمینار میں ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے داتا گنج بخش یونیورسٹی کے قیام صرف مطالبہ ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے اس عظیم مشن کی بنیاد رکھنے کا لائحہ عمل بھی طے ہونا چاہیے۔ اسی طرح ہر سطح پر تعلیمی نصاب میں اولیا اللہ کی تعلیمات کو شامل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تمام یونیورسٹیوں نوجوانوں میں ایسا جذبہ پیدا کریں کہ وہ خود احتسابی کے ذریعے اپنی خودی اور کردار کو بلند کریں اور سوچیں کہ اقبال کےشاہینوں کے کون سے اوصاف وہ اپنائے ہوئے ہیں اور فرمودات قائد اعظم پر کس قدر عمل پیرا ہیں۔ میں امید ہے کہ آج کا یہ اجتماع ان مقاصدکیلئے عملی پیش رفت کی راہ ہموار کرے گا۔ ہم گیریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ماہر تعلیم میجر جنرل (ر)عبید بن ذکریا پلال امتیاز اور کانفرنس کے روح رواں پروفیسر سعید احمد سعیدی کو اس عظیم ترین کانفرنس کے اہتمام پر ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ملک کی دیگر یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بھی نوجوان نسل میں وطن کی محبت کے فروغ کیلئے صوفیائے کرام کی تعلیمات سے آگہی کی مہم میں اپنا کردار ادا کریں گے۔