Buy website traffic cheap


محکمہ تعلیم، حکمران اور تعلیمی تاجر

جام ایم ڈی گانگا
محترم قارئین کرام،، ہم، ہمارا معاشرہ، ہمارے ادارے کہاں جا رہے ہیں. متعلقہ ذمہ داران اور حکمران ملک و قوم کے ساتھ کیا کر رہے ہیں. کیا احساس ذمہ داری چمک اور دھمک کی بھینٹ چڑھ کر ختم ہو چکا ہے. اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ کیا مذاق اور کیا تماشہ ہے. کوئی روکنے، ٹوکنے اور پوچھنے والا نہیں. میں سوچ رہا ہوں کہ کسی ماہر قانون سے پوچھا جائے کہ لاقانونیت کیا ہوتی ہے. خیر مزید کوئی بات کرنے سے قبل میں آپ کے ساتھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایک اچھی شہرت کے حامل اعلی عہدے پر فائز آفیسر کی ایک مختصر سی پوسٹ یہاں شیئر کر رہا ہوں. میرے فارمانائٹ دوست چودھری طارق اقبال لکھتے ہیں کہ. ُ ُ کسی تعلیمی ادارے میں چلے جائیں وہاں پچیس تیس سال نہ پڑھانے کا تجربہ رکھنے والے مل جائیں گے. ¾ ¾. یہ چھوٹی سے پوسٹ سرکاری تعلیمی اداروں کے اندر کے حالات کا ایک معمولی سا عکس ہے. بغور جائزہ لیں، دیکھیں تو اس کے اندر آپ کو قوم کے انفرادی اور اجتماعی رویوں، اداروں کے انتظامی و دیگر معاملات بارے بہت کچھ دکھائی دے گا. گھوسٹ سکولوں اور مختلف سرکاری اداروں میں گھوسٹ ملازمین کی کئی داستانیں منظر عام پر آچکی ہیں. میرا خیال ہے کہ محکمہ تعلیم، محکمہ آبپاشی اور محکمہ بلدیات باقیوں سے آگے آگے دکھائی دیں گے. طارق اقبال نے جن مفت خوروں کا ذکر کیا ہے. ان کی اکثریت یقینا یونین لیڈرز کی ہی ہوگی.یہ لوگ قومی خزانے سے چودھراہٹ کی ڈیوٹی کے پیسے لیتے ہیں.
محترم قارئین کرام،، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ضلع رحیم یار خان کے ایک مراسلے نمبری ڈی ڈی سی، آر وائی کے، 1617.19مورخہ28ستمبر2020کی مکمل عبارت آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں. پہلے اسے ملاحظہ فرمائیں. نوٹس برائے عوام الناس غیر قانونی داخلہ جات بی. ایس پروگرامز
ضلع رحیم یار خان کی حدود میں واقع پبلک اور پرائیویٹ کالجز میں بی. ایس کی کلاسز کے اجراءیا ان کلاسز کی قانونی حیثیت سے متعلق عوام الناس میں جو ابہام، بے چینی پائی جاتی ہے. اس سلسلے میں زیر دستخطی تمام عوام الناس کو مطلع کرتی ہے کہ اس وقت ضلع رحیم یار خان کے اندر صرف خواجہ فرید گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج رحیم یار خان میں بی. ایس پروگرامز کو قانونی حیثیت حاصل ہے. اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے آج کے دن تک ضلع رحیم یار خان کے کسی پبلک یا پرائیویٹ کالج کو بی. ایس پروگرامز میں داخلہ کی اجازت نہ ہے. نیز بغیر رجسٹریشن داخلہ سے حاصل کی گئی ڈگری غیر قانونی ہے. اس سلسلے میں زیر دستخطی ضلع رحیم یار خان کے تمام پرائیویٹ کالجز کو پہلے ہی بی. ایس کلاسز میں غیر قانونی داخلہ جات کو فوری طور پر بند کرنے کا مراسلہ جاری کر چکی ہے. لہذا عوام الناس سے التماس ہے کہ کالجز کی سطح پر اپنے بچوں کو بی. ایس پروگرامز میں داخلہ دلوانے سے پہلے ان کی قانونی حیثیت سے متعلق دفتر ہذا سے معلومات ضرور حاصل کر لیں. بصورت دیگر یہ دفترذمہ دار نہ ہوگا.
محترم قارئین کرام اس لیٹر کی کاپیاں ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان، ڈائریکٹر کالجز بہاول پور ڈویژن، متعلقہ پرنسپلز اور عوام الناس کو بھجوائی جا چکی ہیں.اب آپ بتائیں اس سارے عمل کو کیا نام دیا جائے. یہ کتنا بڑا المیہ ہے. غیر ذمہ داری، لاپراوہی اور بے حسی اس سے بھی کئی گناہ زیادہ ہے.خود یہ مراسلہ کتنی بڑی ڈرامے بازی اور تماشہ ہے. کیا متعلقہ ذمہ داران یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ عوام الناس کو اس لیٹر کے ذریعے آگاہ کرکے وہ اپنا فرض اور ذمہ داری پوری کر چکے ہیں. کیا وہ قومی خزانے سے ہر ماہ اسی اطلاع یا اعلان کے پیسے لیتے ہیں. کوئی تو بتائے کہ غیر قانونی داخلے کرنے والے اداروں کے مالکان اور پرنسپلز کو پکڑنا، ان کے خلاف کیس درج کروانا اور انہیں جیل بھیجوانا کس کی ذمہ داری بنتی ہے. بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والوں کے ساتھ اتنی رعایت کیوں برتی جا رہی ہے. کون تعلیم کے تاجروں اور سوداگروں کے خلاف کاروائی کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے.ملک اور صوبے میں مختلف اوقات میں پہلے بھی بہت سارے ایسے تعلیمی ٹھیکیداروں نے ہزاروں بچوں کے مستقبل تباہ کیے ہیں. جن پبلک اور پرائیویٹ اداروں نے اجازت نہ ہونے کے باوجود بی. ایس پروگرامز میں داخلوں کی غیر قانونی پبلیسٹی کرکے بچوں اور ان کے والدین کو ورغلایا ہے ان سب کے خلاف فوری طور پر قانونی کاروائی کی جائے.ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے کام ملی بھگت ہی ہوتے اور چلتے ہیں. مذکورہ بالا مراسلہ میری نظر میں عوام کے واویلے کے بعد اپنی جان چھڑوانے کے لیے جاری کیا گیا ہے. بلکہ میرا تو خیال یہ ہے کہ ابھی تک غیر قانونی کا م کرنے والے کے خلاف قانونی کاروائی نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرکے انہیں نااہل اور غیر ذمہ دار قرار دے کر عہدوں سے فارغ کیا جائے. اصلاح اور آئندہ بچا¶ کے لیے یہ بہت ضروری ہے. میں امید کرتا ہوں کہ میرے ضلع کا کپتان ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان علی شہزاد اپنے اختیارات کو استعمال میں لانے کے ساتھ ساتھ اس بارے حکام بالا کو بھی تحریری طور پر آگاہ کرکے سرکاری، پبلک اور پرائیویٹ تمام کالی بھیڑوں کے خلاف ایکشن کروائیں گے. حکمران شعبہ تعلیم میں موجود ایسے تاجرانہ سوچ کے حامل مالکان اور مافیاز کے ساتھ سختی سے نمٹیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو.