Buy website traffic cheap

طلاق

معاشرے میں طلاق کی بڑھتی شرح

تماشہ بھی نہیں ہوتا۔ کھیل بھی نہیں ہوتا
شادی کا بندھن
جوا بھی نہیں، قسمت کی بازی بھی نہیں اور نصیب کا دھوکا بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی ایک خوشنما بندھن ہے جس میں نفرت کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن وسوسے اور شک کی گنجائش سب سے زیادہ ہوتی ہے
جب رشتوں میں مزید ساتھ چلنے کی سکت نہ رہے تو ایک ناپسندیدہ فعل ہی سہی طلاق کو اپنا لینا ہی مستحسن ہے
وہ شخص آپ کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو اپنا معیار تھوڑا سا کم کر لیں یا دوسرے کو اپنے معیار تک لے آئیں۔ یہ بھی نہیں ہوسکتا تو دوسرے کو اپنے جیسا انسان سمجھ کر دل سے اپنا لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمارہ کنول
شادی کا بندھن تماشہ نہیں ہوتا۔ کھیل بھی نہیں ہوتا,جوا بھی نہیں اور قسمت کی بازی بھی نہیں نصیب کا دھوکا بھی نہیں۔ یہ آپ کی نیت اور اعمال کا مظہر ہے۔ آج کل پسند کی شادی کا رواج ہے اور اسی لیے طلاق کا ریشو بڑھ گیا ہے،پہلے دور میں طلاق نہیں ہوتی تھی یہ تاثر قطعاً غلط ہے۔ پہلے بھی طلاقیں ہوا کرتی تھیں مگران کا تذکرہ معیوب سمجھا جاتا تھا۔ بعض کیسز میں تو عورت کے پہلے بچے چھپا کر اس کی دوسری شادی بھی کر دی جاتی تھی۔
طلاق ایک ناپسندیدہ مانا،جانے والا عمل ہے۔شادی ایک خوشنما بندھن ہے جس میں نفرت کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن وسوسے اور شک کی گنجائش سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
بڑھتی زمہ داریوں کی وجہ سے یہ رشتہ تناؤ کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ ایک لڑکی اپنے گھر سے الگ ایک دوسرے ماحول میں جاتی ہے جہاں انجان اور اس کے مزاج سے یکسر لوگ اسے کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اب اس اگنی پرکھشا سے جو کامیاب ہو جائے وہ سہاگن ورنہ اپھاگن۔
ذمہ داریوں کے علاؤہ جو مشکل مرحلہ درپیش ہوتا ہے وہ اپنے آپ تک اس بندے کو رسائی دینا ہے جو کل تک آپ کے لیے مکمل اجنبی تھا۔ یہاں دونوں میں سے ایک تو قبول کر جاتا ہے جبکہ دوسرے کے لیے اپنی مکمل رسائی فراہم کرنا ایک ناگوار اور مصلحت پسند عمل لگتا ہے۔ اس صورت حال میں جہاں رشتے کی نزاکت کہتی ہے کہ ایک دوسرے کو مکمل سمجھو اور ایک دوسرے کو ہر رسائی دو۔ وہاں میں کیوں اور صرف میری ذات، یا خود غرضی کا عنصر رشتے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مسلسل قربانی دئیے جانے والے دوسرے فرد کو پہلے کی حاکمیت اور خود پسندانہ فطرت و طبیعت سے گزارا مشکل ہونے لگتا ہے اور نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات۔۔ طلاق۔۔
کبھی آپ نے کسی جاب پر ایسے شخص کو تعینات دیکھا جو اس کے اہل نا تھا۔ بے فکر رہیئے میں وزیراعظم کی بات نہیں کر رہی میں بات کر رہی ہوں ان بے جوڑ شادیوں کی جن میں عمر، رتبے، قابلیت، شخصیت، یا خاندانی مطابقت میں واضح فرق ہوتا ہے۔ ایسا جوڑ چاہے محبت کے گلیو سے جوڑا جائے چاہے خاندانی دباؤ کی ایلفی سے،ہر دو کا نتیجہ طلاق کی صورت منتج۔۔معزز خاندانوں میں ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے ٹیبل ٹاک۔ جس میں بدنامی، مار پیٹ اور تماشے کی بجائے سکون سے بیٹھ کر فریقین یعنی میاں بیوی یا پھر خاندان کے چند بڑے آرام سے فیصلہ کر لیتے ہیں اسی میں خلع،حق مہر،جہیز وغیرہ کے معاملات بھی طے کر لیے جاتے ہیں اور بات عدالتی نظام اور بدنامی کی بجائے ایک چائے کے کپ پر مختتم ہو جاتی ہے۔
جب رشتوں میں مزید ساتھ چلنے کی سکت نہ رہے تو ایک ناپسندیدہ فعل ہی سہی طلاق کو اپنا لینا ہی مستحسن ہے کوشش یہ ہونی چاہئیے کہ جہاں دل نا ہو جہاں من راضی نا ہو شادی نا کریں۔ رشتے داروں کو اکٹھا کر کہ پائی پائی جوڑ کہ ایک غریب اپنی بیٹی رخصت کرتا ہے جسے یہ کہہ کر مسترد کر دینا کہ میں تو فلاں سے محبت کرتا تھا تم اتنی خوبصورت نہیں ہو، ویسی نہیں ہو،غلط ہے،، اتنی سہولیات نا سہی آپ کی توجہ اور پیار کے دو چار الفاظ اسے اس سے بھی زیادہ خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ وہ شخص آپ کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو اپنا معیار تھوڑا سا کم کر لیں یا دوسرے کو اپنے معیار تک لے آئیں۔ یہ بھی نہیں ہوسکتا تو دوسرے کو اپنے جیسا انسان سمجھ کر دل سے اپنا لیں۔ یقین مانیے آپ کے شریک حیات جیسا آپ کو دنیا میں کوئی نہیں ملے گا۔
پھر بھی اگر بدنیتی اور بداعتمادی ہے تو راستہ الگ کر لیجئے مگر مار پیٹ اور بدنامی کیے بغیر۔۔۔ کیونکہ وقت تو بدل جاتا ہے مگرانسان کے ڈسے لوگ پھر نا جی پاتے ہیں نا بدل پاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میاں بیوی کے نا خوش گوار حالات
ابتدائی حل طلاق نہیں، اختلاف کے اسباب ڈھونڈنا اور اُسکے روکنا ہے
زین الاسلام قاسمی
ماقبل میں یہ بات وضاحت کے ساتھ آچکی ہے کہ نکاح ایک دائمی رشتہ کا نام ہے، اسلام کا اصل منشأ اس رشتہ کو باقی اور قائم رکھنا ہے؛ اسی لیے بلاضرورت اس رشتہ کو توڑنے کی سخت مذمت بیان کی جاچکی ہے؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بسا اوقات میاں بیوی کے درمیان حالات خوش گوار نہیں رہتے، آپسی نا اتفاقیاں پیدا ہوجاتی ہیں، دونوں میں نبھاو مشکل ہوتا ہے، ایسی صورت میں بھی اِسلام نے جذبات سے مغلوب ہوکر جلد بازی میں فوراً ہی اس پاکیزہ رشتہ کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی؛ بلکہ میاں بیوی دونوں کو مکلف بنایاکہ وہ حتیٰ الامکان اس بندھن کو ٹوٹنے سے بچائیں؛ چنانچہ عورت کی طرف سے نافرمانی کی صورت میں مردوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے:
سورۃ النساء میں آپسی خلفشار اور انتشار کو ختم کرنے کے تین طریقے بیان کیے ہیں:
(۱) اگر عورت کی نافرمانی کا خطرہ ہو، تو حکمت اور نرمی کے ساتھ پہلے اُس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے۔
(۲) اگر سمجھانا موثر نہ ہو، تو عارضی طور پر اُس کا بستر الگ کر دیا جائے۔
(۳) اگر دوسری صورت بھی مفید ثابت نہ ہو اور عورت اپنی عادت پر قائم رہے، تو کچھ زجر و توبیخ اور ہلکے درجہ کی سرزنش سے کام لیا جائے۔
اور مردوں کی طرف سے کسی قسم کی بد سلوکی کے وقت عورتوں کو یہ ہدایت ہے:
ترجمہ: ”کسی عورت کو اگر اپنے شوہر کی بد سلوکی سے ڈر یا اُس کی بے اعتنائی سے شکایت ہو، تو میاں بیوی کے لیے اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ آپس میں ایک خاص طور پر صلح کر لیں“(سورۃ النساء)
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں یعنی عورت اگر ایسے شوہر کے پاس رہنا چاہے جو پورے حقوق ادا کرنا نہیں چاہتا اور اس لیے اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تو عورت کو جائز ہے کہ اپنے کچھ حقوق چھوڑدے، مثلاً نان ونفقہ معاف کردے یا مقدار کم کردے؛ تاکہ وہ چھوڑے نہیں اور شوہر کو بھی جائز ہے کہ اس معافی کو قبول کرلے۔
اگر اس سے بھی معاملہ حل نہ ہو اور خدانخواستہ آپس کے تعلقات بہت ہی خراب ہوجائیں، پھر بھی شریعت نے رشتہ? نکاح کو توڑنے کی اجازت نہیں دی؛ بلکہ یہ حکم دیا کہ میاں بیوی دونوں اپنی طرف سے ایک ایک ایسا حَکَم (پنچ) اور ثالث مقرر کر لیں،جو مخلص اور خیر خواہ ہوں، جن کا مقصد اختلاف کو ختم کرانا ہو؛اس لیے دونوں حَکَم پوری ایمان داری اور انصاف کے ساتھ اختلاف کا جائزہ لیں اور دونوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں۔ ارشاد باری ہے: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوا حَکَمًا مِنْ أَہْلِہِ وَحَکَمًا مِنْ أَہْلِہَا۔ (النساء)
مذکورہ تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ میاں بیوی کے درمیان نا اتفاقی اور نا خوش گوار حالات کے مسئلہ کا ابتدائی حل طلاق دینا نہیں ہے؛ بلکہ اختلاف کے اسباب کو تلاش کر کے اُس پر روک لگانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔