Buy website traffic cheap


میلانیا نے صدر ٹرمپ سے طلاق لینے کا فیصلہ کر لیا ،برطانوی اخبار کا دعویٰ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ میلانیا ٹرمپ نے صدر ڈونلڈٹرمپ سے طلاق لینے کا فیصلہ کر لیا ہے ،تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے معروف اخبار دی انڈیپیڈنٹ میں شاہ ہونے والی رپورٹس میں دعوی کیاگ یا ہے کہ امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے اپنے شوہر ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ ازدواجی سفر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ میلانیا ٹرمپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کے عہدے سے علیحدگی کا انتظار کررہی ہیں اور ٹرمپ کے عہدے سے الگ ہوتے ہیں وہ طلاق کیلئے عدالت سے رجوع کریں گی ۔ میلانیا نے یہ فیصلہ 4 سال سے جاری کشیدہ ازدواجی تعلقات کے بعد کیا ہے جس کے دوران جوڑے نے اپنے کمرے الگ کرلیے تھے۔

رپورٹ میں وائٹ ہاوس کی سابق ملازمہ اور میلانیا ٹرمپ کے قریب رہنے والی خاتون اوماروسا کے تازہ بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ خاتون اوّل صدر سے طلاق لینے پر غور کر رہی ہیں۔

اس سے قبل میلانیا ٹرمپ کی پہلی سیکریٹری صحافی و مصنفہ اسٹیفی ونسن وولکوف نے اپنی کتاب ” دی رائز اینڈ فال آف مائے فرینڈشپ ود فرسٹ لیڈی“ میں بھی انکشاف کیا تھا کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاو?س میں دو خواتین اوّل میلانیا اور ایوانکا کے درمیان پھنس گئے ہیں۔

عمومی طور پر بھی یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ صدر ٹرمپ کا جھکاﺅپہلی بیوی ماڈل ایوانا ٹرمپ سے ہونے والی بیٹی ایوانکا کی جانب ہے اور کار مملکت میں بھی صدر اپنی بیٹی اور داماد کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور دونوں کو سرکاری عہدے بھی تفویض کیے ہیں جس پر میلانیا ناراض رہتی ہیں۔

میلانیا اور ٹرمپ کی شادی 2005 میں ہوئی تھی تاہم دونوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کو پہلی بار گزشتہ صدارتی مہم کے درمیان محسوس کیا گیا تھا جب میلانیا اپنے شوہر کی انتخابی مہم کے لیے زیادہ پرجوش و سرگرم نہیں تھیں۔امریکی میڈیا میں اس حوالے سے کئی رپورٹس شائع ہوچکی ہیں جس میں صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے درمیان کشیدہ تعلقات کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ ٹرمپ کی پہلی بیوی سے بیٹی ایوانکا کو سمجھا جاتا ہے۔