Buy website traffic cheap


گھریلو ناچاقیاں

تحریر:افضال احمد
زندگی مصائب اور پریشانیوں سے جڑی ہوئی کہانی ہے کبھی یہی زندگی خوشیوں کا پیغام لاتی ہے اور کبھی پریشانیوں کا پیغام لے کر جلوہ گر ہوتی ہے۔ اب زندگی تو زندگی ہے خدا جانے کس کے کتنے سانس لکھے ہیں کتنے لقمے لکھے ہیں اور کس موڑ پر موت آکر ہمیں جھپٹ لے گی۔ میری نظر سے ایک کہانی گزری جو میں آپ سب کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور اس کہانی میں ہمارے معاشرے کے ایسے المئے کو ظاہر کیا گیا ہے کہ جہاں والدین اپنی بچیوں کو بے تحاشہ جہیز دے کر رخصت تو کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان بیٹیوں کی زندگی سسرال کے ہاتھوں عذاب بنی رہتی ہے چلیں سچی داستان ملاحظہ فرمائیں پھر میں اپنی بات عرض کروں گا۔
نسرین اپنے والدین اور پانچ بھائیوں کی سب سے چھوٹی‘ لاڈلی اور اکلوتی بہن تھی۔ نسرین کی پرورش گھر والوں نے بڑے ناز و نعم سے کی نسرین کی پرورش میں کوئی کسر نہ رکھی ہر طرح کا پیار دیا پھر ایک دن آیا جس دن کا انتظار والدین کو زیادہ ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کندھوں کا بوجھ کسی نہ کسی طرح اُتر جائے پھر خوشیوں بھری بارات آئی۔ اس دن پانچوں بہن بھائی پھوٹ پھوٹ کر روئے اور اپنی بہن کو لاکھوں دعاﺅں اور بہت زیادہ جہیز کے ساتھ رخصت کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ہماری اکلوتی بہن کو تکلیف یا کسی طعنے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بیٹی کو رخصت کرنا گھر سے ایک زندہ جنازہ نکالنے کے مترادف ہوتا ہے۔خیر نسرین نے اپنے میاں سکندر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنا شروع کر دی‘ سکندر کی تین بہنیں تھیں تینوں بہنیں بال بچے دار تھیں۔ پھر بھی گھریلو معاملات میں زیادہ اثر و رسوخ انہی بہنوں کا تھا۔ سکندر بھی ان تینوں بہنوں کا اکلوتا اور سوتیلا بھائی تھا۔ زندگی کی گاڑی بخیر و خوبی چلتی رہی۔ شادی کو دس سال گزر گئے نسرین کے ہاں کوئی امید بھر نہ آئی۔ پریشانیوں اور طعنوں کی بارش شروع ہو گئی ہر وقت مایوس رہنا نسرین کے لئے بڑے دکھ سے کم نہ تھا۔
سکندر کی دو بہنوں کی شادی نسرین کے بھائیوں سے ہوئی تھی سکندر کی دونوں بہنیں کسی نہ کسی طریقے سے اپنا حق جتانے کی کوشش کرتیں۔ کبھی بھائی سے اپنا حصہ مانگ کر تنگ کرتیں اور کبھی سکند رکنئی شادی کا مشورہ دیتیں۔ اس طرح نسرین کی زندگی دن بدن عذاب بنتی گئی۔ ان لگے زخموں کا ذکر نسرین کسی سے نہ کرتی اپنی ہی دنیا میں مست رہتی اور دل ہی دل میں کڑھتی رہتی۔ شادی کے پندرہ سال گزر جانے کے بعد امید کی کرن نظر آئی۔ خوشیوں کا سویرا بھی ظاہر ہوا آخر کار نسرین کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس نے وقتی پریشانیوں کو دور کیا لیکن آنے والی پریشانیوں کو کون جان سکتا ہے۔ سکندر کا رویہ اپنی بیوی نسرین کے غیر ذمہ دارانہ تھا وہ ہر بات پر نسرین کو ڈانٹتا اور اسے غلام تصور کرتا۔
نسرین کی عادت ہر کسی سے مختلف تھی وہ دوسروں کے سامنے ہنس کر اپنے دکھ مٹاتی تھی ہر وقت ہنسنا نسرین کی عادت تھی ظاہری طور پر خوش باش نظرآتی تھی کہ جیسے اسے کسی سے کوئی شکایت نہ ہو۔ نسرین کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے اور چار بیٹیوں سے نوازا، وہی نسرین جو اولاد کے لئے ترستی تھی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کی بارش کر دی لیکن سکندر اور اس کی بہنوں کا وار کسی نہ کسی طرح سے ضرور نسرین پر ہوتا کسی نہ کسی بہانے سے اسے ذہنی کوفت میں مبتلا کیا جاتا۔ آخر کار نسرین ذہنی مرض کا شکار ہو گئی بے خبری اور مایوسیوں نے نسرین جیسی بہادر خاتون کو گھیرنا شروع کر دیا۔ ہر وقت کھوئے کھوئے رہنا نسرین کے لئے اب نئی بات تھی وہ اپنی زندگی پر لگنے والے زخموں کو دل میں جمع کرتی رہتی وہ اپنے دل کا غبار کسی سے نہ نکالتی شاید نسرین کے ذہنی مرض کی اصل وجہ بھی یہی تھی کہ اس کے دل کی بات سننے والا کوئی نہ تھا۔
ذہنی مرض میں دن بدن اضافہ ہوتا چلاگیا۔ مختلف ہسپتالوں کے نفسیات کے وارڈ میں علاج بھی کروایا گیا لیکن افاقہ نہ ہو سکا جس طرح درد سر بننے والے اصل مسئلے کو حل نہ کیا جائے تو سر درد کی کئی ادویات کھانے سے کچھ افاقہ نہیں ہوتا جب تک سردرد کے اصل عناصر کو درست نہ کیا جائے۔ اب سکندر اور اس کی بہنوں کی ذہنی کوفتوں میں مبتلا کرنے کا ایک اور بہانہ مل گیا ایک طرف نسرین کی یہ خواہش تھی کہ اس کے بھائیوں کا گھر آباد رہے اور وہ ان کوفتوں کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہیں کرنا چاہتی تھی۔ کبھی کبھار بھائیوں کو اس بات کا علم ہوتا تو تھوڑے سے جھگڑے کے بعد معاملہ جوں کا توں رہتا۔
ایک طرف نسرین کے بھائیوں میں بھی کمزوری نظر آتی کہ وہ اپنی بیگمات کو سمجھانے میں کیوں قاصر رہے؟ نسرین کو اس ذہنی مرض نے اسے بالکل تنہا کر دیا وہ ہر وقت بے چین رہتی تھی۔ ایک سکندر تھا جو ظاہری طور پر اپنی بیوی سے محبت کی اداکاری کرتا تھا۔ جب نسرین پر اس بیماری کا حملہ ہوتا تو اسے دنیا کی تمام رنگینیوں سے نفرت ہو جاتی یہاں تک اسے اپنی دو سالہ بچی کا بھی علم نہ ہوتا۔ وہ دنیا سے دور بھاگتی اور الجھی الجھی باتیں کرتی۔ نسرین کی والدہ اس کی عیادت کے لئے ہمہ وقت سات رہتی اور اسے سمجھاتی لیکن پتہ نہیں کون سی طاقت تھی جو اسے اپنے دل کی بات اپنی والدہ سے بھی کرنے سے روکتی تھی۔ نسرین کا ذہنی مرض ٹھیک ہونے کی بجائے بگڑ رہا تھا کوئی احساس مروت بھی کسی گوشے سے سامنے نہیں آیا۔
ڈاکٹروں نے نسرین کی حالت دیکھتے ہوئے اس کے میاں سے یہی تلقین کی کہ اس طرح کے مریضوں کو محبت، وفا، اپنائیت اور انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن سکندر اور اس کی بہنوں نے نسرین کی بیماری کو صرف معمولی قرار نہیں دیا بلکہ مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی بھی کوشش کی۔ کسی طرف سے بھی کوئی قابل تحسین کوشش سامنے نہ آسکی ایک دن نسرین کا میاں اپنے کاروبار کے سلسلے میں گھر سے باہر تھا گھر میں صرف نسرین اور اس کی والدہ تھیں۔ نسرین پر بیماری کا حملہ ہوا تو اسے کوئی چیز اچھی نہ لگ رہی تھی۔ وہ زندگی سے بیزار ہو چکی تھی پھر کیا ہوا کہ نسرین نے موت کو اپنے گلے لگا لیا فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا لیکن مرض بڑھ چکا تھا ہسپتال میں ایک رات گزارنے کے بعد نسرین اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئی۔ والدین کو آنسوﺅں میں مبتلا کر گئی ۔ نسرین بوڑھی ماں آج بھی اس کی یاد میں آنسو بہاتی ہے اور نسرین کی نندوں کے ہاں آج تک اولاد ایب نارمل پیدا ہو رہی ہے کچھ معذور پیدا ہوتے ہیں اور کچھ پاگل پیدا ہوتے ہیں۔
اب اس داستان میں بہت کچھ چھپا ہے اہل دل اس کو جان سکیں گے۔ نسرین چاہتی تو اپنی نندوں کا گھر ایک منٹ میں خراب کر سکتی تھی کیوں کہ وٹے سٹے کی شادیاں تھیں سب‘ لیکن نسرین بہت اچھی خاتون تھی۔ آج کل کے دور میں نسرین جیسی خاتون ملنا بہت مشکل ہے۔ میرے ایک عزیز ہیں انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی طے کی اور بیٹے کو روز سمجھاتے کہ اپنی بیوی کو پاﺅں کی جوتی بنا کر رکھنا ‘ بیوی کی کبھی بات مت ماننا جتنا ظلم کر سکو اپنی بیوی پر کرنا اور اپنی بہنوں سے زیادہ کبھی بیوی کو اہمیت نہ دینا تو جہاں اس لڑکے کی شادی ہو رہی تھی وہ بہت کی پاکیزہ عورت تھی‘ حسین اخلاق کوٹ کوٹ کر بھری تھی اس خاتون میں‘ خدا کی نظر میں اُس عورت کا بہت بڑا مقام تھا تو خدا کا کرنا کچھ ایسا ہوا کہ شادی سے ایک دن پہلے وہ لڑکا فوت ہو گیا مہندی کا دن تھا شادی کے گھر میں کہرام مچ گیا دلہا کی موت ہو گئی۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اُس لڑکی کا خدا کے ہاں بہت اعلیٰ مقام تھا خدا نے اُسے ان سب کے ظلم سے بچایا۔ ہم آئے روز اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ شادی کے گھر میں موت ہو گئی یا تو دلہا فوت ہو جاتا ہے یا دلہن فوت ہو جاتی ہے خوشیوں کے گھر میں گہرام مچ جاتا ہے۔ دیکھیں موت کبھی بتا کر نہیں آتی ہمیں سب کو اپنی خوشیوں میں سب کو شریک کرنا چاہئے اور اپنی سوچ کو اچھا رکھنا چاہئے۔