Buy website traffic cheap


دوستی کا پیغام۔۔۔!

دریا خان
کہتے ہیں کہ اےک دوست نے دوست سے پوچھا کہ دوست کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ دوست نے مسکرا کر بتاےا کہ پاگل ! ایک دوست ہی تو ہے جس کا کوئی مطلب نہیں ہوتا اور جہاں مطلب ہو وہاں دوست نہیں ہوتا۔دوستی اخلاص اور پاکیزہ رشتے کا نام ہے۔دوستی مقدس ، لازوال اور اےک ناےاب رشتہ ہے ۔دوستی دو افراد میں ہوسکتی ہے اور دو ممالک کے درمےان بھی ہوسکتی ہے۔پاکستان اور چےن کے درمیان دوستی کوہ ہمالیہ سے بلند اوربحےرہ عرب سے گہری ہے۔پاک چےن دوستی اتنی پائےدار اور مضبوط ہوچکی ہے کہ اب وہ اےک ضرب المثل بن چکی ہے۔ پاک چےن دوستی پر نہ صرف حکمران بلکہ عوام بھی فخر و ناز کرتی ہے۔چےن نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنےا میں تجارت اور امن کے فروغ کےلئے کوشاں ہے۔ امید ہے کہ پاک چےن تعلقات اور دوستی کی طرح پاک چےن افغانستان کے تعلقات اور دوستی سے ےہ علاقہ جدل کی بجائے امن اور تجارت کامرکز بن جائے گا۔ دوستی کے بارے میںحضرت علی ؓ سے منسوب اقوال ہیںکہ ©”صرف دو لوگ مقدر والے ہوتے ہیں ،اےک وہ جہنےں وفادار دوست ملتا ہے اور دوسرا وہ جن کے ساتھ ماں کی دعائےں ہوتی ہیں۔” اچھا دوست ہاتھ اور آنکھ کی طرح ہوتا ہے جب ہاتھ کو درد ہوتا ہے تو آنکھ روتی ہے اور جب آنکھ روتی ہے تو ہاتھ آنسو صاف کرتا ہے۔”حضرت علیؓ نے اےک اور موقع پر فرماےا کہ “اپنے دوست کے دشمن سے دوستی مت کرو۔اےسا کرنے سے تم اپنے دوست کے دشمن بن جاﺅ گے۔”دنےا کا امےر شخص وہ ہے جس کے دوست مخلص ہوں۔©” پاکستان اےک خوش نصےب ملک ہے جس کا چےن جےسا مخلص دوست ہے جو ہر موقع پر ساتھ دےتا ہے۔چےن افغانستان کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات مزےد بہتر کرنا چاہتا ہے۔پاکستان اور افعانستان کے درمیان کشےدگی کے کئی ادوار رہے ہیں۔ 1947 ء میں افغانستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف ووٹ دےا تھا ۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سمےت مختلف تنازعات رہے لیکن اب دھےر دھےرے حالات تبدےل ہورہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان خلیج کم ہورہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان تعلقات میں خوشگوار تبدےلی آرہی ہے جس سے پاکستان اور افغانستان اےک دوسرے کے مزےدقرےب ہوجائےں گے۔اس پیش رفت میں وزےراعظم پاکستان عمران خان اور پاک آرمی کے سپہ سالار قمر جاوےد باجوہ کا اہم اور کلیدی کردار ہے۔ افغانستان کی مفاہمتی کونسل کے چےئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کا دورہ کیا اورانھوں نے اس کے موقع پر کہا کہ”افغان عوام کی طرف سے گرمجوشی اور دوستی کا پیغام لایا ہوں،ہم خود مختار افغانستان چاہتے ہیں جس میںکوئی دہشت گردنہ ہو جو ہمارے ہمسائےوں کو نقصان پہنچائے۔افغانستان میں دہشت گردوں کے قدموں کے نشان نہیں چاہتے اور نہ ہی اپنی سر زمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دےں گے۔ پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردتنظےموں کی تخرےبی سرگرمےوں کا سامنا کرکے بھاری قےمت ادا کی۔دونوں ممالک کو کورونا، معےشت، دہشت گردی اور مختلف چےلنجوں کا سامنا ہے۔قےام امن کے لئے پاکستان کے اہم کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔کابل اور اسلام آباد کو تمام معاملات میں اےک دوسرے کو معاونت فراہم کرنا ہوگی، ےہ باہمی تعلقات میں گرم جوشی کا نےا دور ہے ، دونوں ممالک میں اچھے دور کا آغاز ہوا ہے ،جس سے موقع ضائع کئے بغےر فائدہ اٹھانا ہوگا۔” افغانستان کی مفاہمتی کونسل کے چےئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا ےہ دورہ پاکستان اور بےان مثبت ہے۔اسلام آباد اور کابل کو تمام معاملات میں اےک دوسرے کو معاونت فراہم کرنی چاہیے۔پاکستان نے طالبان اور امرےکہ کے درمےان پل کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے امرےکہ اور طالبان کو اےک مےز پر بےٹھاےا اور ان کے آپس میں معاملات حل کروائے۔پاکستان نے امرےکہ اور طالبان کے درمےان معاہدہ کراےا ۔امرےکہ اس مثبت رول ادا کرنے پرپاکستان سے خوش ہے ۔ امرےکہ طوےل جنگ سے بھی اکتا گےا ہے اور جنگوں سے معےشت تباہ ہوجاتی ہے۔جنگوں سے ترقی اور خوشحالی کا راستہ بند ہوجاتا ہے ۔طالبان اور افغان حکومت کے درمےان معاملات حل ہونے چاہےیں اور اس پر کام ہورہا ہے۔افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بہت سے معاملات حل ہوگئے ہیں اور مزےد کے لئے پیشرفت جاری ہے۔پاکستان تقرےباً چالیس سالوں سے چالیس لاکھ افغان مہاجرےن کی میزبانی کررہا ہے اور اس سے افغان مہاجرےن بے حد خوش ہیں۔افغان مہاجرےن پاکستان سے اپنے ملک اور وطن کی طرح محبت کرتے ہیں۔ افغان مہاجرےن نے گذشتہ چالیس سالوں میں مجموعی طور پر اچھا وقت گذارا ہے اور اچھے مہمان کا کردار ادا کیا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے بہتر اور استوار تعلقات سے امن وامان قائم ہوجائے گا۔گذشتہ چالیس سالوں میںافغانستان اور پاکستان نے بڑے غم والم دےکھے ہیں۔اس جنگ وجدل میںقےمتی جانوں کا ضیائع ہوا اوربڑی تعداد میںافراد مضروب ہوئے۔معےشت میںدونوں ممالک کا کھربوں ڈالروں کا نقصان ہوا۔واضح ہوکہ گولی مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ معاملات ٹےبل ٹاک کے ذرےعے حل ہوتے ہیں۔ افغانستان میں قےام امن سے پاکستان میں امن اور آشتی آئے گی۔پاکستان اور افغانستان کے بہتر تعلقات سے ےہ خطہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔اب اس خطے میں لڑائی جھگڑے اور دنگ و فساد کی بجائے تمام تر توجہ تجارت اور بزنس پر مرکوز کرنی چاہےے۔تجارت سے خطے میںترقی اور خوشحالی آئے گی۔ ماضی کی غلط فہمےاں کو فراموش کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہےے اور عوامی سطح پر رابطوں کے فروغ پر توجہ دےنی چاہےے۔عوامی سطح پر اس خطے کے لوگوں کے آپس میں تعلقات ہزاروں سال پر محےط ہیں۔ علاوہ ازےں پاک افغان سرحد پر دونوںا طراف میں لوگوں کے آپس میں رشتے دارےاں ہیں اور آنا جانا لگا رہتا ہے۔پاک افغان سرحد پر اےسے انتظامات ہونے چاہییں جس سے پُرامن لوگوں کو رشتہ داروں کی خوشی وغمی میں آنے جانے میںدشوارےاں نہ ہوں۔ نفرت کی بجائے محبت کا دورہ شروع ہونا چاہیے۔اب کوئی وقت ضائع کئے بغےر ترقی کا سفر شروع کرنا چاہیےے۔ پاکستان ،چےن ،افغانستان اور روس کو مل کر تجارت کے فروغ کے لئے کوشش کرنی چاہےے۔پاکستان ، چےن ، افغانستان اور روس چاروں ممالک کو آپس میںسی پیک کے ذرےعے ملنا چاہےے۔سی پیک میں روڈز ، رےل وےز ، صنعتی زونز اور دےگرتجارتی مراکز کا قےام عمل میں آسکتا ہے۔اس سے بے روزگاری اور غربت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ خوشحالی اور ترقی کا نےا دور شروع ہوسکتا ہے۔ اب ہم نے اپنے جوانوں کے ہاتھوں میں بندوق نہیں بلکہ قلم ،سائنسی، ٹےکنالوجی اور صنعتی آلات دےنے ہیں۔ ہمارا سب کےلئے گرمجوشی اور دوستی کا پےغام ہے۔ ہمارا سب کےلئے محبت اور الفت کا پےغام ہے ۔ ہاتھوں میں ہاتھ دے کر آگے بڑھنے کا عہد کرنا چاہیے۔جنگ نہیں امن،نفرت نہیں محبت ، حےوانےت نہیں انسانےت ،ناخواندگی نہیں خواندگی،بے روزگاری نہیں روزگار ، بندوق نہیں قلم ،بےماری نہیں صحت اور پسماندگی نہیں ترقی کےلئے ہم سب کو اےک ہونا چاہیے اور اجتماعی کوشش سے نئی نسل کو ترقی ےافتہ اور خوشحال خطہ دےنا چاہیے۔ الغرض امن اور آشتی ، ترقی اور خوشحالی کے لئے پاکستان اور افغانستان کے درمےان استوار تعلقات ناگزےر ہیں۔
٭٭٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالد خان کالاباغ صحافی وکالم نگار “لب درےا” 0333-6822351