Buy website traffic cheap


معصوم بچی سے جنسی تشدد۔ حکومت کو سخت اقدامات کی ضرورت

لاہور(ویب ڈیسک )جسنی درندگی کے دلخراش واقعات کے تھمنے کا نام نہیں لے رہے، ایک کے بعد ایک،سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر چُھپا دیا جائے تو بے حس، بے ضمیر ،اوباش،سنگ دل درندوں کو عبرت کا نشان کیسے بنایا جائیگا اگر چھَپا دیا جائے تو دنیا کی آنکھوں میں ہم بدتہذیب قوم کی حیثیت سے دیکھے جائیں گے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق انکشاف ہوا ہے کہ وطن عزیز میں اس وقت روزانہ نو بچے جنسی درندگی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سترہ ہزار سے زاید واقعات رپورٹ ہوئے ہیںجس میں دس ہزار کے لگ بھگ واقعات میں لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صرف وہ اعدادوشمار ہیں جو ریکارڈ کا حصہ بنے ہیں۔پُرانے زخم ابھی بھرے نہیں ایک اور زخم اس معاشرے پر لگ گیا۔ خبرکے مطابق سیالکوٹ کے علاقہ پسرور کے نواح میاں ہرپال میں درندہ صفت نوجوان نے 6 سالہ معصوم بچی ضمرفاطمہ کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ جس کے بعد سفاک ملزم عبدالرحمن ولد شبیرحسین معصوم بچی کوحالت غیر ہونے پرخون میں لت پت چھوڑ کرفرار ہو گیا۔متاثرہ بچی کی والدہ نے ملزم کے خلاف پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کروا دی ہےجس میں ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرنے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آخر ہم کب تک ایسے واقعات کا سامنا کرتے رہےں گے؟ کب تک ایسے واقعات کے سدباب کیلئے کوئی مربوط حکمت عملی طے نہیں کی جائیگی؟ کب تک ایسے واقعات کے محرکات اور وجوہات کو نظرانداز کیا جاتا رہے گا؟