Buy website traffic cheap


الٹی گنگا،آئی پی پیز سے 1 ہزار ارب لینے کے بجائے 450 ارب دینے کا معاہدہ

اسلام آباد: حکومت نے الٹی گنگا بہاتے ہوئے آئی پی پیز سے وصولی کی بجائے انہیں 450 ارب روپے کی ادائیگی کی پیش کش کردی۔قومی مفاہمت کا آرڈیننس یا این آر او متنازع قانون تھا جو اس وقت کے فوجی حکمران پرویز مشرف نے 2007ءمیں درجنوں سیاست دانوں کے خلاف مقدمات چھوڑنے کے لئے متعارف کرایاگیا۔ آج کل یہ لفظ پھر بڑا عام فہم ہے۔

وزیر اعظم نے کئی بار کہا ہے کہ وہ اپوزیشن رہنماﺅں کو این آر او نہیں دیں گے جن سے صف آرا ان کی حکومت کو سنگین سیاسی چیلینج کا سامنا ہے۔دوسری طرف پی ٹی آئی حکومت انڈی پینڈینٹ پاور پلانٹس (آئی پی پیز) کو این آر او دیتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسالگتاہے کہ ان پاور پروڈیوسروں کو موصولہ اضافی ادائیگیوں کو نظرانداز کیاجارہاہے۔

اطلاعات کے مطابق مفاہمت کی یادداشت میں مبینہ طور پر آئی پی پیز کے حق میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ بجلی کے شعبے سے متعلق انکوائری رپورٹ میں ان سے ایک ہزار ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں وصول کرنے کی سفارش کی تاہم حکومت نے الٹی گنگا بہاتے ہوئے ان سے وصولی کی بجائے ایم اویو پردستخط کئے، جس کے تحت 47 آئی پی پیز کو 450 ارب روپے کی ادائیگی کی پیش کش کی گئی ہے۔

ماہرین اور حکام کے مطابق یہ انھیں این آر او دینے کے مترادف ہے۔ تاہم اہم حکومتی عہدیدار وں نے،جو خود بھی آئی پی پیز کے مالک ہیں ،بجلی کے نرخوں میں کمی کا ڈھول پیٹنا شروع کردیاہے۔ مجوزہ نیا معاہدہ ا?ئی پی پیز کی دھوکہ دہی کی نہ مکمل نشاندہی کرتاہے بلکہ اس کے ذریعہ حاصل غیر قانونی فوائد کی بازیابی پر گرفت نہیں کرتا۔

حکومت ا?ئی پی پیز کے پرانے واجبات کی مد میں ادائیگی کے لئے 450 ارب روپے کے فنڈز کابندوبست کررہی ہے جبکہ 1994 ء کے پاور پالیسی پلانٹس سے متعلق 100 ارب روپے سے زائد ادائیگیوں کی وصولی ، ایندھن کے لئے فیول پرائس انڈیکسیکشن کی اضافی ادائیگیوں سے متعلق 40 ارب روپے ،محمد علی کی پاور سیکٹر رپورٹ میں 50 ارب روپے کے اضافی منافع کی نشاندہی ، ا?ئی پی پیز وغیرہ کے ذریعہ انوینٹری کے خلاف وصولی وغیرہ کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی والے نکات مفاہمت نامے سے غائب ہیں جبکہ کچھ شقیں آئی پی پیز کے حق میں تبدیل کی جارہی ہیں۔ ٹیکس طے شدہ قیمت کے حصے کے طور پر فرض کیا گیا تھا تاہم کچھ معاملات میں آئی پی پیز کے ذریعہ محصول پر قطع ایڈجسٹمنٹ دیے بغیر انکم ٹیکس نہیں کاٹا گیا تھا۔

پاور خریداری معاہدے (پی پی اے) کی شیڈول 6 میں کہا گیا ہے کہ کمپنی، ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں پر 4 فیصد ٹیکس حکومت کو اداکرنے کی ذمہ دارہوگی چونکہ ایڈجسٹمنٹ بروقت نہیں کی گئی لہذا ٹیکس کی رقم 40 سے 50 ملین ڈالر کی حد میں ہوگی۔