Buy website traffic cheap


حضرت علامہ مولانا قاری ظہور احمد صدیقی سیالوی ؒ

سنت رسول ﷺ کے متبع و پیروکار صالح و پرہیز گار

صاحبزادہ محمد عثمان حیدر قادری
استاذ العلماءمناظرِ اسلام حضور شیرِپنجاب حضرت علامہ مولانا قاری ظہور احمد صدیقی سیالوی رحمةاللہ علیہ علم و عرفان کے بحرِ ذخائرزہدو درع کے پیکر تقوی و طہارت کے خوگر اخلاق حسنہ کے کوہ ہمالہ سنت رسول ﷺ کے متبع و پیروکار صالح و پرہیز گار شب زندہ دار عبادت گزار اور متعدد فضائل و فواضل کے حامل انسان تھے۔ آپکی زندگی کا ایک ایک لمحہ اعلاءکلمةاللہ اشاعت شریعت مطہر ہ اور خدمت خلق خدا کے لیے وقف تھا۔خالق کائنات نے آپ کو حسین صورت اور پاکیزہ سیرت سے نوزا تھا وہ ایک ایسے عظیم شخص تھے جو مشکل ترین اور پریشان کن حالات میں بھی کبھی مایوس نہ ہوئے۔فتنو ں کی آندھیاں آپکے پائے استقامت کوڈگمگا نہ سکیں۔آپ اپنی ذات میں ایک تحریک تھے۔ ایک تنظیم تھے ایک انجمن تھے۔ ایک جماعت تھے۔ ایک ادارہ تھے۔ جو کام بڑی بڑی جماعتیں، جمیعتیں،انجمنیںاور تنظیمں نہ کر سکیں۔
آپ نے اکیلے کر دکھایا۔ پھر آپ نے ایک جہت میں نہیں بلکہ مختلف جہات میں کام کیا اور بہت سی بے شمار خوبیوں سے اللہ رب العزت نے آپکو نوازا تھا۔
ولادت: 29اکتوبر 1963بروز منگل۔ گاوں رتہ پور ریحان، تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا میں ہوئی۔
کنیت: ابولعثمان
اسم گرامی:آپ کا اسم گرامی آپ کی دادی جان رحمتہ اللہ علیہا نے ظہور احمد رکھا
والد محترم کا نام: آپ کےوالد محترم کا نام حبیب اللہ ہے جو کہ متند عالم دین، بے مثل معلم، منطق و فلسفہ کے ماہر، منفرد اسلوب کے حامل ادیب، فصاحت و بلاغت کے عالم اور شیریں بیاں خطیب تھے۔
تعلیم و تربیت: آپ نے ابتدائی تعلم اپنے والد گرامی ہی سے حاصل کی اور اپنے آبائی علاقے میں پڑھتے رہے۔ آپ نے ضلع جھنگ کے مشہو ر شہر لالیاں میں قرآن کریم حفظ کیا اور پہلا مصلہ اپنے گاوں کی مرکزی جامع مسجد والدگرامی رحمةاللہ علیہ جہاں خطیب تھے وہاں سنایا۔ پھر اس کے بعد ہر سال قرآن کریم نماز تراویح میں سنایا کرتے۔ آپ نے تقریباََ 38 مرتبہ نماز تراویح میںقرآن پاک کی تلاوت مکمل فرمائی۔ حفظ کے بعد آپ نے تجویدو قرات مکمل کی اور ساتھ ہی درس نظامی حضر ت شیخ الحدیث شارح بخاری مولانا غلام رسول رضوی رحمةاللہ علیہ کے ہاں فیصل آباد میں داخلہ لیا اور داتا حضوررحمةاللہ علیہ کے قدموں اہلسنت کی عظیم علمی و دینی روحانی درسگاہ جامعہ رسولیہ شیرازیہ بلال گنج لاہور سے باقاعدہ فراغت حاصل کی۔
اساتذہ کرام: آپ کے اساتذہ کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن جو احقر کے علم میں ہے انکے اسماءگرامی پیش خدمت ہیں۔
1۔ آپ کے والد گرامی و استاذمحترم عاشق رسول ﷺ مولانا حاجی حبیب اللہ خاں قادری چشتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ
2۔ محقق اسلام، فاتح مذاہب باطلہ، مصنف کتب کثیرہ، استاذی و استاذالعلماءحضرت علامہ محمد علی نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ(الشیخ الحدیث وبانی ادارہ جامعہ رسولیہ شیرازیہ بلال گنج لاہور)
استاذالاساتذہ حضرت علامہ مولانا بشیراحمداوکاڑوی صاحب (اطال اللہ عمرہ)فیصل آباد
پیرومرشد: پروردہ آغوش ولایت پیر طریقت رہبر شریعت حضور شیخ الاسلام و المسلمین حضرت صاحبزادہ خواجہ محمد قمرالدین سیالوی صاحب رحمةاللہ علیہ(آستانہ عالیہ سیال شریف)
خاندان: آپ کے بھائی پانچ ہیں۔
1۔ سیف الا سلام قاری سیف اللہ سیفی صاحب (لاہور)
2۔ محترم المقام مولانا ظفر اقبال صاحب (گاو?ں رتہ پور ریحان ضلع سرگودھا)
3۔ حضرت علامہ مولانا قاری عبدالرحمن جامی درانی صاحب(لاہور)
4۔ حضرت علامہ مولانا قاری عبیداللہ انور چشتی صاحب (سرگودھا)
5۔ محتر م المقام حافظ ضیاءاللہ صاحب (لاہور)
اللہ تعالی کے فضل و توفیق سے یہ سب خدمت دین متین میں دن رات کوشاں ہیں آپ کی چار ہمشیرہ ہیں۔
اولاد:آپ کے چار صاحبزادے ہیں
1پیکر اخلاص و محبت صاحبزادہ محمد عثمان حید ر قادری صاحب۔
2 َ صاحبزادہ مفتی محمد حسنین رضا صدیقی سیالوی صاحب
جنہوں نے حال ہی میں اہل سنت و جماعت کی عظیم علمی و روحانی درس گاہ جامعہ جلالیہ رضویہ مظہر الاسلام لاہور میں کنز العلماءمفکر اسلام بحرالعلوم ڈاکٹر مفتی اشرف آصف جلالی صاحب زیدمجدہ کے زیر سایہ علوم دینیہ میں فراغت حاصل کی اور آپ ہی قبلہ والد گرامی کے مسند کے وارث ہیں۔ آپ نے شرک کی حقیقت، نعمت عظمیٰ، میلاد مصطفی ﷺ کے موضوع پہ لکھی اور آپ بزم تاجدارِ ختم نبوت پاکستان کے بانی و سربراہ ہیں اور دیگر تصنیفات پہ کام جاری ہے۔
3۔ صاحبزادہ محمد اطہر فرید صدیقی صاحب۔
4۔ صاحبزادہ محمد علی صدیقی صاحب۔
اور آپکی دو صاحبزادیاں ہیں۔
تلامذہ: آپ کے تلامذ کی بہت لمبی فہرست ہے جو پوری دنیا میں دین متین کی خدمت پر کوشاں ہیں۔
دینی خدمات: مسئلہ تحفظِ ناموس رسالت ﷺ ہو یا تحریک ختم نبوت میں قربانیوں کا مرحلہ ہو تحریک نظام مصطفی ﷺ میں جانثاری کا لمحہ ہو مسلک اہل سنت کے احیاءکی بات ہو یا دین و ملت کی خدمات کی سعادت ک، ومقام مصطفی ﷺ کے تحفظ کیلیے ضرورت پڑ ے یا عقائد باطلہ کا رد ہو تو قبلہ والد گرامی رحمتہ اللہ علیہ ہر میدان میں صف اول میں شیروں کیی طرح باطچل کو للکارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے علمی و روحانی بیانات سے درجنوں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ اللہ پاک محبوب کریم ﷺکے توسل سے قبلہ والد گرامی کی ان قربانیوں کو اپن9ی پاک اور بلند بارگاہ اقدس میں قبول منظور فرمائے اور آپ کے درجات میں بلندی کا سبب بنائے۔ آمین ثم آمین
موڑکھنڈا میں آمد:
10992 میں الحاج صوفی محمد امیر علی قادری صاحب رحمةاللہ علیہ اپنے دیگر احباب کے اساتھ اہل لسنت کی عظیم علمی، دینی و روحانی درسگاہ جامعہ روسولیہ شیرازیہ بلال گنج لاہور، محقق اسلام حاجی محمد علی نقشبندی رحمة علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہمارے علاقہ موڑکھنڈا اور گردنواح میں بد عقیدگی کی وبا دن بدن تیزی سے پھیلتی جارہی ہے اس کی روک تھام کیلیے ہمیں مجاہد چاہیے جو بد عقیدہ لوگوں کے سامنے عقیدہ حق اہل سنت و جماعت قرآن و سنت کی روشنی میں واضح بیان فرمائے اور اہل علاقہ کو بد عقیدہ حضرات کے شر سے فوری بچائے۔ تاکہ اہل علاقہ قرآن وحدیث کے واضح دلائل سن کر بد عقیدگی سے محفوط رہیں۔ تو قبلہ حاجی محمد علی نقشبندی صاحب رحمةاللہ علیہ نے قبلہ والد گرامی علامہ ظہور احمد صدیقی سیالوی صاحب رحمة اللہ علیہ کی ڈیوٹی لگائی کہ آپ موڑکھنڈا میں علم حق بلند فرمائیں لیکن اس سے پہلے آپ خود موڑکھنڈا میں تشریف لائے اور مرکزی جامع مسجد بہار مدینہ المعرو ف اونچی مسجد میں جمعة المبارک کا خطبہ ارشاد فرمایا اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد والد گرامی کی یہاں ڈیوٹی لگائی اور قبلہ شیخ الحدیث حاجی محمد علی نقشبندی رحمةاللہ علیہ نے فرمایا کہ لوگو! میں آپ کو ”ہیرا” دے رہاہوں اس کی قدر کرنا۔ پھر جب قبلہ استاذوالد گرامی تشریف لائے تو بد عقیدگی پورے علاقے میں بڑی تیزی سے پھیل رہی تھی۔ پھر رفتہ رفتہ بد عقیدگی کو روکنے کیلیے اور عقیدہ اہل سنت و جماعت کے پر چم کو بلند کرنے کیلے تا حیات کوشدش کی۔ آپ نے جائیدایں اور بنک بیلنس نہیں جمع کیا بلکہ آخرعت کا سامں تیار کیا اور وہاں آپ نے مدینة العلم صدیقی سیالوی لائبریری بنائی جس میں ہزاروں دینی کتب موجود ہیں اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہی ہمارا خزانہ ہے، ورثہ ہے، جائیداد ہے اور اس خزانے سے لو گ آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔
سادات کرام سے بے پناہ محبت: قبلہ والد گرامی سادات کے جوتوں کے ساتھ لگنے والی مٹی کا بھی احترام کرتے۔ آل نبی اولاد علی واقف اسرار رموز حقیقت پیر سید باوا طاہر حسین شاہ چشتی صاحب رحمةاللہ علیہ (جوہرآباد) آپکی خدمت میں اکثر پیش پیش ہوتے۔ قطب الا قطاب سیدی و مرشدی پیر سید دولت حسین شاہ قادری اطال اللہ عمرہ (آستانہ عالیہ قادریہ نیو داڑی شریف ہری پور ہزارہ خیبر پختونخواہ)
آپ کے ہاں آئے دن آتے جاتے رہتے تھے۔اکثر اوقات آپ یہ شعر بھی پڑھتے اور پڑھتے وقت آپ کے آنسو جاری ہو جاتے:
الہی بحق بنی فاطمہ کہ بر قول ایماں کنی خاتمہ
اگر دعوتم رد کنی ور قبول من و دست ودامان آل رسول
وصال:قبلہ والد گرامی کا وصال باکمال 22 اکتوبر 2011 بروز ہفتہ وقت عصر تقریباََ ساڑھے چار بجے مختصر علالت کے بعد ہوا۔
جنازہ: آپ کا جسد خاکی کو نماز جنازہ کی ادائیگی کیلے غلہ منڈی لایا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ امامت جانشین محقق اسلام شیخ الحدیث صاحبزادہ مفتی محمد رضائے مصطفے نقشبندی صاحب نے فرمائی۔ میں بھی وہاں موجود تھا باوجود ضبط کے زار و قطار و رہا تھا یوں لگا ساری کائنات غمگین و افسردہ ہے۔
تدفین: قبلہ والد گرامی کی تدفین کے وقت آپ کے شاگرد رشید، میرے بہت ہی پیارے دوست فیض یاب حضور شیر پنجاب حافظ محمد ارشد سیالوی نے نعت شریف پڑھا۔اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے قبرستان میں خوشبو پھیل گئی جس کو تمام لوگوں نے محسوس کیا او رپھر آخر میں استاذالقراءقاری برخوردار سدیدی صاحب نے دیا فرمائی۔