کپاس کی خرید وفروخت بذریعہ ہیج ٹریڈنگ

پاکستان دنیا کے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں انڈیا،چین اور امریکہ کے بعد چوتھے نمبر پر تھا مگر اب برازیل نے یہ جگہ لے لی ہے اور اس طرح پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر آگیا ہے۔ کپاس نہ صرف ہمارے ملک کی 450کپڑا سازی کی صنعت اور1300کاٹن فیکٹریوں کو خام مال مہیا کرتی ہے بلکہ اس سے نکلنے والے تیل سے ملکی کھانے کے تیل کی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں جبکہ کھل جانوروں کی خوارک کا حصہ بن جاتی ہے۔کپاس کے پودے کی لکڑی دیہی علاقوں میں نہ صرف ایندھن کے نعم البدل کے طوپراستعمال ہوتی ہے بلکہ اس طرح جنگلات بھی محفوظ رہتے ہیں۔کپاس کی فصل ملکی پیداوار اور غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہے اور پاکستانی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔پاکستان کے معاشی و سماجی تانے بانے میں کپاس کے اس قدر اہم کردار کے باوجود ملکی پیداوار دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔پاکستان میں گرتی ہوئی
کپاس کی پیداوار اور خصوصاً پنجاب میں اس کے زیر کاشت رقبہ میں بتدریج کمی کی ایک اہم وجہ کپاس کا دیگر فصلات کے مقابلہ میں نسبتاً کم منافع بخش واقع
ہونا ہے۔
ماہرین کے نزدیک پنجاب میں کپاس کے کاشتہ رقبہ میں بنیادی کمی کی ایک بڑی وجہ اس کی قیمت میں غیریقینی کیفیت کا پایا جانا ہے ملکی مارکیٹ میں کپاس کا ایک ہی خریدارکا موجود ہونا اس کی غیر یقینی صورتحال کا سبب ہے۔ ہمارے ہاں پھٹی کی چنائی اوراس کی مارکیٹ میں بکثرت آمد کے دنوں میں بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات سے قطع نظر مقامی انڈسٹریز واحد خریدار ہونے کا فائدہ اٹھا کرکپاس کی کم قیمت مقرر کرکے کاشتکاروں کا استحصال کر تی ہے۔ملکی پارچہ بافی مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری قائم رکھتے ہوئے کاشتکاروں سے ان کا حقیقی منافع چھین کر ہڑپ کر جاتی ہیں۔کپاس کی ویلیو چین کی درجہ بندی کی دوسری اہم اکائی جنرز ہیں مگر چونکہ جنرز بھی محدود وسائل کے ساتھ چھوٹی صنعت کے درجہ میں آتے ہیں اس لئے وہ بھی ناکافی وسائل وسہولیات کے سبب مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور اس کے رجحان میں استحکام نہیں لا سکتے۔مارکیٹ میں قیمتوں کے توازن کے لئے مقامی و غیر مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کے حوالہ سے کاشتکاروں کے اعتماد کو یقینی بنانے کے لئے ہیج ٹریڈنگ کی اصطلاح متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ہیج ٹریڈنگ سے مراد فصل کی ہارویسٹنگ سے پہلے خریدار اور فروخت کنندہ کے مابین ایک ایسا معائدہ ہے جس کے ذریعے سے پھٹی کی قیمت خریدار اور فروخت کنندہ کے مابین طے پائی جاتی ہے اور
یوں کاشتکار ایک واضح منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی فصل کی مناسب دیکھ بھال کر سکے گا۔
پاکستان کی کپاس کی معیار سے متعلق بہت سے خدشات موجود ہیں۔ کہیں زائد نمی کی بات کی جاتی ہے تو کہیں کچرا شامل ہونے کی شکایات پائی جاتی ہیں۔ کبھی وزن میں کمی تو کبھی ریشہ کی لمبائی ومضبوطی پر سوالات کھڑے کئے جاتے ہیں۔ہیج ٹریڈنگ چونکہ ایک تحریر معائدہ ہے اسی لئے اس کے معیار سے متعلق خدشات کو دور کرنا بھی اس طریقہ کار کو اپنانے سے آسان ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ معیاری طور پر جننگ کا پراسس بھی قابل قبول ہو سکے گا۔ قارئین میں سے وہ جو کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی فیوچر مارکیٹ کا تجربہ رکھتے ہیں اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اس وقت کے رائج طریقہ میں پھٹی کے معیار اور اس
کے وزن سے متعلق کبھی کوئی ایشو پیدا نہیں ہوا اور قیمت کے لحاظ سے بھی استحکام موجود تھا۔
موجودہ حالات کے پیش نظرسسٹم میں ایک اور خریدار کا ہونا نا گزیر ہے یا پھر علم اقتصادیات کے اصولوں کے پیش نظر امدادی قیمت کا تعین، واپسی خریداری کی
ضمانت یا پھر ہیج ٹریڈنگ پر عمل پیرا ہونا ہوگا تاکہ سسٹم کی خامیوں کو رفع کرکے مقامی قیمت میں استحکام لایا جاسکے۔ حکومت کو بھی اس بات کا بخوبی ادراک ہوگیا ہے اور یہ بات 2016میں اس وقت کے وزیر خزانہ نے دوران بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ حکومت کپاس کی قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے اور کاشتکاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کاٹن ہیج ٹریڈنگ کا نظام متعارف کرائے گی۔ اس نظام پر عملداری سے نہ صرف ملکی پیداواری حدف حاصل ہوگا بلکہ کاشتکاروں میں قیمت کے حوالہ سے بے یقینی کی فضاء بھی دور ہو سکے گی۔جب پھٹی پک کر تیار ہوجائے گی تو خریدار پہلے سے مجوزہ طے کردہ قیمت کے ساتھ فروخت کنندہ سے پھٹی اٹھا لے گا۔اس ٹریڈنگ سے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی کیونکہ فصل کے تیار
ہونے سے پہلے انہیں اپنی فصل کی متعین قیمت کا پتا ہوگا اس سے کپاس کے کاشتکار پیداوار کے حصول کے لئے اور زیادہ محنت کریں گے۔
مزید برآں ٹیکسٹائل پالیسی 2014-19 میں بھی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اپنے اجلاس میں ہیج ٹریڈنگ سسٹم کی منظوری دی تھی۔ہیج ٹریڈنگ دنیا کے کئی ممالک میں زرعی اجناس کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لئے رائج ہے پاکستان میں ایک عرصہ تک ہیج ٹریدنگ کے ذریعے کاروبار ہوتا رہا ہے۔ سب سے پہلے اس کاطریقہ کار کراچی کاٹن ایسوسی ایشن نے1934میں متعارف کرایا تھا۔ہیج ٹریدنگ چونکہ ایک خریدار اور فروخت کنندہ کے مابین ایک تحریری معائدہ ہے اس لئے مستقبل کی فراہمی اور طلب کو متوازن کرنے اور کپاس کی قیمتوں میں اچانک اور وقفے وقفے سے اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لئے اس طریقہ کار کوکافی اطمینان بخش سمجھا جاتا ہے۔ جس کے ذریعے سے پھٹی کی خریدو فروخت کو ایک قسم کی قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ 1934میں متعارف
کرائے گئے ہیج ٹریڈنگ کو 1957میں قانونی دستاویز کی شکل دے دی گئی جو 1975-76تک قانونی حیثیت متعارف رہی۔وزارت کامرس نے 2002 اور 2005 میں کاٹن ہیج ٹریڈنگ دوبارہ شروع کرنے کے لئے اپنی تجاویز کابینہ کو پیش کیں اور کابینہ نے اس کو منظور کیا۔
بعدازاں فیوچر مارکیٹ ایکٹ، 2016 کو نافذ کیا گیا جس کے تحت مستقبل کی ساری تجارت کو سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے زیر انتظام کر دیا گیا۔ ایکٹ کے مطابق، کوئی بھی شخص خود کو مستقبل میں آپریٹنگ فیوچر مارکیٹ کی حیثیت سے قائم کرنے یا چلانے یا معاونت نہیں کرے گا سوائے اس کے کہ جب تک اس
کمیشن کے تحت دیئے گئے مستقبل کے ایکسچینج لائسنس کے تحت اورطے کردہ شرائط کے مطابق پابند قرار نہ پائے۔
پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج لمیٹڈ (پی ایم ای ایکس) ملک کا پہلا اور واحد ادارہ ہے جو زرعی اجناس کی فیوچر خریدو فروخت میں معاونت فراہم کرتا ہے اور یہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ذریعہ لائسنس یافتہ ہے۔ اس کے پاس غیر ملکی روئی سمیت مختلف اشیا کی تجارت کا لائسنس موجود ہے لیکن مقامی کاٹن فیوچر مارکیٹ چلانے کے لئے بھی اس ادارے کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔یاد رہے ہیج ٹریڈنگ سسٹم پہلے ہی کافی ملکوں میں رائج ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔پاکستان میں اگر صحیح معنوں میں ہیج ٹریدنگ سسٹم پر توجہ دی جائے تو یقینی طور پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں
گے اور اس سے نہ صرف کسان خوشحال ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہو گا۔

######################################