Buy website traffic cheap

میراملتان،میرے خواب اور قاضی نوید ممتاز

انسان ،اسلام اور کہانی

انسان ،اسلام اور کہانی
مجیداحمد جائی
انسان نے تخلیق ہونے سے لے کر اب تک ترقی کی کئی منازل طے کر لی ہیں اور یہ سفر رُکا نہیں بلکہ جاری و ساری ہے ۔نت نئی ایجادات اِس کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔انسان آج بھی اپنے آپ کو تلاش کر رہا ہے ۔اپنی تخلیق پر ریسرچ کر رہا ہے ۔انسان قدرت کا ایک حسین کرشمہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا نائب بنا کر تخلیق کیا اور اب یہ انسان خدا سے مقابلہ کرنے لگا ہے ۔یہ بحث بہت لمبی ہو جائے گی ۔چھوڑئیے ۔
انسان ،اسلام اور کہانی کی بات کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نائب یعنی انسان کو قلم سے لکھنا سیکھایا اور یوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہونے والا علم انسانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے اِسے ترقی کی طرف گامزن رکھے ہوئے ہے ۔انسان دن بدن ان رازوں سے آشنا ہو رہا ہے ۔قلم ،جس کی قسمیںخود رب رحمان نے اپنے کلام قرآن ِمجید میں اُٹھائی ہیں ۔وہ قرآن جس کا موضوع ہی انسان ہے ۔کیا یہ قدرت کا کرشمہ حسین کرشمہ نہیں ہے ۔جس میں ہر مرض ،مسئلے اور ہر پریشانی کا حل موجود ہے سوائے موت کے ۔موت برحق ہے اور ہر جاندار کو آنی ہے ۔آخر رب رحمان کی طرف ہر کسی کو لوٹنا ہے ۔انسان آج مختلف امراض سے لڑ رہا ہے اور ان کا علاج تلاش کر رہا ہے ۔انسان نے جستجو نہیں چھوڑی ۔اگر یہ جستجو کرتا رہا تو ہر بیماری کا علاج بھی تلاش کر لے گا ۔
انسان خود کہانی ہے اور اس سے جڑی کہانیوں کی تلاش بھی کر رہا ہے ۔اس کی جستجو بھی کہانی ہے اور بیماریوں کا شکار ہو کر اس کا علاج تلاش کرنا بھی کہانی ہے ۔انسان کی تخلیق ہوئی تو کہانی نے بھی جنم لے لیا ۔کہانی بھی انسان کے ساتھ ساتھ سفر کر رہی ہے ۔جب انسان کو تخلیق کیا گیااور فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا ،کیا یہ کہانی نہیں ہے ؟
اہل ادب اور نقادین جو مرضی حوالے تلاشتے رہیں لیکن بطور مسلمان ہم قرآن مجید پہ مکمل ایمان کے ساتھ یقین رکھتے ہیں ۔قرآن مجید میں بھی واقعات کا جو ذکر ہے ، ہمارے لیے عبرت لینے کے لئے ،کہانیاں ہی تو ہیں ۔انسان کی تخلیق کہانی ،انسان کی جنت سے بے دخلی کہانی ،انسان کی توبہ کہانی ،انسان کی معافی کہانی ۔انسان کے ایک ایک پل سے کہانی جڑی ہے ۔
انسان کہانی سننا اور سنانا پسند کرتا ہے اور کون کہتا ہے کہانیاں جھوٹی ہوتی ہیں ۔ارے میرے بھائی اگرکہانی جھوٹ ہے تو پھر انسان کی تخلیق ۔۔۔۔۔؟اہل مسلم کو کسی شک وشبے میں نہیں رہنا چاہیے کہ کہانی کیسے شروع ہوئی ،کہاں سے شروع ہوئی ۔یہ قیاس آرائیاں کرنے لئے نقادین ہیں ۔وہ جو بھی قیاس کریں ،جو بھی دلائل پیش کریں قرآن مجید کو نہیں جھٹلاسکتے ۔چلیں یہ بحث بھی یہی چھوڑتے ہیں ۔
اِن دِنوں پاکستان تو کیا ،پوری دُنیا وبائی مرض ”کرونا “کی لپیٹ میں ہے ۔اللہ تعالیٰ اس سے جلد از جلد نجات عطا کرئے آمین !۔انسان ہی اس کی لپیٹ میں ہے اور انسان ہی اِس سے ان جیسی وبائی امراض سے نبردآزما رہا ہے ۔وبائی امراض ہر دُور میں پھوٹتی رہی ہیں اور ان کا علاج بھی بقدرتِ انسان نے تلاش بھی کیا ہے ۔ان دِنوں کرونا کا علاج بھی اہل علم و دانش تلاش کر رہے ہیں۔اُمید واثق ہے بہت جلد اس پہ قابو بھی پا لیا جائے گا۔فی الحال انسان ،انسان کو احتیاطی تدبیریں اختیارکرنے کو کہہ رہا ہے ۔یوں اِنسان اِن دِنوں گھروں میں محصور ہے اور ہر چیز کا پہہ جام ہو گیا ہے ۔بھلا ہو اسلامک رائٹرز مومنٹ کا ،اللہ تعالیٰ اس کی انتظامیہ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین !۔جنہوں نے وباءکے ان دِنوں بہترین سرگرمیاں پیش کرکے ہمیں اختیاط کرنے کے ساتھ ساتھ مصروف بھی رکھا۔جس کی بدولت ایک تو ہم وبائی مرض سے بچے رہے اور دوسرا ہمارے لئے سیکھنے اور سکھانے کا موقع میسر آیا ۔یوں ہم کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا ہونے سے بچ گئے اور ہمارا یہ وقت بہترسے بہترین گزرا ۔
جی ہاں !اسلامک رائٹرز مومنٹ نے بارہ دِنوں پر مشتمل آئن لائن کورس”کہانی کیسے لکھی جائے “کرایا۔جس میں ملک بھر سے 200کے لگ بھگ مردوزن نے حصہ لیا اور سیکھنے سیکھانے کا یہ عمل یادگار لمحوں پر محیط ہو گیا ۔راقم الحروف نے بطور استاد اپنی خدمات پیش کیں ،وہی پر اپنے شاگردوں اور باقی اساتذہ سے بہت کچھ سیکھا بھی ۔یہ بارہ دِن میرے لیے کسی قیمتی اثاثہ سے کم نہیں تھے ۔میری خوش بختی کے میں اس کور س کا حصہ بنا ۔اِس کورس میں کہانی کی ابتداءسے لے کر ترقی کی تمام منازل کے حوالے سے بہترین لیکچر ہوئے ۔اسلامک رائٹرز مومنٹ کی انتظامیہ جس میں چوہدری محمد حفیظ،محمد اُسامہ قاسم اورمحمد عنصر عثمانی نے ریڑھ کی ہڈی کا کام کیا ۔پوری ٹیم نے کمال محنت اور یکسوئی سے ہر وقت میسر رہ کر لمحہ بہ لمحہ طلبہ ءطالبات کی رہنمائی کی۔
اس بار ہ دِنوں کی سرگرمی سے ،میں بہت خوش ہوا ہوں ۔مجھے خوشی ہے کہ نوجوان ِنسل میں ذوقِ و لولہ اور کچھ کرنے کی لگن ہے ۔تمام شرکاءنے دلچسپی سے شرکت کی اور اپنی مشقیں حل کرتے رہے۔میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں یہی نوجوان ِنسل ہمارے مستقبل کی امین ہے ۔بے شک یہی لوگ بڑے ادیب بن کر مستقبل میں پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔میں ان کا مستقبل بڑا تاب ناک اور روشن دیکھتا ہوں ۔اس موقع پر اسلامک رائٹز مومنٹ کے لئے پورے دل سے دعائیں ہی دعائیں نکلتی ہیں ،جن کی بدولت وباءکے دِنوں میں ،ہم بہترین سرگرمی میں شریک رہے ۔یوں نفسیاتی طور پر ہم صحت یاب رہے اور کسی قسم کی اُلجھن اور بے احتیاطی سے بھی بچے رہے ۔
انسان ،اسلام اور کہانی آج بھی ترقی کی طرف ہمہ تن گامزن ہے ۔اللہ تعالیٰ اِس سے پورا پورا مستفید ہونے کی ہمت و استطامت عطا فرمائے اور اس باغ(اسلامک رائٹرز مومنٹ)میں پرورش پانے والے پھولوں کو ملک و ملت میں اپنے کام اور کردار سے خوشبوپھیلانے کی طاقت و ہمت عطافرمائے ۔آمین ۔!