Buy website traffic cheap

We cannot compromise on national security, Prime Minister

یقین ہے 8 فروری کو ملک میں عام انتخابات ہو ں گے، نگران وزیراعظم

اسلام آباد :نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پر کوئی شکوک وشبہات نہیں ہونے چاہئیں، سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کے حوالے سے ابھی تک ان پر کوئی قدغن نہیں ہے، نگران حکومت قومی معیشت بہتر بنانے کے لئے محدود مینڈیٹ میں رہتے ہوئے جو ممکن ہے کر رہی ہے، باقی کام آئندہ حکومت کرے گی۔ایک خصوصی انٹرویو میں نگران وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے یقین ہے 8 فروری کو ملک میں عام انتخابات ہو ں گے، اس حوالےسے قوم کو کوئی شکوک و شہبات نہیں ہونے چاہئیں۔ آئندہ عام انتخابات آزادانہ ہوں گے، ہم انتخابات کے انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن کے ساتھ ہیں۔ لوگ مختلف سیاسی تجزیے پیش کرتے رہتے ہیں ، کس رہنما کی مقبولیت کتنی ہے اس کا اندازہ عام انتخابات میں ہوجائےگا۔انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی کے حوالے سے ابھی تک ان پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ مستقبل میں کیاصورتحال ہو گی اس بارے وہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ فی الحال سابق وزیراعظم انتخاب لڑنے کی پوزیشن میں ہیں۔پی ٹی آئی رہنماﺅں کی مبینہ گمشدگیوں ، منظر عام پر آنے اور سیاست چھوڑنے کے اعلانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو ریاستی اداروں پر حملے ہوئے جس کے بعد کئی لوگ روپوش ہو گئے، اس روپوشی کے دوران کسی سوچ بچار کے نتیجے میں پی ٹی آئی یا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا، ان افراد کا ذاتی فیصلہ ہے۔اس بارے میں وہ کچھ بھی کہنے سے قاصر ہیں تاہم انہوں نے واضح کیاکہ ان کے ساتھ ریاستی جبر کاکوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ، نہ ہی کسی نے ریاستی جبر کی بات کی، یہ محض الزامات کی حد تک ہے۔ وزیراعظم نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔وزیراعظم نے نگران حکومت کی قومی معیشت کو بہتر بنانے کی کوششوں پر اطمینان کااظہارکرتےہوئے کہاکہ نگران حکومت کے پاس ایک محدود مینڈیٹ ہے اور اس میں رہتے ہوئے وہ جو کام کرسکیں گے ، کریں گے، باقی کام آئندہ حکومت کے لئے چھوڑ کر جائیں گے۔پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ اس کے پیچھے مخصوص عناصر کے ہونے کی خبریں سازشی مفروضے ہیں جن کی وجہ سے ملک اس نہج پر پہنچ گیا ہے، نجکاری کے لئے ماہر مشیر مقرر ہوئے ہیں اور بہترین طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے جس کا 50 سال بعد بھی آڈٹ ہو سکے گا۔ وزیراعظم نے اپنی اس رائے کا اظہارکیاکہ حکومتیں کاروبارنہیں چلاتیں۔نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پر کوئی شکوک وشبہات نہیں ہونے چاہئیں، 9 مئی کے بعد ریاستی جبر کاکوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، یہ محض الزام ہے۔انوار الحق کاکڑ نے کہاکہ نگران حکومت قومی معیشت بہتر بنانے کے لئے محدودمینڈیٹ میں رہتے ہوئے جو ممکن ہے وہ کر رہے ہیں، باقی کام آئندہ حکومت کرے گی، مجھے یقین ہے 8 فروری کو ملک میں عام انتخابات ہو ں گے۔انہوں نے کہاکہ کس رہنما کی مقبولیت کتنی ہے؟ اس کا اندازہ عام انتخابات میں ہوجائیگا، سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی قدغن نہیں ہے، مستقبل میں کیاصورتحال ہو گی اس بارے وہ ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔