Buy website traffic cheap


غزل زیادہ پسند کرتی ہوں مینا خان

مرجھا گئے ہیں شاخِ تمنا کے گل سبھی۔۔۔اب کیا منائیں مینا یہ جشن بہار ہم

معروف اردوشاعرہ ، افسانہ نگاراور وکیل محترمہ مینا خان سے خصوصی گفتگُو

انٹرویو : محمد طاہر جمیل ۔ (دوحہ قطر)
گزشتہ دنوں انجمن محبانِ اردو ہند(قطر )کے مشاعرہ میں شرکت کے لیے دہلی سے نامور شاعرہ اور افسانہ نگار محترمہ مینا خان جووکالت کے پیشہ سے وابستہ ہیں، قطر تشریف لائیں تو میرے دیرینہ دوست نجم الحسن خان کی وساطت سے اُن سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ با وقار، خوش اخلاق، خوش خیال اور سنجیدہ خاتون سے ان کے حالاتِ زندگی بمع ارود شاعری، سماجی کاموں اور وکالت کے حوالہ سے جو ساری بات چیت ہوئی، یہاں پیشِ خدمت ہے:
سوال(۱): اپنی ابتدائی زندگی اور تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب (۱): میں اپنے بارے میں کیا عرض کروں بس اتنا سا فسانہ ہے کہ میری پیدائش صوبہ اتر پردیش کے ضلع غازی آبادمیں ہوئی، میں عام سی خاتون ہوں، میرے والدین کی تربیت اور اساتذہ کی تعلیم بحر علم میں غوطہ خوری سے حاصل کیا ہوا اور کچھ میرے زندگی کے تجربات سے ماحصل ہی میرا سرمایہ ہے، میں خدا کی بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے بچپن ہی سے مجھے شعور وآ گہی بخشی اور ایسا ہمدرد دل عطا کیا جو ساری کا ئنات کے لئے محبت سے لبریز ہے، اسی لئے میں ہمیشہ کہتی ہوں الحمد للہ۔
میرا اصلی نام نسیمہ خانم ہے اور قلمی نام مینا خان، جس سال انٹرمیڈیٹ کیا اسی سال محترم کا سایہ میرے سر سے اُٹھ گیا ۔میرے والد کی خواہش تھی کہ میںقانون کی پڑھائی کروں۔ زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آئے لیکن میں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور ایل ایل بی کیا ، بعد میں ایم اے اردو اور ایل ایل ایم بھی کیااورغازی آباد میں ہی وکالت کے پیشہ سے منسلک ہوئی۔۶۰۰۲ میں میرے چھوٹے بھائی زاہد خان کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں گریٹر نوئیڈا رہنا پڑا تو میں بھی اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ گریٹر نوئیڈا منتقل ہو گئے اور فی الحال یہں پر وکالت کر رہی ہوں۔
چھوٹے بھائی اوربہنوں کی تعلیم اور انکے گھر بسانے اور معاشی مصروفیات میں ایسی الجھی کہ اپنا الگ گھر بسانے کا خیال ہی نہیںرہا ، اس لئے تنہا زندگی کے سفر پر گا مزن ہوںاور بہت یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اپنی زندگی سے مطمئن ہوں۔

والد محترم کی وفات کے بعداللہ نے جو کام سو نپے تھے وہ بحسن و خوبی پورے ہوئے اور مجھے اپنوں کے ہمدردانہ سلوک اور پیار نے میری زندگی کے راستوں کو ہموار کیا۔
سوال(۲): کچھ اپنے ادبی سفر کے بارے میں بتائیں! اورایک سوال جو عام طور پر پوچھا جاتا ہے کہ آپ کا شاعری کی طرف کیسے آنا ہوا؟
جواب(۲): میں نہیں بتا سکتی کہ مجھ میں شاعری کا شوق کیسے پیدا ہوا کیونکہ دور دور تک میرے خاندان میں نہ تو کوئی شخص شاعر ہوا نہ شاعرہ ، لیکن بچپن ہی سے مجھ میں شعر کہنے یا شعر سمجھنے کی صلاحیت تھی، جب چھٹی، ساتویں جماعت میںزیرِ تعلیم تھی تب سے ہی میں شعر( تک بندی) کرنے لگی۔ رفتہ رفتہ جیسے شعور کی منزلیں طے ہوتی رہی میں افسانے اور غزلیں بھی لکھتی رہی جو ہندستان کے مختلف رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ میں آجکل اپنے پہلے شعری مجموعہ پر کام کررہی ہوں اور انشااللہ ، امید ہے کہ جلد میرا پہلا مجموعہ کلام شائع ہوجائے گا۔
میری شخصیت سازی میں میرے والد محترم کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ وہ میرے آئیدیل شخص تھے، انہوں نے مجھے زندگی جینے کا سلیقہ اور حالات سے لڑنے کا حوصلہ دیا اور آگے بڑھنے اور پڑھنے کا جذبہ پیدا کیا۔
سوال(۳): شاعری میں آپ کو کون سی صنف پسند ہے؟آپ نے غزل کے علاوہ نظمیں وغیرہ بھی کہی ہیں۔
جواب(۳):میں غزل زیادہ پسند کرتی ہوں اور آزاد نظمیں بھی کبھی کبھی کہہ لیتی ہوں اور انشا ءاللہ میرے آنے والے مجموعہءکلام میں غزلوں کے ساتھ نظمیں بھی شامل رہیں گی۔پروین شاکر اور جاوید اختر کی منظومات مجھے بہت پسند ہیں۔
سوال(۴): ہندستان سے باہر بھی کیا کبھی مشاعرہ پڑھنے کا ا تفاق ہوا؟
جواب(۴):جی میںہندستان میں تو کم و بیش سبھی شہروں مشاعرہ پڑھ چکی ہوں لیکن ہندستان سے باہر قطر کے مشاعرہ میں شریک ہونے کا یہ پہلا موقع ہے جس کی مجھے بے حد خوشی ہے اور میں اس کے لئے اپنے محترم نجم الحسن صاحب اور انجمن محبان اردو ہند( قطر) کی شکرگزار ہوں، جنہوں نے مجھے یہ موقع فرا ہم کیا۔
سوال(۵): آپ بیک وقت شاعرہ، ادیبہ، وکیل ، سیاسی اور سماجی کارکن بھی ہیں، آ پکی اصل شناخت کس حوالے سے ہے؟
جواب(۵): بلا شبہ میری پہچان وکالت کے حوالہ سے ہے اور کچھ برسوں سے شاعرہ کے طور پر بھی میری پہچان ہوئی ہے میں کانگریس سے منسلک ہوں اور اتر پردیش کانگریس کمیٹی کی رکن ہوںاس کے علاوہ سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی میری شناخت ہے۔میں مہیلا شکتی، سماجک سمیتی گریٹر نو ئیڈا کی قانونی صلاح کار بھی ہوں اور وکاس وشرانتی ٹرسٹ کی بھی رکن ہوں اور اس سمیتی کے زیر اہتمام چلنے والے سبھی سماجی کام جیسے: جگی جھونپڑی میں رہنے والے غریب اور مزدور بچوں کے لئے تعلیمی سلسلہ اور اس کے علاوہ بزرگوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد میں کام انجام دیتی ہوں ، میں اپنی ایسوسی ایشن کے ساتھ غریب اور مزدور لوگوں کو فری قانونی صلاح اور سہارا مہیا کراتی ہوں۔
سوال(۶)۔ آپکی پیشہ ورانہ اور سماجی مصروفیت کے بارے میں کافی بات چیت ہوئی ۔اب آتے ہیں شاعری کی طرف، کل آپ نے اپنا بہترین کلام پیش کیا، انجمن محبان اردو ہند(قطر) کا یہ کامیاب مشاعرہ پڑھنے کے بعد آپ کو قطر کا ادبی ماحول کیسا لگا؟
جواب(۶):میں پہلی بارقطر آئی ہوں ، قطر ایک خوبصورت ملک ہے ، کل کے مشاعرے میں میں نے دیکھا کہ سامعین ہر اچھے شعر پر خوب داد اور دعاﺅں سے نواز رہے تھے، جس سے اندازہ ہوا کہ یہاں کا اردو داں طبقہ کافی باذوق ہے اور یہاں بڑی تعداد میں ہندستانی اور پاکستانی آبا د ہیں، سامعین میں کچھ خوا تین بھی نظر آئیں جنہوں نے پوری دلچسپی سے مشاعرہ سنا اور بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔
سوال(۷): آپ قطر کے اس مشاعرہ سے بین الاقوامی طور پر متعارف ہو گئیں ، اس مشاعرے کی دھوم آپ کی شہرت میں اضافہ کرے گی
اور انشاءاللہ آپ کو مزید مواقع ملیں گے ، اخیر میں ہم چاہیں گے کہ آپ اپنے پسندیدہ اشعار پیش کریں۔
جواب(۷): اپنی ایک تازہ غزل کے چند اشعار پیش کردیتی ہوں۔
ٹوٹے ہیں آئینوں کی طرح بار بار ہم
خود پر ہوئے ہیں جب بھی کبھی آشکار ہم
ہوتے ہیں تیری یاد میں جب بیقرار ہم
روتے ہیں پہرو بیٹھ کے بے اختیار ہم
مرجھا گئے ہیں شاخِ تمنا کے گل سبھی
اب کیا منائیں ©مینا یہ جشن بہار ہم
اس مختصر سی ادبی اور علمی گفتگو کے بعد قطر کی سیر کو نکلے تو بات چیت کا سلسلہ راستہ میں بھی جاری رہا۔راستہ کے خوبصورت مناظر دیکھتے ہوئے انہیں کچھ اشعار ےاد آئے جو پیش ہیں۔
بڑا دلچسپ منظر سامنے ہے
میں پیاسی ہوں سمندر سامنے ہے
ِاِدھر تنہا محاذِ جنگ پر میں
ُ ُاُدھر لشکر کا لشکر سامنے ہے
الٰہی خیر ہو میرے جنوں کی
وہی پتھر وہی در سامنے ہے
نجم الحسن کی فرمائش پر انہوں نے اپنے مزید اشعار سنائے ، ملاحظہ کیجئے۔
تیری خوشبو تیرا لہجہ میں کہاں سے لاﺅں
تو بتا دے تیرے جیسا میںکہاں سے لاﺅں
چاند کو گھیر کے رکھتے ہیں ستارے ہر شب
پھر بھلا چاند کو تنہا میں کہاں سے لاﺅں
چشمِ تر میں بھی رہے اور بھرم بھی رکھے
ایسا ٹھہرا ہوا دریا میں کہاں سے لاﺅں
کھینچ لائے جو گناہوں کے سمندر سے مجھے
اک ندامت کا وہ قطرہ میں کہاں سے لاﺅں

ان خوبصورت اشعار کے ساتھ ہماری گفتگو کا اختتام انکے ان آخری جملوں پر ہوُا کہ میں اچھی اور سچی شاعری کرنا چاہتی ہوں ، شاعری میرا پیشہ نہیں ہے ، میری اپنی شاعری ہوتی ہے، اپنے جذبات ہوتے ہیںاور میری اپنی تسکین ہوتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میری شاعری پسند بھی کی جاتی ہے۔