Buy website traffic cheap


کیا یہ معمہ حل ھو گا؟؟

کیا یہ معمہ حل ھو گا؟؟
عمران امین
شیخ سعدی ؒ کہتے ھیں کہ وہ شہر”دیاربکر“ میں ایک بڈھے کے مہمان تھے۔جس کے پاس بے انتہا دولت تھی۔ااُس کا ایک خوبصورت لڑکا بھی تھا،جس سے اس کو بے پناہ محبت تھی۔ایک رات وہ امیر آدمی کہنے لگا کہ ایک دلچسپ بات بتاتا ھوں،شہر کے ساتھ جنگل میں ایک درخت تھا جو جنگل میں درختوں کے اضافہ کی وجہ سے اب گُم ھو گیا ھے۔ا ُس درخت کے پاس لوگ اپنی مرادیں مانگنے جاتے تھے۔میری کوئی اُولاد نہ تھی چنانچہ میں بھی اس غرض سے وھاں گیا۔میں نے کئی طویل راتیں اس درخت کے پاس بیٹھ کرخُدا کے حضور ُروتے ھوئے گزاری تھیں،تب کہیں جا کر میری مُراد پوری ھوئی اور مجھے یہ فرزند نصیب ھوا۔میں نے اگلے دن لوگوں سے سُنا کہ اُس کا لڑکا اپنے دُوستوں سے چپکے چپکے سے کہتا ھے”اے کاش! مجھے اُس درخت کا علم ھو تا،تاکہ میں وھاں جا کر دُعا کرتا کہ اس بڈھے سے میری جان جلد چھوٹ جائے“۔
افسوس! آج کا انسان اپنے مقصد حیات کو پورا کرنے میں ناکام رہا ھے۔ارشاد باری تعالیٰ ھے”ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور صلاحیتیں دے کر پیدا کیا“۔اس آیت سے آگاہی ملتی ھے کہ انسان کو اللہ نے کسی اہم کام کے لیے تخلیق فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا انسان کی تخلیق سے بہت پہلے،ملائکہ کی محفل میں یہ فرمانا”میں کرہ ارض میں اپنا نائب مقرر کرنے والا ھوں“ اس بات کا ثبوت ھے۔ظاہر سی بات ھے کہ جو ہستی زمین پر خُدا کی خلافت کے مقام پر متمکن ھونے والی ھو،اُس کی عظمت و اہمیت میں قطعاً کوئی شبہ نہیں ھو سکتا ھے۔
تخلیق کائنات کا اک شاھکار ھوں
جبریل میری رفعت منزل نہ پا سکا
انسان نے دنیا کو تسخیر کرنے کا سفر جاری رکھتے ھوئے کچھ کامیابیاں ضرور سمیٹی ھیں۔اُس نے ھوائی جہاز بنا کر خلاؤں کو مسخر کر لیا،بحری جہاز بنا کر سمندروں کا سینہ چیر ڈالا،فلک بوس عمارتیں اور مینار کھڑے کر کے آسمان کی بلندیوں کو چھو لیا، مہلک امراض کا علاج دریافت کر کے موت کو کچھ عرصے تک ٹال دیا،بجلی سے چلنے والے کارخانے بنا ڈالے اور انسانی زندگی میں آسانیاں فراہم کرنے کی ان گنت اشیاء کی لائن لگا دی۔مگر افسوس ھے کہ اس ساری جدوجہد میں انسانیت کی متاع عظیم کو اُس کی عظمتوں اور خوبیوں کے ساتھ شیطانیت اور حیوانیت کی چوکھٹ پر قربان کر دیا۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاھوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حکمت کے خم و پیچ میں اُلجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا
چند دن پہلے ہمارے مُلک کی سیاست میں ایک نیا رنگ غالب آیا اُور ایک عدالتی فیصلے نے انسان کے مقصد تخلیق اور مقصد حیات کے ساتھ ساتھ انسانیت سے متعلقہ بہت سے بھولے ھوئے سوالات کو دوبارہ جنم دیا ھے۔کیا ہم ایک انسانی معاشرہ میں ر ہ رہے ھیں؟۔کیا ہمارا معاشرہ انصاف پر قائم ھے؟۔کیا امیر اور غریب کے لیے قانون ایک ھے؟۔کیا عدالتیں جذباتی،جماعتی،نظریاتی،مذہبی یا ذاتی وابستگیوں سے آزاد ھیں؟۔کیا عدل کے پیمانے سب کے لیے برابر ھیں؟۔کیا ہمارا انصاف کا ادارہ اندھا،بہرا اور گونگا ھے اور اُس کے فیصلے بولتے ھیں؟۔کیا ”مُلک کے نام نہاد عظیم تر مفاد کو پیش نظر رکھنے والی عدلیہ“ اب بھی زندہ ھے؟۔کیا ہمارے معاشرے میں بنیادی انسانی ضروریات کا حصول بآسانی ممکن ھے؟۔کیا کرپشن پر قابو پا لیا گیا ھے؟۔کیا فوری انصاف کا حصول ممکن ھے؟۔کیا مجرم کے مرتبہ اور عہدے کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر سزا دی جاتی ھے؟۔کیا شرجیل میمن کی شراب،شہد تھی؟۔کیا لاڑکانہ میں کتّے کی ویکسین دستیاب کروادی گئی؟۔کیا معصوم بچیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کا احتساب کر لیا گیا؟۔کیا المناک سانحہ ساھیوال کے لواحقین کو انصاف مل گیا؟۔کیا سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا گیا؟۔کیا دھرنے کے فتنے کو سجانے والے بے نقاب ھو گئے؟۔کیا مُلکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بولنے والے جیل پہنچ گئے؟۔کیا ڈیل اور ڈھیل کی بات کرنے والے سچے تھے؟۔ کیا عام آدمی یونہی دھکے کھاتا رہے گا اور امیر سب لُوٹ کر لے جائے گا؟۔
لاھور ہائی کورٹ نے معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ھوئے ہفتے کے دن یعنی چھٹی کے دن، سماعت کی اور فیصلہ بھی دے دیا۔نیب کا ملزم اُور عدالت کا مجرم،اب آزاد ھیں اور دنیا کے کسی بھی مُلک جا کر اپنا علاج کروا سکتے ھیں۔وقت کی کوئی پابندی نہیں۔بیماری کتنی لمبی ھو گی اُور صحت کب نصیب ھو گی کچھ نہیں پتااُور ویسے بھی مریم صفدر نے فرمایا تھا ”چھ ہفتے میں تو کھانسی کا علاج بھی نہیں ھو سکتا“۔سمدھی،بیٹے،بھتیجے اور بھائی کا داماد،ماشاء اللہ سارا” ٹبّر“ پہلے سے ہی باہر ھے۔ مُلکی سیاست میں ایک بھونچال کی سی کیفیت ھے۔اس عدالتی فیصلے کے بعد کچھ اپنی بغلوں میں اور کچھ دوسروں کے گریبانوں میں جھانک رہے ھیں۔تاک جھانک کے اس کھیل میں بارھویں کھلاڑی بھی جاگ گئے ھیں اُور اب وہ صرف پانی پلانے کی ذمہ داری تک محدود نہیں رھنا چاہتے۔ مُلک و قوم کا درد اچانک شدت اختیار کر گیا ھے اُورموقعہ کی نزاکت دیکھتے ھوئے ”ریزرو پلیئر“ اُور”ریلو کٹّے“ اپنی قیمت بڑھانا چاھتے ھیں۔
میرے مُلک کی سیاست کا حال مت پُوچھو
طوائف گھری ھوئی ھے تماش بینوں میں
شیخ سعدیؒ فرماتے ھیں ”ایک سال مصر میں بارش نہ ھوئی اور ملک میں قحط پڑ گیا۔لوگوں نے بہت گریہ زاری کی لیکن آسمان سے ایک بھی بوند نہ ٹپکی۔کچھ لوگ حضرت ذوالنون مصریؒ کی خدمت میں حاضر ھوئے اور اُن سے بارش کے لیے دُعا کی درخواست کی۔حضرت ذوالنونؒ نے یہ بات سنی تو اپنا بوریا بستر باندھ کر مدینہ کی طرف چلے گئے۔اُن کے جانے کے بعد اس زور سے مینہ برسا کہ ہر طرف جل تھل ھوگئی۔چند دن بعد آپؒ کو اطلاع ملی کہ آسمان کو اہل مصر پر ترس آگیا اور بادل خوب برسا۔ یہ خبر سُن کر وہ واپس تشریف لے آئے۔ایک مرد خُدانے اُن سے پوچھا”آپ کے مصر سے چلے جانے میں کیا مصلحت تھی؟“۔ اس پر جواب دیا”میں نے سُنا ھے کہ بعض دفعہ اچھوں کا رزق بُرے بندوں کی وجہ سے بند ھو جاتا ھے۔جب میں نے اس ھولناک خشک سالی کے اسباب پر غور کیا تو اپنے سے زیادہ گنہگار اس ملک میں کسی کو نہ دیکھا۔چنانچہ میں یہاں سے بھاگ گیا،تاکہ میری وجہ سے لوگوں پر خیر کا دروازہ بند نہ ھو جائے“۔
عدالتی فیصلہ اُور اُس کے اثرات ابھی تک ایک معمہ ھے جو شائد وقت کے گزرنے کے بعد ہی حل ھو سکے گا یا شائد کبھی بھی نہ حل ھو سکے۔لیکن ایک درد ناک تلخ حقیقت یہ ھے کہ جس نے لُوٹا وہ بھاگ رہا ھے اور جن کو لُوٹا گیا وہ بھنگڑے ڈال رہے ھیں۔بہرحال مبارک ھو کہ ایک اُور پاکستانی نے مُلکی حالات سے پریشان ھو کر باہر جانے کا فیصلہ کر لیا۔شائد اب نیا پاکستان بن جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔