Buy website traffic cheap

imrankhan

پی ٹی آئی اجلاس کی اندرونی کہانی:مطالبے، برہمی اور تنقید

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کافی گرما گرمی ہوئی ہے اور ایک دوسرے پر تنقید بھی کی گئی۔وزیراعظم کی زید صدارت ہونے والے اجلاس میں ارکان گورنر سندھ، صدر پی ٹی آئی کراچی اور سیف اللہ نیازی پر برہم ہوگئے جبکہ حفیظ شیخ اور معاشی ٹیم کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

پارٹی رکن نورعالم خان نے وزرا کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام وزرا کا احتساب ہونا چاہیے، میں بھی احتساب کے عمل سے گزرچکا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہا آٹا، دال چینی کچھ بھی عوام کو نہیں مل رہا۔ وزیراعظم کے مشیر اور وزیر سبز باغ دکھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حفیظ شیخ 2008 میں بھی یہ ہی باتیں کرتے تھے۔ ٹیکنوکریٹ چلے جائیں گے ہم ذلیل ہوجائیں گے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے پارٹی کو کراچی کے ترقیاتی پلان پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر پر 11 ارب روپے خرچ کررہے ہیں۔

پارٹی رکن نجیب ہارون نے کراچی پلان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کچھ نہیں ہورہا، جھوٹ بولا جارہا ہے،2023 تک کچھ نہیں ہوگا، کے فور منصوبہ مکمل ہوگا نہ نالے صاف ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا نجیب ہارون آپ تو ہمیں اندھیرا دکھا رہے ہیں۔ پارٹی رکن نے کہا میں بالکل ٹھیک بتا رہا ہوں۔نزہت پٹھان اور لال ملہی نے پی ٹی آئی کی سندھ میں تنظیم سازی پر تنقید کی۔ ارکان کا کہنا تھا کہ عمر کوٹ کا ضمنی الیکشن ہوا، کوئی پارٹی عہدیدار نہیں آیا۔ پارٹی میں گروپنگ زیادہ ہوچکی، مفادات کا کھیل چل رہا ہے۔

اجلاس میں ارکان اسمبلی نے بڑھتے ہوئے قرضوں سے متعلق بھی سوالات کیے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے قرضوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔اگلے سال سے ارکان پارلیمنٹ کو 50 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز دیئے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، صوبائی حکومت ساتھ دے نہ دے، ہم اپنی ذمہ داری ادا کریں گے۔عمران خان نے ہدایت کی کہ پی ڈی ایم عملی طور پر ختم ہو چکی ہے، پی ڈی ایم نے جلسوں پر پورا زور لگا کر دیکھ لیا عوام انکے ساتھ نہیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آپ بے فکر رہیں، اپوزیشن ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ تمام لوگ ملکر احساس پروگرام پر پورا زور لگائیں، ارکان پارلیمنٹ شیلٹر ہومز کے دورے کریں، غریبوں کو سہولیات فراہم کریں، غریب کا احساس کریں گے تو باقی معاملات بھی ٹھیک ہونگے۔