Buy website traffic cheap


بھارت میں نوجوان کا بیمار والد کو لے کر ایمبولینس پر 60 گھنٹے سفر

نئی دہلی(ویب ڈیسک)دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتے جان لیوا کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاﺅ کے پیش نظر دنیا بھر سمیت بھارت میں بھی لاک ڈاﺅن جاری ہے۔لاک ڈاﺅن کے دنوں میں بھارتی ریاست آسام کے شہر گوہاٹی سے تعلق رکھنے والا شخص والد کے علاج معالجے کی غرض سے بھارت کے جنوبی شہر چنائی گیا تھا جہاں سے واپس وہ اپنے گھر ایمبولینس میں تقریباً 60 گھنٹے کے مستقل سفر کے بعد گھر پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

چنائی کے اپولو ہسپتال سے گھر پہنچنے کے لیے 2 ہزار 7 سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑا جو اس نے 60 گھنٹے ایمبولینس کے سفر میں طے کیا جس میں ان کے سفر کا کرایہ ایک لاکھ 60 ہزار بھارتی روپے لگا۔60 گھنٹے کا ایمبولنس کا سفر طے کرنے والے بحر الاسلام نے بتایا کہ گزشتہ ماہ کی 4 تاریخ کو ان کے والد کی طبیعت اچانک ناساز ہوئی جس کے بعد وہ والد کو بھائی کے ہمراہ چنائی کے ایک ہسپتال لے گئے، عارضہ قلب اور گردوں کے عارضے میں مبتلا مریض کی ہسپتال پہنچتے ہی طبعیت زیادہ بگڑ گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 30 مارچ کو والد کی طبعیت سنبھلنے پر گھر واپسی کی اجازت مل گئی لیکن لاک ڈاﺅن کے باعث انہیں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ، دوستوں کی مدد سے بحرالاسلام نے ایک ایمبولینس کا بندوبست کیا جو انہیں جلد از جلد گھر پہنچا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ایمبولینس نے ایک لاکھ 60 ہزار کرایہ وصول کیا، ایمبولینس کو چلانے کے لیے دو ڈرائیور مختص کئے گئے تھے جو 23 گھنٹے لگاتار چلاتے تھے ، انہوں نے بتایا کہ وہ 31 مارچ کو صبح 10 بجے ہسپتال سے روانہ ہوئے اور 2 اپریل کو شام 10 بجے گھر پہنچے۔

اس منفرد سفر کے حوالے سے بحرالاسلام کا کہنا تھا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا ایک ناقابل فراموش سفر ہے، لیکن انہیں خوشی ہے کہ وہ مریض کے ساتھ بخیر و عافیت گھر پہنچنے میں کامیاب رہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ کھانا کھانے کے لیے راستے میں کچھ بار رکے لیکن انہوں نے پھر بھی اپنا سفر تیزی سے جاری رکھا تاکہ جلد از جلد گھر پہنچ سکیں۔

بحرالاسلام کا مزید کہنا تھا کہ سفر کے دوران انہیں دو بار پولیس نے بھی روکا تاہم کاغذات دکھانے اور صورتحال سے آگاہ کرنے پر سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ آبائی شہر پہنچنے پر ہم قریبی ہسپتال گئے جہاں ہم سب کا چیک اپ ہوا اور مجھ سمیت دونوں ڈرائیوروں کو 14 دن کے لیے 16 اپریل تک گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی۔