Buy website traffic cheap


پی ایم سی اور کرغزستان میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کا مستقبل

بادشاہ خان
اس وقت ایک اہم مسئلہ جیسے بہت عرصے سے نظرانداز کیا جاتا رہا ، عفریت بن کر ابھررہا ہے ، جس کا ادارک پی ایم سی کو بھی شائد نہیں ہے ، یہ مسئلہ ہے ،کرغزستان میں زیرتعلیم دس ہزار پاکستانی طلبہ کے مستقبل اور تعلیم کا؟اس حل کیا ہے ؟کسی کو معلوم نہیں،گذشتہ چند برسوں میں چند کالی بھیڑوں نے اور خودمیڈیکل کے طلبہ کے ایک بڑے طبقے نے اپنی آسانی کے لئے پاکستانی میڈیکل کے طلبہ کو سبز باغ دکھاکر کرغزستان کی یونیورسٹیوں میں داخل کرایا،جہاں میڈیکل کی تعلیم کچھ یونیورسٹیوں کو چھوڑ کر باقیوں میں برائے نام ہیں ، کرغزستان میں سرکاری یونیورسٹیوں کا معیار تعلیم بہت اعلی ہے ، ڈبلیو ایچ او سے رجسٹرڈ بھی ہیں ، ان کے اسپتال بھی موجود ہیں،لیکن بہت سے پاکستانی طلبہ کو یونیورسٹی ایک دکھائی گئی ، اور کرغزستان پہنچنے کے بعد دوسری میں ڈال دیا گیا، ایک ہی یونیورسٹی کے اندر تین تین یونیورسٹیزکا دھندہ چل رہا تھا،جس پر طلبہ نے حکومت پاکستان اور بشکیک میں پاکستانی سفارت خانے میں شکایات کے انبار لگا دیے ، یہ شکایتیں یونیورسٹیز، کنٹریکٹر، سے لیکر پاکستان میں موجود چند پیسوں کے لئے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنے والے کنسلٹنٹ کے بارے میں تھی ،جس پر پاکستانی سفارت خانے نے حکومت پاکستان اور کرغز حکومت سے رابطے بھی کئے، بالاآخر پی ایم سی نے ان پر ایکشن لیتے ہوئے کرغزستان کی یونیورسٹیز کو بلیک لسٹ کردیا تاحکم ثانی ، اورپھر ایک اور پیغام کے ذریعے اسے عارضی قرار دیا ، کیونکہ اچھی یونیورسٹیاں بھی ہیں،لیکن سوال وہی ہے ، کہ کیا ان کرغز یونیورسٹیز کی اپرول قوانین کو مدنظر رکھ کر کی جائے گی؟ یا مک مکا اور ڈیل کے ذریعے نوجوانوں کے مستقبل اور مریضوں کے زندگیوں سے کھیلنے کے لئے ماضی کی طرح چھوٹ فراہم کی جائے گی؟ بہت سے طلبہ اور ان کے والدین چاہتے ہیں ، کہ وہ دیگر ممالک میں کرغزستانی یونیورسٹیوں سے مائیگریشن لیکر تعلیم جاری رکھیں،کیا ان کی مائیگریشن کے لئے حکومت دیگر ممالک سے رابطے کرے گی؟ایک بات اور مائیگریشن فیس کے نام پر کئی طلبہ سے ہزار ڈالر بھی طلب کئے جارہے ہیں۔سوال وہی ہے کہ اس کاحل کیا ہے؟ معاملے سے جان چھوڑنے کے لئے ، اور مال بنانے کے لئے ایک کمیٹی کرغزستان روانہ کرکے روای چین ہی چین لکھے گا؟یا پی ایم سی اس سنگین مسئلے کوقوانین کے مطابق اور طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرپائے گی؟سننے میں آرہا ہے کہ اسی ہفتے پی ایم سی فارن طلبہ کے لئے تعلیمی معیار کے پیمانہ کا اعلان کرنے والی ہے ،اور اس کے بعد ایک پی ایم سی ٹیم بیرون ملک بالخصوص کرغزستان کے دورے پر پہنچے گی۔
اس ساری صورت حال میں خود پی ایم سی کے مستقبل کے بارے میں بہت سے سوالات جنم لے رہیں ، اس تنازعے میں بھی دو سال ضائع ہوگئے ، بہت سے طلبہ سابقہ پی ایم ڈی سی یا پی ایم سی کا امتحان نہیں دے پائے، انہیں دوسال ہونے کو ہیں، کئی ایسے ہیں کہ انہیں ابھی تک ہاوس جاب کے اجازت نہیں مل سکی ،پاکستانی میڈیکل کے غیر ملکی طلبہ کا مستقبل گومگو کا شکار ہے، جس سے بہت سے طلبہ جو کہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں ، ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں ،۔،
صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی کے پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 پر دستخط کے بعد پی ایم ڈی سی کو پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) نے تحلیل کر دیا اور ان کی جگہ لے لی۔ یہ اقدام میڈیکل تعلیم، تربیت اور طب اور دندان سازی میں اہلیتوں کے تسلیم کرنے کے یکساں کم سے کم معیارات قائم کرکے پاکستان میں طبی پیشے کو باقاعدہ اور کنٹرول کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ پاکستان میں معیاری طبی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے پی ایم ڈی سی کی جگہ کا بل منظور کرکے سینیٹ اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے اسے پھر تحلیل کر دیا گیا۔ اور اس کے بعد پی ایم سی کے اقدامات شروع ہوچکے ہیں۔
پی ایم سی ایکٹ 2020 کی شق 18 کے تحت ملک میں میڈیکل یا ڈینٹل کالجز میں داخلے کے خواہاں تمام طلبہ کو 2021 کے بعد سے ایم ڈی سی اے ٹی لازمی دینا ہوگا۔کہا گیا ہے کہ ‘اتھارٹی کونسل کی جانب سے منظور شدہ تاریخ اور بورڈ کے ذریعے منظور شدہ معیار کے مطابق سالانہ ایم ڈی سی اے ٹی لے گی، پاکستان میں کسی بھی طالب علم کو میڈیکل یا ڈینٹل ڈگری نہیں دی جائے گی اگر اس نے پاکستان میں میڈیکل یا ڈینٹل کالج میں داخلے سے قبل ایم ڈی سی اے ٹی پاس نہ کی ہو اور 2021 کے پروگرام اور اس کے بعد میڈیکل یا ڈینٹل انڈر گریجویٹ میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کے لیے یہ شرط لازمی ہوگی’۔ صرف سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالج داخلے کے لیے کم از کم 50 فیصد ایم ڈی سی اے ٹی ویٹیج دینے کے پابند ہوں گے جبکہ نجی کالجز کو اس قانونی ذمہ داری سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ اس شق کے تحت ہر نجی کالج کو داخلے کے لیے اپنی پالیسی تیار کرنے کے لیے آزادانہ اجازت دی گئی ہے جس میں داخلے کے اضافی ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔لازمی ایم ڈی سی اے ٹی کے بغیر پاکستان میں نجی میڈیکل کالجز میں داخلے کی سہولت کے لیے پی ایم سی ایکٹ 2020 کی شق 21 کے تحت ایک اور طریقہ کار بھی فراہم کیا گیا ہے جس میں میڈیکل یا ڈینٹل کالج میں دو سال سے زیادہ کا پروگرام مکمل کرنے والے طلبہ کا پاکستان سے باہر داخلہ لینے والوں کو منتقلی اور داخلہ حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔اس طرح کا طالب علم اس کے اگلے سال میں داخلہ حاصل کرنے کا اہل ہوگا ۔
اس ماحول میں جہاں خود ڈاکٹرز کی تنظیمیں ،اور طلبہ دونوں بے یقینی کا شکار ہیں ، سوال وہی ہے کہ اس اہم اور سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لئے پی ایم سی کوئی جامع لائحہ عمل تیار کرے گی؟ ایک مضبوط اور ایماندار ٹیم کو کرغزستان روانہ ہو، جو ان یونیورسٹیوں کا تفصیلی جائزہ لے کر اچھی اور خراب کا تعین کرے،یا پھروہ ٹیم جوکرغزستان پہنچ کر خود رنگینوں میں کھو جائے اور طلبہ کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دے ،؟ پی ایم سی جو بھی کمیشن یا کمیٹی تشکیل دے اس میںنامور اور دیانت دار تعلیمی ماہرین کے علاوہ مختلف شعبوں کے افراد کو شامل کیا جائے ،اور شفافیت کے عمل کو برقرار رکھنے کے لئے ایمان دار سربراہ کے ساتھ ساتھ مرد حضرات کے ساتھ ایماندار خواتین ڈاکٹر کو بھی کمیٹی کا حصہ بنایا جائے ،تاکہ بچوں کے مستقبل کے ساتھ ساتھ مریضوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہوسکے ، سوال وہی ہے کہ کیا ان تمام اقدامات کے پیچھے نیک نیتی کار فرماہے یا پھر مال بنانے کے لئے ان یونیورسٹیز کو بلیک میل کرنا ،سب سامنے آنے کو ہے ، بس آپ نظر رکھیں ،اور ہمیں آگاہ کرتے رہیں۔