Buy website traffic cheap

minar-e-pakistan-dakhiye-zinda-pakistan

لاہور کی تقسیم کا منصوبہ

تحریر: سیّد عارف نوناری
گڈ گورنیس سے ہی ریاستی ادارے مضبوط اور حکومت بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ نیا پاکستان کے ساتھ نئے لاہور کی تقسیم کا منصوبہ بھی شروع ہونے والا ہے۔ جس کا اصولی طور پر فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزیراعظم اگست میں اس کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔ شہباز شریف کے دور میں لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کر کے بہتر انتظامی امور اور عوامی مسائل کو جلد حل کرنے کے لیے منصوبہ بندی شروع کی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی اور بورڈ آف ریونیو میں کام بھی جاری رہا تھا لیکن بعد میں یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ بیوروکریسی اس منصوبہ یعنی لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ جس کے سبب سابق دور حکومت میں یہ منصوبہ کھٹائی کا شکار رہا۔ تقسیم بنگال 1906ءمیں ہوئی اور 1911ءمیں اس کو منسوخ کر دیا گیا۔ تقسیم بنگال کو تقسیم کرنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ پھر 1911ءمیں اس کو منسوخ کر دیا گیا۔ تقسیم بنگال کو تقسیم کرنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ انتظامی امور کا بوجھ کم ہو اور عوامی مسائل کو آسانی اور جلدی حل کر کے بہتر حکمرانی کو مضبوط کیا جائے۔ لاہور کی آبادی بھی چونکہ دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اور آبادی کے مسلسل اضافہ کے سبب انتظامی امور میں مشکلات ہیں۔ عمران خان نے بھی کہا ہے کہ گڈ گورننس میں وزراءبہتری لائیں۔ اس حکومت کا بھی سب سے بڑا المیہ اور ناکامی کی وجہ گڈ گورننس کا نہ ہونا ہے۔ بیوروکریسی حکومت کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ جس کی نشاندہی حکومت بار بار کر چکی ہے۔ لاہور کو اضلاع میں تقسیم کرنے کی مخالفت بھی شروع ہو گئی ہے۔ لاہور کو تین یا چار اضلاع میں تقسیم ہونے سے لاہور کے ڈپٹی کمشنر اور ضلعی افسران میں اضافہ ہونا ہے اور پولیس افسران کی مزید تعیناتیاں بھی ہونی ہیں۔ کراچی کی طرز پر اس کی تقسیم سے تعلیمی اداروں، صحت کے اداروں اور دیگر اضلاع کے اداروں کے بوجھ بھی کم ہوں گے اور ہنگامی صورت حال کو بھی کنٹرول کرنے میں آسانیاں اور مسائل میں کمی سے اداروں کی کارکردگی بھی بہتری کی طرف ہوگی۔ وزیراعظم نے 5 کھرب روپےکی لاگت سے راوی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے نام سے اگست میں افتتاح کیا تھا۔ جبکہ سابق حکومتیں اس کو ناقابل عمل منصوبہ بھی قرار دے چکی ہیں اور دوسری وجہ بیوروکریسی کی بدنیتی بھی کہہ سکتے ہیں۔ راوی اربن سٹی منصوبے کے لیے ڈیزائن اور کنسٹرکشن ماہریین کی تعیناتی بھی حال ہی میں کر دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے اصولی طور پر فنڈز جاری کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے لیڈ پاکستان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہو گئے ہیں۔ جبکہ جزائر پر موجود مینگروو کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی مینگروو الائنس سے مفاہمتی یادداشت کا معاہدہ بھی حال ہی میں ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے لیے کانفرنس منعقد ہونے کے بعد اس منصوبہ کو شروع کر دیا جانا ہے۔ اس منصوبہ میں 60 لاکھ درخت بھی لگنے ہیں۔ وزیراعظم نے چند ماہ قبل افتتاحی تقریب میں اس منصوبہ کو جدید طرز کا منصوبہ بتایا ہے اور اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ زیر سطح زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔ اس منصوبہ سے زیر سطح پانی کی سطح بھی بلند ہونے سے کراچی جیسے مسائل سے بچنے میں مدد ملنی ہے۔ اس منصوبہ میں 13 نئے شہر ایک کلومیٹر وسیع اور 46 کلومیٹر بھی جھیل بھی شامل ہے۔ یہ ایک لاکھ 10 ہزار ایکڑ کا منصوبہ ہے اور لاہور کے اردگرد گندے نالوں کے پانی کو ٹریٹ کر کے دریائے راوی میں چھوڑنے کا منصوبہ بھی ہے۔ اصل میں راوی کے علاقہ فیروز والا کالا شاہ کاکو، کالا خطائی روڈ اور شیخوپورہ کے ملحقہ علاقوں کو جدید طرز کی سہولیات دینا اس منصوبہ کے مقاصد ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو راوی کنارے آباد علاقوں کو ترقی یافتہ علاقے بنانا اور نیا شہر جدید تعمیراتی طرز کا تعمیر کرنا ہے لیکن حکومت کو دوسری طرف اس کے بجٹ اور لاگت کے لیے مشکلات پیش آ رہی ہیں اور وزارت خزانہ مشکلات کا شکار اور سوچ میں بڑی ہوئی ہے۔ بیرونِ ممالک مقیم پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کی طرف راغب بھی کیا جا رہا ہے اور ان سے اعداد کی بھی توقع ہے۔ لاہور کی آبادی ایک کروڑ سے زائر ہے۔ تنقید نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کراچی کو کئی اضلاع میں تقسیم کرنے کے بعد اس کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ تو لاہور کو تقسیم کرنے کے بعد یا اس منصوبہ کی تکمیل کے بعد لاہور کے مسائل میں کمی نہیں آئے گی بلکہ اضافہ ہوگا۔ فضائی آلودگی، ٹریفک کے مسائل اور دیگر لاہور شہر کے مسائل کم ہونے کی توقع نہیں ہے لیکن یہ بات درست نہیں لگتی ہے۔ لاہور کی تقسیم اور نئے لاہور کی تعمیر یورپی طرز کی ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں دریاﺅں پر نئے شہر اسی طرح بسائے جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت بھی نئے لاہور کو یورپی اور ترقی یافتہ ممالک میں آباد شہروں کی طرح کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
دریائے راوی جس کو نئے لاہور کا منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔ ضلع کانگڑا میں ذرّہ روننگ سے نکلتا ہے اور یہ 450 سو میل لمبا یعنی 720 کلومیٹر ہے۔ یہ شکر گڑھ بابا گورونک کے پاس سے گزرتا ہے اور بھارتی سرحدی علاقہ کی وجہ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ راوی ڈویلپمنٹ منصوبہ کے بارے میں یہ بھی خبریں گردش میں ہیں کہ اس سے 20 لاکھ افراد متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان افواہوں کو حکومت بے بنیاد دے چکی ہے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس منصوبہ سے اردگرد گاﺅں اور دیہات متاثر ہونے کا ادیشہ ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سرمایہ کار اس منصوبہ میں دلچسپی لیں اور حکومت کو کم سے کم اخراجات کرنے پڑیں۔ بیرونِ ممالک مقیم پاکستانیوں سے بھی اس سلسلہ میں رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ منصوبہ اور اس کی تکمیل میں ایک عرصہ درکار ہے اور اگر یہ حکومت اس کو شروع کرتی ہے تو یہ منصوبہ اگلی حکومت میں تکمیل کے مراحل مکمل کر پائے گا۔ اس سے فوائد ضلع شیخوپورہ کے علاقہ کو زیادہ ہوں گے۔ راوی ڈویلپمنٹ منصوبہ کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جدید طرز کا لاہور ہے جو پاکستان میں ایک نمونہ کے طور پر شہر ہوگا۔ پرانے لاہور کی ترقی اور تبدیلی میں بہت کم فرق آئے گا۔ پرویز الٰہی کے دور میں اس منصوبہ کی منصوبہ بندی ہوئی اور شہباز شریف نے بھی اس کی تکمیل کی کوشش کی لیکن وزارت خزانہ نے مشکلات پیدا کیں۔ لاہور اور راوی کی ایک اپنی تاریخ ہے اور کئی عشرے پہلے راوی کنارہ لوگ آ کر آباد ہوئے لیکن لاہور کے دریائے راوی کنارے آباد بستیوں کی کبھی نہیں سنی گئی۔ جب بھی دریائے راوی میں سیلاب آیا شیخوپورہ اور ان کے قریبی اضلاع، نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، جڑانوالہ شدید متاثر ہوتے ہیں۔ فصلیں بتاہ ہو جاتی ہیں۔ ان منصوبوں سے بڑے زمینداروں کی زمینوں کے داموں میں اربوں کا اضافہ ہوگا اور راوی کنارے آباد دیہاتوں اور آبادیوں کی بھی سنی جائے گی۔ لاہور کی تقسیم سے جہاں انتظامی امور میں بہتری ہونی ہے۔ وہاں لاہور کی خوبصورتی میں بھی مزید نکھار اور حسن آئے گا۔ یہ منصوبہ حکومت کا اچھا اقدام ہے اور یورپی طرز کا کامیاب منصوبہ ہے۔