Buy website traffic cheap


فخر پاکستان، عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کی صاحبزادی

لاریب عطاء
دنیا بھر میںپاکستان کا نام روشن کر نے والی پہلی پاکستانی ویژول ایفیکٹ آرٹسٹ ہیں

ڈیک
ہالی وڈ فلمسٹار ٹام کروز کی فلم مشن امپاسیبل کے بصری اثرات (Visual effects) لاریب نے مرتب کیے
ان کے بڑے بھائی سانول عطا موسیقارہیں جبکہ چھوٹے بھائی بلاول عطا 6 سال کی عمر سے اداکاری اور فلم میکنگ کررہے ہیں
معروف گلوکار عطا ءاللہ عیسیٰ خیلوی کی خواہش تھی کہ بیٹی ہالی ووڈ انڈسٹری میں (VFX)آرٹسٹ کے طور پر کام کرے، یہی خواہش لاریب کی قسمت بن گئی
سب لوگ مجھے گونگی کہہ کر تنگ بھی کیا کرتے تھے لیکن ڈرائنگ میرا جذبہ تھی اور میں اسی کے ساتھ خوش رہا کرتی تھی،میری والدہ نے مجھے ہمیشہ خودمختار عورت بننے کا سبق دیا، یہ ان کی ہی سکھائی ہوئی تعلیم تھی کہ کم عمری میں ہی میں نے اپنے آپ کو گروم کیا، لاریب

میگزین رپورٹ
پاکستان کے معروف گلوکار عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کی صاحبزادی لاریب کا کہنا ہے کہ میرے والدین کو قطعی طور پر علم نہیں ہے کہ میں کیا کرتی ہوں لیکن انہوں نے مجھے مکمل طور پر سپورٹ کیا۔برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ میں نے جب اپنے کام سے متعلق اپنے والدین کو بتایا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ تمہیں پوری اجازت ہے ، یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے کہ تم کس شعبے میں جانا چاہتی ہو۔گزشتہ سال جولائی میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں تھی کہ لاریب نے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا، لاریب نے ہالی و±وڈ کے معروف اداکار اور پروڈیوسر ٹام کروز کی مشہور فلم ”مشن امپاسیبل“ میں بصری اثرات (Visual effects) مرتب کیے ۔ ٹام کروز کی اس مشہور فلم کے بصری اثرات کسی پاکستانی کی جانب سے مرتب کیا جانا بلا ش±بہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔لاریب عطا نے مشن امپاسیبل میں اپنے کام کے حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ میں نے مشن امپاسیبل سمیت ہالی وڈ کی کئی فلموں میں بصری اثرات (Visual effects) مرتب کئے ہیں۔
لاریب کاکہنا ہے کہ میں پاکستان کی دیگر نوجوان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہوں تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق پروفیشن کا انتخاب کر سکیں اور اس میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ لاریب نے کہا کہ جب میں نے یہ کام شروع کیا تب میں سب سے کم عمر تھی اور میں صرف ایک ہی پاکستانی شہری تھی ، اب میں کئی پاکستانیوں کو یہاں دیکھتی ہوں جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں، لیکن ابھی بھی اس انڈسٹری میں 70 سے 80 فیصد مرد حضرات ہیں۔میرا مقصد ہے کہ اس کام میں مزید نوجوان بالخصوص پاکستانی نوجوان آئیں اور کامیابی حاصل کریں۔ لاریب نے 16 سال کی عمر میں ہالی وڈ کے ایک فلم پروجیکٹ سے کام کا باقاعدہ آغاز کیا۔
لاریب نے 19 سال کی عمر میں 2006 میں ہالی وڈ میں قدم رکھا جب انہوں نے ڈزنی، جارج مائیکل اور رولنگ اسٹون کے اشتہارات کے لیے کام کا آغاز کیا۔ لاریب عطا نے اولمپک چائنہ کے پرومو پر بھی کام کیا، علاوہ ازیں نائیک فٹ بال ورلڈ کپ پرومو میں بھی اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے جسے پوری دنیا میں دکھایا گیا۔ ان دونوں پراجیکٹس کے بعد لاریب عطا ءسکائے اور سپینش ٹی وی جیسی بڑی بڑی میڈیا کمپنیوں کا حصہ بن گئیں۔لاریب عطا گریویٹی، گوڈزیلا اور ایکس مین میں کام کرنے والی ٹیموں کا بھی حصہ رہ چکی ہیں۔ لاریب عطا لاہور میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم معروف نجی اسکول کے لبرٹی کیمپس میں حاصل کی۔ ان کی فیملی کے بیرون ملک شفٹ ہونے کے بعد لاریب نےوہیںسول اینڈ آرکیٹیکچرل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران انھوں نے ویژول ایفیکٹس میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔
قارئین! لاریب عطاایک ملٹی ٹیلنٹ رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے بڑے بھائی سانول عطا موسیقارہیں جبکہ چھوٹے بھائی بلاول عطا 6 سال کی عمر سے اداکاری اور فلم میکنگ کررہے ہیں۔ لاریب کا بچپن زیادہ تر اپنے والد کے آبائی ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں گزرا۔وہ اپنے ایک انٹرویو میں بتاتی ہیں کہ اگرچہ ہم لاہور میں رہتے تھے لیکن عید کی چھٹیاں ،رمضان اور دوسرے کئی تہوار ہم والد کے آبائی ضلع میں گزاراکرتے تھے، جہاں برقعہ اور چہرہ ڈھانپے بغیر عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہ تھی مگر میں نے اس ماحول کو اپنی کمزوری یا رکاوٹ نہیں بننے دیا اور اس ماحول کا حصہ رہتے ہوئے اپنے والد کے کنسرٹ میں شرکت کے لیے دنیا بھر کے مختلف ممالک کا سفر کیا۔ لاریب بچپن سے خاموش طبع تھیں، ان کا کہنا ہے کہ بچپن میں جب بچے آپس میں کھیل کو داور باتوں میں وقت صرف کیا کرتے تھے، تب میں ایک کونے میں خاموش بیٹھ کر ڈرائنگ کرتی تھی۔سب لوگ مجھے گونگی کہہ کر تنگ بھی کیا کرتے تھے لیکن ڈرائنگ میرا جذبہ تھی اور میں اسی کے ساتھ خوش رہا کرتی تھی۔
معروف گلوکار عطا ءاللہ عیسیٰ خیلوی کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی ہالی ووڈ انڈسٹری میں (VFX)آرٹسٹ کے طور پر کام کرے، یہی خواہش لاریب کی قسمت بن گئی اوردوران تعلیم ہی لاریب کو چھوٹے منصوبوں کے لیے آفرز آنا شروع ہوگئیں۔ 2006ءسے اب تک لاریب کئی مشہور اشتہارات اور ٹیلی وژن سیریزمیں اپنے فن کا جوہر دکھانے کے علاوہ گوڈزیلا اور ایکس مین ڈیز آف دا فیوچر پاسٹ کی ٹیم کے ساتھ بھی کام کرچکی ہیں۔ہالی ووڈ میں شہرت پانے والی کم عمر پاکستانی لاریب عطا اپنی تمام تر کامیابیوں کاسہرا اپنے والدین کو دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میری والدہ نے مجھے ہمیشہ خودمختار عورت بننے کا سبق دیا، یہ ان کی ہی سکھائی ہوئی تعلیم تھی کہ کم عمری میں ہی میں نے اپنے آپ کو گروم کیا۔انھوں نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ آج میں یا میرے بہن بھائی جو بھی کچھ ہیں وہ ہمارے والدین کی وجہ سے ہیں اور وہ دونوں میرے رول ماڈل ہیں۔ یہی وہ ہستیاں ہیں جو ہمارے لیے مثال بنے کہ جب آپ سخت محنت اور لگن سے کوئی بھی کام کریں تو کامیابی آپ کا مقدر بنتی ہے۔ انھوں نے مجھے روایتی اور عام سوچ سے مختلف ذہنیت اور تخلیقی سوچ کی جانب گامزن کیا۔