Latest Column, Anwar Ali, Political Crisis, Solutions

سیاسی بحران اور حل

سیاسی بحران اور حل
تحریر انور علی

اپوزیشن میں رہتے ہوئے سیاستدان ہمیشہ سے ہی عوام میں مقبول ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کے مسائل کی درست نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں عوام کے مسائل کا حل عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں اور خود کو عوام کے سامنے ایک مسیحا کے طور پر پیش کرتے ہیں مسائل زدہ عوام اپنے حالات میں بہتری کے لیے ان کو ووٹ دے کے اقتدار میں لاتے ہیں لیکن جلد ہی ان کو احساس ہو جاتا ہے کہ اقتدار میں آنے والوں کی ترجیحات عوام کے حالات کی تبدیلی نہیں بلکہ اپنے مخالفین کے ساتھ حساب برابر کرنا ہے- حساب برابر کرنے کے چکر میں سیاستدانوں کی آپس میں لڑائیاں شروع ہو جاتیں ہیں عوام اپنے مسائل کی بجائے سیاستدانوں کو ذاتی لڑائیوں میں الجھتا دیکھ کر ان سے مایوس ہونا شروع ہوجاتی ہے جس سے ” غیر جمہوری ” قوتوں کو اقتدار میں آنے کا موقع ملتا ہے یہ لڑائیاں 90 کی دہائی میں اپنے عروج پر رہیں جب نواز شریف اور بے نظیر بھٹو ایک دوسرے کی حکومتیں گراتے رہے اور ڈیڑھ دو سال سے زیادہ کوئی بھی حکومت نہ کر سکا اور بالآخر ان لڑائیوں کا انجام پرویز مشرف کے ” اقتدار پر قبضے” کی شکل میں سامنے آیا. اقتدار سے رخصتی کے بعد دونوں جماعتوں کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا کہ کس طرح وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوئے اسی احساس کا ہی نتیجہ تھا کہ دونوں جماعتوں کو لندن میں بیٹھ کر ایک معاہدہ کرنا پڑا کہ وہ مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے جسے میثاق جمہوریت کا نام دیا گیا اس معاہدے کے نتیجے میں یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ شاید اب سیاست میں ” شائستگی ” پیدا ہوگی شاید اب ذاتی لڑائیوں کی بجائے عوامی مفاد کی خاطر لڑا جائے گا لیکن اس معاہدے کی ” شیرینی” اس وقت تک برقرار رہی جب تک دونوں جماعتیں اقتدار سے باہر رہیں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی وطن واپسی تک الزامات کی سیاست غائب رہی لیکن محترمہ کی شہادت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاست میں ایک دفعہ پھر تلخی پیدا ہونا شروع ہوگئی حتیٰ کہ نوازشریف کو حکومت کے خلاف ججز بحالی کے لیے لانگ مارچ شروع کرنا پڑا ججز تو بحال ہو گئے لیکن دونوں پارٹیوں میں پھر سے محاذ آرائی شروع ہوگئی اور اس محاذ آرائی کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت گرا کے پنجاب میں گورنر راج لگا دیا- گورنر راج لگنے کی دیر تھی کہ پورے ملک میں جلسے جلوس شروع ہوگئے اور تلخیاں بڑھتی گئیں بالآخر گورنر راج تو ختم ہوگیا لیکن تلخیاں ختم نہ ہو سکیں.
2013 میں ایک دفعہ پھر سے سیاسی جماعتوں میں پنجہ آزمائی شروع ہوئی ایک دوسرے کے خلاف روایتی الزامات چور ڈاکو اور غداری کے فتوے جاری کیے گئے کسی نے سوئس بینکوں سے پیسہ واپس لانے کا اعلان کیا اور کسی نے ضیاء الحق کے سیاسی جانشینوں سے جنگ کا اعلان کیا کسی نے گورننس پہ بات کی اور کسی نے دونوں سیاسی جماعتوں کو اسٹیٹس کو کی جماعتیں قرار دے کے عوامی جنگ لڑنے کا اعلان کیا بالآخر انتخابات ہوگئے اور نتائج کا اعلان کر دیا گیا پیپلزپارٹی پنجاب سے تقریبا ختم ہوگئی اور اس کی جگہ تحریک انصاف نے لے لی ایک سال تک سیاست میں قدرے سکون رہا لیکن ایک سال بعد ہی چار حلقوں سے شروع ہونے والی تحریک میں اچانک اس وقت شدت پیدا ہوئی جب نواز شریف نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چار حلقوں سے شروع ہونے والی تحریک 126 دن تک کے دھرنے پر پہنچ گئی چین کےصدر کا دورہ ملتوی ہوگیا حکومتی حلقے اور میڈیا عوامی مسائل کی بجائے سیاسی مسائل پہ فوکس کرتے نظر آئے دھرنا ختم ہونے پر الیکشن میں دھاندلی پر عدالتی کمیشن بنایا گیا کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا چلو ایک سیاسی بحران تو ختم ہوا اس سیاسی بحران سے نکلتے ہی ایک اور سیاسی بحران ” ڈان لیکس” کی شکل میں حکومت کے سر آگرا نواز حکومت نے اس سے بچنے کے لئے کئی وزراء کی قربانی بھی دی جو وقتی ریلیف ثابت ہوئی اور ڈان لیکس سے نکلتے ہی ” پانامہ لیکس” نے حکومت کو آگھیرا حکومت نے اس سے بچنے کے لئے کئ وضاحتیں دیں بطور وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطابات کیے معاملات عدالت میں گئے اور بالآخر نواز شریف کو وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑا سیاست میں تلخی کے ساتھ سیاسی لوگوں کی لڑائی ہی سیاسی بحرانوں کو جنم دیتی ہے موجودہ حکومت بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی مسائل کو مل بیٹھ کے حل کریں اور عوامی مسائل پہ زیادہ سے زیادہ توجہ دیں