Latest Column, Muhammad Arslan Mujadadi, Message of Peace

“امن کا پیغام”

“امن کا پیغام”
تحریر: محمد ارسلان مجدؔدی

“حکومت پاکستان” اور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی اور دشمن کی سازشوں کا دلیری سے مقابلہ اپنی سرزمین پر کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئی خودکش حملے ہوئے۔ جس میں کئی افوج پاکستان، رینجر اور پولیس کے جوانوں سمیت عوام میں بوڑھے بچے اور عورتیں سبھی نے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے۔ پھر بھی اس پاک ملک پر جھوٹے الزامات پڑوسی ملک کی طرف سے لگتے رہے۔ اللہ کریم کی ذات بہت کریم ہے۔ جس نے گذشتہ برس 27 فروری 2019 کو دنیا کے سامنے پاکستان کو سرخرو فرمایا۔ اور پاکستان کا نام روشن فرمایا۔ مجھے اب بھی وہ منظر یاد ہے جب مجھے میرے ہم جماعتوں نے یہ خبر دی کہ پاکستان کی کاروائی کی بدولت بھارت کے طیارے گرائے جا چکے ہیں اور ان کے ایک پائلٹ کی تلاش جاری ہے۔ فوری طور پر جب ہم نے انٹرنیٹ پر آن لائن خبر دیکھنے کی کوشش کی یہ خبر درست ثابت ہوئی۔ ہم دعا گو ہوئے تھے کہ پاکستان کو فتح نصیب ہو۔ وہی ہوا چند منٹوں بعد پھر خبر موصول ہوئی کہ بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس خبر سے متعلق ذرائع ابلاغ سے ملنے والی تمام معلومات سے کچھ لوگ پریشان تھے تو کچھ خوش۔ کیونکہ سبھی جانتے تھے پاکستان بھارت دونوں جوہری ہتھیار رکھتے ہیں اور جنگ کی کوئی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے جس سے دونوں اطراف انسانیت کو نقصان پہنچے گا۔۔ سبھی اللہ سے دعا گو ہوئے کہ جنگ کی صورت حال پیدا نہ ہو اور دونوں کے درمیان امن کا کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے سربراہان پہلے ہی دن سے یہ پیغام دینے لگے کہ ہم امن کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ دوسری طرف بین الاقوامی صورتحال تبدیل ہونے لگی۔ دنیا کی نظریں پاکستان پر تھیں کہ پاکستان امن کے لیے کس طرح کوشش کرتا ہے۔ پھر وہی ہوا جو پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو صحتمند حالت میں بھارتی بارڈر پر ان کے سپرد کیا۔ یاد رہے 1971ء کی جنگ کے بعد یہ پہلا فضائی حملہ تھا۔ بے شک اللہ پاک حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہیں اور جھوٹے دعووں کو جلدی ختم فرماتے ہیں۔ عالمی میڈیا اور ٹیموں نے بھارتی دعوے کو مسترد کیا۔ پاکستان اور بھارت دونوں اطراف کی عوام امن چاہتے ہیں خاص طور پر حکومت پاکستان اور افواج پاکستان امن کی طرف ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔ اس ایک سال کے دوران حکومت پاکستان اور افواج پاکستان نے امن کی ایک اور مثال قائم کرتے ہوئے سکھ برادری کے لیے ان کی مذہبی عقیدت کا احترام کرتے ہوئے بھارت کی جانب سرحدی راستے کھولے اور نرمیاں فرمائیں۔ دنیا بھر سے سکھ برادری آئی۔ یہاں کی عوام اور انتظامیہ کے انتظامات اور رویہ سے خوشی محسوس کی۔ اس طرح عالمی دنیا کو امن کا پیغام پاکستان کی طرف سے پہنچا۔ ہماری دعا ہے کہ یہ امن اس پاک سرزمین پر یوں ہی قائم رہے یہ پاک دھرتی جنت کی طرح خوشبو خوشیاں پھیلاتی رہے۔ آمین