Buy website traffic cheap


معاشی بہتری کے اثرات سے محروم عوام

معاشی بہتری کے اثرات سے محروم عوام
تحریر؛شاہد ندیم احمد
مملکت پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے نا صرف چار مختلف موسموں سے سرفراز فرمایا ہے،بلکہ ایسی زرخیز زمین بھی دی ہے جس میں جو چیز بھی اگائی جائے وہ تھوڑی سی محنت اور مشقت سے وہ پید اوار دیتی ہے جس کا ایک انسان نے سوچا بھی نہیں ہوتا، مگر اس سب کے باوجود ملک میں ہر دوسرے دن ذرائع اجناس کی قلت ہونا اور دوسرے ممالک سے ان اجناس کومنگوانا سمجھ سے بالاتر ہے۔آخر ان سب عوامل کی وجوہات کیا ہیں،جو اب تک ہماری سمجھ میں آئیں کہ ملک میں آزادی سے لے کر آج تک سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ملک کوبانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے علاوہ کوئی بھی ایسا رہنما نہیں ملا جس نے ملکی تعمیر و ترقی اور عوام کی خوشحالی کو مد نظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دی ہوں اور اس کا مطمع نظر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا ہو۔بدقسمتی سے ملک کی 70سالہ تاریخ میں جتنے بھی حکمران آئے ہیں انہوں نے صرف اور صرف اپنے مفادات کے حصول کیلئے ملکی اور عوامی مفادات کی قربانی دی ہے اور ملک پر قرضوں کا اتنا بوجھ ڈالا ہے کہ آج ملکی معیشت اسی پوزیشن تک جاپہنچی ہے کہ ملک کو چلانے کیلئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لینے پڑ رہے ہیں اور ان قرضوں کی مد میں ہمیں ان کی ناچاہتے ہوئے بھی وہ شرائط ماننی پڑ رہی ہیں جو ہماری ملکی معیشت کو سہارا دینے کی بجائے اسے مزید کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہیں،پاکستان پر بیرونی قرضوں کا بوجھ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ملک کا ہر ایک باسی چاہے وہ بچہ ہویا بڑا،عورت ہو یا مرد سوا لاکھ روپے کا مقروض ہے،ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ اس سب کے باوجود بھی ہمارے ملک میں غربت،بے روزگاری اور مہنگائی اس قدر زیادہ ہوچکی ہے کہ ایک عام آدمی کا جینا دو بھر ہوگیا ہے اور مجبورً لوگوں کو اپنا پیٹ بھرنے کیلئے مجرمانہ عناصر کا آلہ کار بننا پڑتا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کمزور معیشت اور کاروباری عدم تحفظ کی وجہ سے ملک اور بیرون ممالک کا کاروباری طبقہ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک پاکستان میں کاروبار کو ترجیح دے رہا تھا وہ اچانک اپنا سب کچھ سمیٹ کر بیرون ممالک میں شفٹ ہورہا ہے،کیونکہ وہ عدم تحفظ کا شکار ہے، اس وجہ سے کمزور ملکی معیشت مزید کمزور ہوتی جارہی ہے اور ملک کا غریب مزدور طبقہ بے روزگار ہوکر رہ گیا ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ عوام کو دو وقت کی روٹی اور معاشی حالات کی بہتری کیلئے بچے برائے فروخت کے بینر آویزاں کرنے پڑ رہے ہیں جوکہ ایک جمہوری ملک کے حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے منتخب کردہ عوام کی ضروریات کو بھی پورا کرنے کی اہلیت نہیں ر کھتے اور عوام کو ان کی نااہلی کا ثبوت دینے کیلئے مجبورا احتجاج کی راہ اختیار کرنی پڑتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے احتجاج کی وجہ سے حکمرانوں کے سوئے ہوئے ضمیر جاگ جائیں اور وہ ان کے مسائل کے حل کیلئے خالی خولی دعوؤں کو ایک طرف رکھتے عملی اقدامات کریں گے،مگر ایسا ہوتاکچھ بھی نہیں،کیونکہ ان کے ضمیر اس قدر مردہ ہو چکے کہ عوامی احتجاج ان پر اثر انداز نہیں ہوتاہے۔

اس مایوسیوں کے ماحول میں وزیراعظم عمران خان کی باتیں بڑی حوصلہ افزا ہیں کہ ملک مشکل دور سے نکلنے کے ساتھ ہماری معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا تو خزانہ خالی اور غربت، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی تھی۔ اس موقعہ پر وزیر اعظم کا پُراعتماد رہنا قوم کے لیے بڑے حوصلے کا باعث بنا،اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے یوٹرن اور غیر منتخب مالیاتی ٹیم کے طعنے برداشت کئے،مگر جو شخص جس منصب کے قابل نظر آیا، اُسے ملکی مفاد کے پیش نظر کا بینہ میں شامل کر لیاگیا،اس غیر منتخب مالیاتی ٹیم بڑے اچھے نتائج دئیے ہیں، جہاں تک ماضی کے قرضوں کی تحقیقات کا تعلق ہے تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کی حکومتوں نے مجموعی طور پر 26 ہزار ارب روپے کے مساوی ملکی بنکوں اور غیر ملکی اداروں سے قرضے لیے گئے، لیکن بادی النظر میں اتنی بڑی رقم سے کوئی عوامی مفاد عامہ کا کام نظر نہیں آرہا ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن)نے اپنے دور میں میٹرو بسیں، اورنج ٹرین چلائی، اوورہیڈ برج بنائے، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں بنائیں، لوڈشیڈنگ کے جن کو بڑی حد تک قابو کیا،لیکن ماہرین معاشیات سمجھتے ہیں کہ قومی پیسے کو خرچ کرتے وقت شفافیت کو ملحوظ خاظرنہیں رکھا گیاہے۔ یہ درست ہے کہ ایسے منصوبے پیسے کے بغیر نہیں بنتے،لیکن 26 ہزار ارب روپے کی رقم بھی کچھ کم نہیں، اگر کسی نے غبن یا بددیانتی نہیں کی تو اُسے مجوزہ کمیشن سے خائف ہونے کی ضرورت نہیں ہے،توقع ہے کہ تحقیقاتی کمیشن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کیلئے تحقیقات میں غیر جانبداری سے کام لے گا۔ تحریک انصاف کا ایجنڈہ ہی بلا امتیازاحتساب ہے، اس سے ہٹنا ناکامی کے مترادف ہو گا، غیر جانبدارانہ احتساب کو منطقی انجام تک پہنچانے سے ہی معیشت مضبوط ہو گی۔

بلا شبہ موجودہ حکومت کی معاشی ٹیم کی شروع سے یہ کوشش رہی ہے کہ معیشت میں بہتری لانے والے اقدامات پر بھرپور توجہ دی جائے، تاکہ حکومت بلخصوص کاروباری طبقے کا اعتماد حاصل کرنے میں کا میاب ہو جائے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ حکومتی کوششوں کے مثبت نتائج آنے شروع ہو گئے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ 9 فیصد بڑھی، برآمدات میں اضافہ ہونے کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کافی کمی آئی ہے۔معیشت کی بہتری کیلئے روڈ میپ ضروری ہے،اس پرمعاشی ٹیم کام کررہی ہے۔ روڈ میپ کی موجودگی میں سرمایہ کاری اور معیشت سے متعلق امور کی انجام دہی میں آسانی اور شفافیت آئے گی۔ آئندہ ماہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے،جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعظم کا معیشت میں بہتری لانے اور عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دینا قابل تحسین ہے اور ان کوششوں کاہی نتیجہ ہے کہ اب وہ چیخ و پکار سننے میں نہیں آرہی جس نے گزشتہ سال آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی ٹیم کے سربراہ کا معاشی بہتری کے اثرات عام آدمی تک منتقل کرنے کی ضرورت کا اظہار یقیناً محض زبانی جمع خرچ نہیں ہونا چاہئے، اگرمعیشت بہتر ہورہی ہے تو اس کے اثرات عام آدمی تک پہنچانا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے،اب جب کہ وزیر اعظم خود کہہ رہے ہیں کہ کٹھن راستہ طے ہو چکا، معیشت مضبوطی کی جانب گامزن ہے تو پھر حکومت عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہے، اگر عوام کو ریلیف ملے گا تو اس سے حکومت پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔