Buy website traffic cheap


لائف سٹائل کی جنگ

لائف سٹائل کی جنگ
تحریر: مہر اشتیااق احمد
ہم جس دور میں زندہ ہیں ۔ اسکے بارے میں سدالا نبےا کی اےک حدے ث صادق ہے ۔ آپ نے فرماےا” اسلام کی ابتداءاجنبےت سے ہوئی تھی اور یہ اےک بار پھر اجنبی ہو جائے گا۔“ یہ اجنبےت کےا ہے ۔ ؟ آج اسلام وےسے ہی اجنبی ہے جسے مکہ میں سرکارِ دو عالم کی دعوت کے آغاز میں تھا ۔ ثقافت ،طرز معاشرت ، معاشی نظام اور سےاسی زندگی کے مقابلے میں اسلام کی پیش کر دہ دعوت اجنبی اور انوکھی لگتی تھی ۔ آج بھی بالکل وہی کےفےت ہے ۔ جو چودہ سو سال پہلے تھی ۔اسلام موجودہ عالمی معاشی نظام ، عالمی لائف اسٹائل ، عالمی طرزِ سےاست اور عالمی طرز معاشرت میں بالکل انوکھا اوراجنبی ہو چکاہے۔ پو ری دنےا اس وقت لائف اسٹائل کی جنگ کا شکار ہے ۔ اےک مدت سے اےک عالمی ، سےاسی ، معاشرتی اور خاندانی نظام کو نصاب ِ تعلےم ،مےڈےا اور زےر اثر حکومتوں کے ذرےعے نافذ کر نے کی کوشش کی گئی ۔ جہاں ذرا شک ہو ا کہ یہ لوگ اس عالمی لائف اسٹائل کا حصہ نہیںبنےں گے ۔ وہاں بد ترےن آمرےتوں کے ذرےعے اس سےکولر عالمی لائف اسٹائل کا نفاذ کےا گےا ۔ تےونسی سے لے کر پاکستان اور بنگلہ دےش سے لے کر ملائےشےا تک ہر کسی کو کبھی ڈکیٹروں اورکبھی من پسند جمہوری حکمرانوں کے ذرےعے اےسے عالمی لائف اسٹائل کا طابع کےاگےا ۔ جس میں سودی بےنکاری سے لے کر حقوقِ نسواں اور آزادی اظہار کے نام پر فحاشی و عرےانی تک سب زندگی کے معاملات کا حصہ ہیں ۔ اس لائف اسٹائل اور طرزِ زندگی کے مخالف جو بھی آواز اٹی اسے سب سے پہلے مےڈےا میں اےک مہم کے ذرےعے بد نام کیا گےا اور اگر ممکن ہو سکا تو اےسے جہاں اسلام کا یہ اجنبی اور انوکھا لائف اسٹائل جڑےں پکڑ رہا تھا وہاں فوجےں تک اتار دی گئےں ۔ افغانستان اسکی بدترےن مثال ہے اور مِصر میں اسی حکومت کی بر طرفی اسکا دوسرا طرےقہ اظہار تھا۔ اےک بات کا فےصلہ کر لےا گےا کہ اس دنےا کے نقشے پر کوئی اےسی حکومت قائم نہیں ہونے دےں گے ۔ جو اس عالمی سےاسی ، اقتصادی اور معاشرتی لائف اسٹائل سے مختلف ہو ۔ لےکن ہر کسی کو ”پارٹ ٹائم“ اسلام کی اجازت ہے ۔ اذان کے وقت دوپٹہ سر پر لےنا اور مہندی کے ڈانس کے وقت اتاردےنا ، سود کے پےسوں سے مسجدےں اور مدرسے بھی بنانا اور اسکے خلاف تحقےقی کام بھیکرنا ۔ نماز ، روزہ ، حج ، زکوة ،سب پر اےمان رکھنا۔ لےکن جہاد سے نفرت کرنا ۔ اےک اےسا اسلام تو موجود عالمی لائف اسٹائل میں اجنبی نہ لگے ۔ رےاستےں تو اس پارٹ ٹائم اسلام کی قائل ہوگئےں کہ انکے حکمرانوں کے مفادات تھے ۔ مگر افراد نے دنےا بھر میں بغاوت کر دی ۔یہ لوگ امرےکا کے ساحلوں سے آسٹرےلےا کے پہاڑوں تک ہر جگہ موجودتھے ۔ گےارہ ستمبر نے اس لائف اسٹائل کی جنگ کو واقع کےا تو آج 14سال بعد خوف کے سائے اسلامی دنےا سے مغربی دنےا تک جاپہنچے ۔ برطانیہ کا شہر بر منگھم جہاں ہر پانچواں شخص مسلمان ہے ۔ وہاں پارک وےو اسکول میں حکومت کے تےن انسپکٹر داخلہوئے ۔ یہ دےکھنے کےلئے کہ کتنی لڑکےاں حجاب پہنتی ہیں اور کتنے مردوں نے داڑھےاں رکھی ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے علا قے کا اسکول ہے ۔ جواپنے دس طلباءمیں سے آٹھ طلباءکو ےونےورسٹی میں بھےجتا ہے ۔ یہ کامےابی بہت کم اسکولوں کومےسر ہے ۔ لےکن یہ سب کے سب اس لائف اسٹائل سے مختلف ہوتے ہیں ۔ جو عالمی طرز زندگی ہے ۔ اس لےے انسپکٹروں نے چھوٹی چھوٹی بچےوں سے پوچھا کہ تم کو حجاب پہننے پر کوئی زبر دستی تو نہیں کرتا ؟ اتنے زےادہ کپڑوں میںتمہیں گرمی تو نہیں لگتی ؟ تمہیں ماہواری کے بارے میں کسی نے کبھی بتاےا ہے ؟ اسکے بعد برطانیہ کے اخباروں میں خبرےں لگےں کہ مسلمانوں نے اپنے علا قے کے اسکولوں پر قبضہ کر لےا ہے اور وہاں اےسا طرزِ زندگی اور طرےقہ تعلےم رائج ہے جس سے بچے بر طانیہ کی زندگی کےلئے اجنبی اور انوکھے ہوتے جارہے ہیں ۔ اےک رپورٹ مرتب کی گئی ۔اگر اےسا ہواتو شدت پسندی کا خطرہ بڑھ جائے گا اسکے بعد پارٹ ٹائم اسلام کو کچھ خوبصورت الفاظ کے ساتھ پیش کےاگےا ۔ پارلےمنٹ اور مےڈےا میں یہ الفاظ گو نجے Reconcile islam and Britishism(اسلام اور برطانیت میں مفاہمت )لےکن پورا ماحول غصے اورخوف میں ہے ۔
کچھ عرصہ پہلے لندن کے علا قے کولی چسٹر کے اےک پارک میں اےک مسلمان عورت کو اس لےے قتل کےا گےا کہ اس نے مکمل حجاب پہنا ہوا تھا۔پارٹ ٹائم اسلام میں اےسا لباس صرف نماز پڑھتے ہوئے پہننا چاہےے ۔ اس پارٹ ٹائم اسلام ےعنی مغرب اور اسلام کی مفاہمت کی بہترےن علامت کچھ عرصہ پہلے اےمسٹرڈےم میں نظر آئی ۔ اےمسٹرڈےم کو ےورپ کا جنسی ہیڈ کوارٹر (Sex Capital)کہا جاتا ہے۔
وہاں کی رےڈ لائٹ ڈسٹرکٹ میں دنے ابھر سے عورتےں لا کر بٹھائی گئی ہیں ۔ انہی دنوں وہاں اےک اشتہار بانٹاجا رہا تھا کہ ہمارے پاس حلال محوائفےن میسر ہیں ۔ ےعنی جو شراب نہیں پیتےں سور نہیں کھاتےں اور دےگر معاملات میں بھی پارٹ ٹائم اسلام کی قائل ہیں ۔ اےک اےسا اسلام جو عالمی سےاسی ،معاشی ، معاشرتی اورخاندانی نظام کے اندر فم ہو جائے ۔ اس طرح کے اسلام کو نافذ کرنے کےلئے ملکوں میں فوجےں اُتاری جاتےں ہیں ۔آئےں تحرےر کئے جاتے ہیں ۔ اپنی مرضی سے الےکشن کر وا کر افغانستان کی سرزمےن پر حامد کرزئی اور محمد حالکی کو جمہوری طورپر منتخب کر واےا جاتاہے اور ملک پاکستان میں بھی کچھ غےر سےاسی لوگوں کو اقتدار پر بٹھاےا جاتا ہے ۔ لےکن خدا کی خلےج واضع ہوتی جارہی ہے ۔ پارٹ ٹائم اسلام اور اُس اسلام جس کے بارے میں مےرا آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرماےا تھا کہ یہ اےک بار پھر اجنبی ہوجائے گا۔ ان دنوں میں یہ جنگ تےز تر ہوتی جارہی ہے ۔ امرےکہ سے لے کر آسٹرےلےا تک اور ےورپ کے 24ممالک سے وہ لوگ جو اس عالمی لائف اسٹائل کے مخالف تھے ۔ ہتھےار بندہوکر شام اور عراق میں لڑ رہے ہیں۔ افغانستان اور ےمن میں موجود ہیں۔ دوسری جانب تمام مسلم رےاستوں کا یہ عالم ہے کہ وہاں کی حکومتےں اس عالمی لائف اسٹائل کے تحفظ کےلئے متحد ہیں ۔ دوسری جانب اسلام کے اصل رُوپ کے پر وانے بڑھتے جارہے ہےں۔ ہمارا اسلامی بدادر ملک سعودی عرب بھی اس عالمی لائف اسٹائل کو بڑی تےزی کے ساتھ اپنا رہا ہے ۔ صرف پاکستان کی ےونےورسٹےوں اورکالجوں میں حجاب اور داڑھی میں جس تےزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ اس نے کاروباری کمپنےوں کو حجاب کا شےمپو تک مارکےٹ میں لانے پرمجبور کر دےا ہے ۔
لےکن دوسری جانب خوف بہت زےادہ ہے ۔پورا عالمی لائف اسٹائل بےنکوں کے جعلی سرمائے اور سود سے چلتا ہے ۔ یہیں سے مےڈےا ہاتھ سنر پر وا ن چڑھتے ہیں اور پارٹی فنڈ سے جمہورےت کی گاڑی ۔ یہ تو سب دھڑام سے گِر جائے گا اگر اس لائف سٹائل کے مخالف طاقت میں آ گئے ۔
یہ اےک جنگ ہے اس میں اےک جانب رےاستےں ہیں ۔ جو اس عالمی طرزِ زندگی کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ اپنی پوری طاقت کے ساتھ اور دوسری جانب وہ لوگ پارٹ ٹائم ، قابلِ قبول اسلام نہیں ۔ بلکہ اس لائف اسٹائل کے تحفظ کےلئے کوشاں ہیں جو آج اجنبی ہو چکاہے ۔ رےاستوں کی کوئی سرحد باقی ہے اور نہ اُن لوگوں کی ۔آپ نے فرماےا دجال کی آمد سے پہلے دنےا دو خےموں میں تقسےم ہو جائے گی ۔ اےک طرف مکمل کفر ہو گا اوردوسری طرف مکمل اےمان ،اب نہ پارٹ ٹائم سےکولرزم رہے گا اورنہ ہی پارٹ ٹائم اسلام ۔