Buy website traffic cheap

مہندرپال سنگھ

پاکستان میں آج اقلیتوں کومکمل مذہبی آزادی حاصل ہے: مہندرپال سنگھ

انٹرویو: حسیب اعجازعاشر
سیاست نہ تو کوئی کھیل ہے اور نہ ہی کوئی کاروبار بلکہ حقیقت میں ایک عبادت ہے جنہوں نے اِس نسبت سے سیاست میں قدم رکھا مقبولیت میں بامِ عروج پاتے ہوئے تاریخ میں ہمیشہ سرخرو ہوئے اورجس نے سیاست کو شطرنج کے مہروں کی طرح برتا ناکام ہوگئے اور جس نے کاروبار بنایا آج اُن کا کوئی نام لیوا نہیں۔ملتان سے تعلق رکھنے والے ممبر پنجاب اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق مہندرپال سنگھ کا شمار بھی اُن صف اول کے سیاستدانوں میں شامل ہیں جو خدمت ِ عوام کے جذبہ سے سرشار ہیں اِسی لئے تو تھوڑے سے عرصہ میں قدآور سیاسی شخصیات میں شمار ہونے لگے ہیں،اِن کی ابتدائی زندگی کا سرسری ذکر کیا جائے تویہ ننکانہ میں پیدا ہوئے،بنیادی تعلیم بھی ننکانہ میںبھی حاصل کی، گرایجویشن پنجاب یونیورسٹی سے کیا ایم بے اے کے بعد ملتان بسلسلہ کاروبار منتقل ہوئے ۔ویسے تو یونیورسٹی میں ہی آئی ایس ایف سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کرچکے تھے مگر باقاعدہ طور پر 2010میں ضلعی سطح پر عملی سیاست میں قدم رکھا ۔ چند سالوں میں سیاست میں کئی نشیب و فراز کا سامنا رہا پھر 2013میں انٹراپارٹی الیکشن میں حصہ لیااور پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے2013میں ہی ایم پی اے کیلئے نامزدگی ہوئی لیکن کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔قسمت مہربان ہوئی اور 2018میں تحریک انصاف کے پلیٹ فورم سے موقع ملا اور اِس وقت پنجاب اسمبلی کے ممبرہیں ۔ اِن کی لگن اور جذبے کی بنیاد پر انہیں پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق کا قلم دان بھی سونپ دیا گیا ہے، نہایت ہی قلیل عرصہ میں جس کمٹمنٹ کے ساتھ اُنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھایا ہے پارٹی قائدین کے پراعتماد ساتھیوں میں شمار ہونے لگے ہیں ۔گزشتہ دنوں ایم پی اے ہوسٹل میں ممبر پنجاب اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق مہندرپال سنگھ کاروزنامہ آفتاب سے ہونے والا خصوصی انٹرویو قارئین کی نذرہے ۔
سوال: بڑے بڑے دعوﺅں اور وعدوں پر عوام نے ووٹ دیا،آج تقریبا دوسال بعد کارکردگی کے حوالے سے تحریک انصاف کی حکومت کو کہاں دیکھ رہے ہیں؟
جواب: سب سے پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ ہم نے انقلاب کی بات نہیںکی تھی تبدیلی کی بات کی تھی اور تبدیلی ایک پروسس کا نام ہے اور ہم اپنی حقیقی منزل کی جانب گامزن ہیں۔تحریک انصاف صرف نعروں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عوام سے کئے گئے ہر وعدے کی تکمیل کی جانب بھی بڑھ رہی ہے دوسال کے قلیل عرصہ میں حکومت نے تاریخی اقدامات کئے اور ریفارمز متعارف کروائی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی
سوال: آپ ہیومن رائٹس کے پارلیمانی سیکرٹری ہیں، تو انسانی حقوق کے حوالے اب تک کیاقانون سازیاں ہوئی ہیں تھوڑا اِس کے بارے میں بتائیے؟
جواب: وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق پاکستان میں سکھ،ہندوﺅں سمیت تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے جس پر کسی صورت سمجھوتا نہیں ہوسکتا ۔ہماری حکومت میںہیومین رائٹس ،مانیورٹی رائٹس اور مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے قانون سازی پر عملی پیش رفت بھی ہوئی ہیں ۔
سوال: پاکستان میں اقلیت کے حقوق اور بھارت میں اقلیت کے حقوق پر نظر دوڑائیں تو کیا فرق دیکھتے ہیں؟
جواب: جیسا میں نے کہا کہ پاکستان میں ہرطبقہ کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ،ہر کوئی اپنا اپنا مذہبی تہوار بھرپور انداز میں منا رہے ہیں کسی قسم کی نہ تو کوئی پابندی ہے اور نہ کوئی خطرہ ،جبکہ سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہمسایہ ملک بھارت میں اقلیتوں کے حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور آج وہاں کسی دوسرے مذہب کیلئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی،مسلمان ،سکھوں سمیت ہر کوئی مشکلات کا شکار ہیں۔مودی سرکار بھارت کو صرف ہندﺅں کا دیس بنانا چاہتی ہے ۔
سوال:کشمیر مسئلے کا حل کیا دیکھتے ہیں؟احتجاج بھی ہوئے، ہر جمعہ کھڑے بھی ہوئے،یونائیٹڈ نیشن میں وزیراعظم نے شاندار تقریر بھی کر دی،آپ کو نہیں لگتا کہ پھر بھی ہم آگے نہ بڑھ پائے؟
جواب: کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے ہم ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے اور نہ ہٹ سکتے ہیں،یہ تکمیل پاکستان کا ادھورا ایجنڈا ہے،وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے کیس کو جس انداز میں لڑا ہے آج دنیا بھی کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف بول اُٹھی ہے ہم نے ہر پلیٹ فورم پر کشمیر کی آواز بلند کی ہے اور کرتے رہے گے ،فی الوقت دنیا کورونا وبا کی لپیٹ میں ہے پھر بھی وزیراعظم مسلسل مقبوضہ کشمیر کے اندورنی حالات پر خاموش نہیں اور دنیا کو باور کروا رہے ہیں کہ لاک ڈاﺅن کیا ہوتا ہے اب سمجھ جانا چاہیے جبکہ آر ایس ایس کے گھنوﺅنے کھیل کو جس طرح وزیراعظم نے دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے اِس سے پہلے کسی سربراہانِ مملکت ایسی جرات اور ہمت کا مظاہرہ نہیں کیا۔
سوال: جنوبی پنجاب کا وعدہ کب وفا ہوگا؟
جواب: اِس خواب کی تعبیر کے لئے دوتہائی اکثریت درکار ہے ،مگر پھر بھی ہم نے خاموش رہنے پر اکتفا نہیں کیا اور اپنے حصے کی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں۔ آپ دیکھئے گا کہ اِس کے حوالے فیصلے بھی وہاں کی عوام کی اُمنگوں کے عین مطابق ہونگے اور اِسی دورِحکومت میں ہونگے
سوال: جنوبی پنجاب میں اقلیتوں کی کیا صورتحال ہے؟
جواب: آج جنوبی پنجاب میں اقلیتوں کے حوالے سے حالات ماضی کی نسبت بہت بہتر ہیں اور مزید بہتر ہوں گے۔
سوال: ماضی میں پنجاب کی بھاگ دوڑ بڑے سیاست دانوں کے ہاتھوں میں رہی،وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی کارکردگی کا موازنہ اُن سے کیا جائے تو آپ کی رائے کیا ہے؟
جواب: تاریخ میں سیاست دان نام سے بڑے نہیں ہوتے بلکہ اپنے کام سے بڑے لکھے جاتے ہیں اور عثمان بزدار نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور اُنہوں نے اپنی کارکردگی سے ثابت کردیا ہے کہ عوام کی بہتری اور فلاح کیلئے جرات مندانہ فیصلہ کرنا باخوبی جانتے ہیں اج بڑے بڑے سیاسی شوبازاِن کے سامنے چاروں شانے چت ہیں وہ پنجاب کی ترقی کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں پہلی بار کابینہ بااختیار ہے اور انتظامی معاملات پر دخل اندازی نہیں کی جاتی۔
سوال:حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتیں کم کر دی گئیں مگر غریب تک اِس کے ثمرات نہیں پہنچ رہے ہیں؟
جواب: وزیراعظم کو عوام کا احساس ہے اور ریلیف پہنچانے کیلئے ہرممکنہ وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں ،پٹرول کی قیمتیں کم کرنا اِسی سلسلہ کی کڑی ہے۔جبکہ حکومت کا فوکس کورونا وبا کی روک تھام ہے پھر بھی حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں اور وزیراعظم عمران خان پٹرول کی کم قیمتوں کے براہ راست ثمرات عوام کو نہ پہنچنے کے حوالے سے نوٹس لے چکے ہیں اور متعلقہ اداروں کو ہدایات بھی جاری کر چکے ہیں ، آنے والے دنوں میں اِس حوالے سے اچھی خبریں ملیں گی
سوال:ایک تاثر ہے کہ شوگر کمیشن رپورٹ پر حکومت منتخب احتساب کرنا چاہتی ہے ؟
جواب: یہ مخالفین کے پروپیگنڈے کے سوااور کچھ نہیں ،ہم نے بلاامتیاز احتساب کا نعرہ بھی لگایا اور اِس سے پیچھے بھی نہیں ہٹے بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حکومت نے احتساب کا عمل خود سے شروع کیا ہے ،آج ہرمافیاقانون کے شکنجے میں ہے۔وزیراعظم عمران خان نے جو کہا وہ کر کے دیکھا اور پہلی بار شوگر مافیا کے گھنوﺅنے کھیل کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا گیاکہ کیسے یہ مافیا کئی سالوں سے عوام کا پیسہ لوٹ رہے تھے اِس رپورٹ کے مطابق جو ذمہ دار ہوگا اُس کا کڑا احتساب ہوگا اور احتساب ایسا ہوگا جو نظر بھی آئے گا۔
سوال: کرتارپورراہداری منصوبے کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں کیااِس سے مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہوا؟
جواب: میری نظر میں تو شاید اِس دور میںایسا منصوبہ کوئی دوسری حکومت نہ لا سکتی اِس منصوبے سے پاکستان کا روشن تشخص دنیا بھر میں اُجاگر ہوا ہے ہماری بہتر فارن پالیسی کو تقویت ملی ہے جبکہ اِس منصوبہ پر گرونانک نام لیوا سکھوں نے پوری دنیا میںپاکستان کا بول بالا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج سکھ برادری کشمیرایشو پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے ۔
سوال: کورونا کی موجودہ صورتحال میں آپ سمارٹ لاک ڈاﺅن یا مکمل لاک ڈاﺅن کے حمایتی ہیں؟
جواب: کوروناوبا کے دوران جس طرح کا ریلیف حکومتِ پاکستان نے عوام کو دیا اِس طرح کا ریلیف ایشیا کا کوئی ملک اپنی عوام کو نہیں دے سکا وزیراعظم عمران خان پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ لاک ڈاﺅن مسئلے کا حل نہیں ہمیں لاک ڈاﺅن کے ساتھ ہی رہنا ہے اور اب دنیا بھی اِس موقف کو تسلیم کر رہی ۔
سوال: ایک طرف کورونا ہے اور دوسری طرف ٹڈی دل کا حملہ، فصلوں کو بچانے کیلئے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟
جواب: دونوں مسائل اپنی اپنی جگہ اہم ہیں اور حکومت دونوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ،ستائیس سال بعد ٹڈی دل حملہ آور ہوئے ہیں ایک طرف اِس کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات ہو رہے ہیں ایک اندازے کے مطابق دولاکھ ایکٹر زمین پر اِن کا صفایا کیا گیا ہے اور دوسری طرف متاثرہ کاشتکاروں کے لئے حکومت نے 50ارب کے ریلیف پیکج کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔
سوال:بجٹ کی تیاریاں عروج پر ہے ،عوام کو کوئی ریلیف ملے گا ؟
جواب:حکومت کی اولین ترجیح پسے ہوئے طبقے کے ساتھ کھڑے ہونا ہے،احساس کفالت پروگرام،پناہ گاہیں،لنگر خانے،کورونا ایمرجنسی ریلیف فنڈز،بلوں اور ٹیکسوں میں خصوصی چھوٹ یہ سب اُسی کی ایک کڑیاں ہیں،حکومت کی تمام توانیاں اس پر صرف ہو رہی ہیں کہ عوام کو مکمل ریلیف دیا جائے اور اِس بجٹ میں بھی اِس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے ۔ تحریک انصاف عوامی جماعت ہے اور یہ عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہی فیصلے کرتی ہے ۔
سوال: زمینی حقائق کیا ہیں؟ پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف اوپر گیا یا نیچے؟
جواب: صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ اپنی دو سالہ پرفارمنس سے ہم اور ہمارے ووٹرز بالکل مطمئن ہیں۔
سوال: پاکستان تحریک انصاف پانچ سال پورے کر رہی ہے ؟
جواب: بالکل کر رہی ہے ؟ہم نے قلیل عرصہ میں قابل تحسین کارکردگی دیکھائی ہے ۔
سوال: اگلا دور کس کا دیکھ رہے ہیں پی ایم ایل این ،پی پی پی یا پھر پی ٹی آئی؟
جواب: آئندہ کے الیکشن جیت کرایک بار پھر پی ٹی آئی دوبارہ برسراقتدار آئے گی
سوال: کیا بلاول بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کو پھر سے زندہ کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں؟
جواب: بلاول بھٹوزرداری کی سیاست گھڑی خدابخش تک محدود ہو کر رہ گئی اور اِس سے باہر کچھ نہیں۔
سوال: مسلم لیگ ن کی سیاست مریم نواز کے ہاتھ میں ہے یا حمزہ شہباز کے ؟
جواب: جب مسلم لیگ ن کی سیاست ہی ختم ہوچکی تو مریم کیا او رپھر حمزہ کیا
سوال : اگر آپ سیاستدان نہ ہوتے؟
جواب: چونکہ میں نے بزنس سے عملی سیاست میں قدم رکھا تو پھر میں آج بزنس مین ہی ہوتا۔
سوال: ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف کورونا وبا ایسی صورتحال میں اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: مہنگائی پچھلی حکومتوں کے غلط فیصلوں کی بدولت ہوئی لیکن اب معیشت صحیح ٹریک پر ہے جس کے مثبت اثرات بھی آنے لگے ہیں۔عوام سے اپیل ہے کہ کورونا کو غیرسنجیدہ نہ لیں احتیاط کریں اور دوسرے کو بھی احتیاط کی تلقین کرکے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت کریں۔اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو یقین دلاتا ہوں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے نہ پہلے مایوس کیا اور نہ کبھی مایوس کرے گی بس مخالفین کے من گھڑت الزامات اور پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں یہ پاکستان ہم سب کا اور ہم سب نے مل کر اِسے خوبصورت سے خوبصورت تر بنانا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔