Buy website traffic cheap


ہوسکتا ہے لانگ مارچ کی ضرورت ہی پیش نہ آئے، مریم نواز

لاہور (ماینٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان ایک بار تو سازباز کرکے حکومت میں آگئے لیکن اب دوبارہ ان کے آنے کا چانس نہیں،حمزہ شہباز کی رہائی پر مبارکباد پیش کرتی ہوں، حمزہ شہباز نے بڑی ہمت اور جانفشانی کے ساتھ دو سال جیل کاٹی،جھوٹے مقدمات کا مقابلہ کیا اور ڈٹا رہا،حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی تیاری مکمل ہے، اب نا لائق حکومت کو گھر بھیج کر رہیں گے۔

ہفتہ کو اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز شریف کی رہائی کے عدالتی احکامات جاری ہونے کے بعد لاہور جاتی امراءکے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز شریف نے بڑی بہادری کے ساتھ جھوٹے کیسز کا مقابلہ کیا اور کہیں بھی لغزش نہیں دیکھائی ، ان کی رہائی پربہت خوشی ہورہی ہے، ساتھ مل کر پارٹی کیلئے مزید کام کریںگے، انہوں نے دوسال ناحق جیل کاٹی اور مجھے خوشی ہے کہ میرا بھائی ڈٹا رہا، حمزہ شہباز پارٹی کا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ لانگ مارچ کی تیاریاں ان قریب شروع ہوجائیں گی، ہوسکتا ہے لانگ مارچ کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سینیٹ الیکشن سے متعلق کچھ نہ ہی کہوں تو بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ارکان بھی تحریک انصاف کو اب پسند نہیں کرتے، سینیٹ الیکشن میں ان کے ارکان بھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے اور ووٹ دینے کو تیار نہیں، کیونکہ عمران خان کی کارکردگی سے ان کے ووٹ بینک پر اثر پڑا ہے، عمران خان کو ووٹ دینے کا مطلب ووٹ چور کو جتوانا ہے، عمران خان کے اب دوبارہ چانس نہیں ہے، وہ ایک بار تو ساز باز کر کے آگئے دوبارہ اس کا چانس نہیں، لہذا پی ٹی آئی ارکان اسمبلی بھی اپنے لیے محفوظ راستے ڈھونڈ رہے ہیں، سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی میں ہر صوبے سے بغاوت ہورہی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ دھاندلی کے باوجود حکومت ڈسکہ کا الیکشن نہیں جیت سکی، اب ایک حلقہ کھلا تو ساری حقیقت سامنے آگئی، حکومت ڈسکہ میں دوبارہ انتخاب سے متعلق الیکشن کمیشن کا چیلنج اس لئے کررہی ہے کہ چوری پکڑی گئی ہے، ان کو ڈر ہے کہ حکام پول کھول دینگے اور پکڑے جانے والے چھوٹے چور بڑے چوروں کا بتادیں گے، امپائر کو اغوا کرنے کے بعد بھی الیکشن ہار گئے، دوبارہ الیکشن سے پی ٹی آئی کی ضمانت ضبط ہوجائے گی، اس لیے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو روکنے کی کوشش کی جاری ہے