کورونا وائرس کی صورت میں روشنی خارج کرنے والا ماسک

اس دلچسپ سوال کا جواب اثبات میں ہے اور اس ایجاد کا سہرا میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور ہارورڈ یونیورسٹی کے سر ہیں جس کے ماہرین ایک عرصے سے اس پر تحقیق کررہے ہیں۔

پہلے پہل یہ ماسک زیکا اور ایبولہ وائرس کی شناخت کے لیے بنایا گیا جس پر ماہرین گزشتہ 6 برس سے محنت کررہے ہیں۔ اب اس میں تبدیلی کرکے اسے کورونا وائرس کی شناخت کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایسا ماسک تیار ہوسکے جو چھینکنے اور کھانسنے کی صورت میں کورونا وائرس کی موجودگی کا سگنل روشنی کی صورت میں خارج کرسکے۔
2014 میں ایم ا?ئی ٹی کی بایوانجینیئرنگ لیبارٹری نے اسے سینسر پر کام شروع کیا جو کاغذ پر چپکے منجمند ایبولہ وائرس کو شناخت کرسکے۔ پہلی کامیابی 2016 میں ملی جس کےبعد زیکا وائرس کی شناخت پر کام شروع ہوا۔ اب وہ اسی ٹیکنالوجی کو کورونا وائرس کی شناخت کے لیے استعمال کررہے ہیں جس کے بعد ماسک ازخود روشنی خارج کرنے لگے گا۔

اس طرح مریضوں کو ہپستال میں داخل ہوتے ہی کورونا کے مریض کے طور پر شناخت میں آسانی ہوسکے گی۔ اس کے بعد مریض کے نمونوں سے مزید تصدیق کی جاسکے گی۔ اس ٹیکنالوجی سے کورونا کی وبا کی روک تھام میں مدد ملے گی اور یوں غریب ممالک بطورِ خاص مستفید ہوں گے۔

تاہم ایم آئی ٹی اور ہارورڈ کےماہرین نے کہا ہے کہ یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے، فی الحال ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں اور کءہفوں سے وہ اپنے پہلے کورونا سینسر کی ا?زمائش کررہے ہیں۔ اس کےبعد ہی انسانوں پر ان کی وسیع آزمائش شروع ہوسکے گی۔

تاہم یہ ٹیکنالوجی دیگر وباو¿ں کی شناخت میں مو¿ثر ثابت ہوچکی ہیں جن میں سارس، خسرہ، عام فلو، ہیپاٹائٹس سی، ویسٹ نائل وائرس اور دیگر امراض شامل ہیں۔ یہ سینسر کاغذ اور کپڑے پر لگا کر ان سے سستے وائرس ماسک بنائے جاسکتے ہیں لیکن جلد ہی پلاسٹک کو بھی شناخت کے قابل بنایا جاسکے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اب تک کے سینسر بہت ہی سستے اور استعمال میں ا?سان ہیں۔

روشن ہونے والا ماسک وائرس کے ڈی این اے یا آر این اے سے جڑتا ہے خواہ وہ منجمند حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم کورونا کی شناخت کے لیے وائرس کا جینیاتی ڈرافٹ مدِ نظر رکھا گیا ہے اور جیسے وائرس سینسر پر پڑتا ہے ماسک روشن ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ روشنی عام آنکھ سے نہیں دیکھی جاسکتی لیکن اسے مخصوص آلے فلوری میٹر سے نوٹ کیا جاسکتا ہے۔