Buy website traffic cheap

MisFit

MisFit ۔۔۔انداز و رویئے۔۔۔

MisFit ۔۔۔انداز و رویئے۔۔۔
نقطہ نظر
حفیظ خٹک
سابقہ دور حکومت میں سندھ کے وزیر اعلی اک بزرگ سیاستدان سید قائم علی شاہ تھے۔ جوعوامی خدمات کی غرض سے اپنی ذمہ داریوں کو ایک جانب رکھ کر وزارت اعلی کے منصب سے الگ ہوگئے ۔ محترم پیپلز پارٹی کے پرانے جیالوں میں سے ہیں جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی ہی نہیں دیگر جماعتیں بھی ان کا احترام کرتی ہیں۔ شہر قائد میں مشکلات و مسائل کی جانب نشاندہی اورانکے حل کیلئے قائم علی شاہ کے ہی دور میں عالمگیر نامی اک شہری نے فکس اٹ کے نام سے کام کا آغاز کیا جوکہ سوشل میڈیا پر نمایاں توجہ کا مرکز رہا اور بعدازاں بھر پور عوامی حمایت کے باعث اک تحریک کی مانند سامنے آگیا۔ گٹرکے ڈھنکوں کو لگانے،دیواروں، گلیوں کی صفائی اورشجر کاری جیسی مہمات ان کی تحریک کو آگے بڑھاتی رہیں۔ جامعہ کراچی کے سلور جوبلی گیٹ پر منعقدہ اک تقریب میں موجودہ وزیراعظم عمران خان نے بھی ان کے کاموں کو سراہا۔ فکس اٹ کا کام عالمگیر کی قیادت میں تاحال جاری ہے اور امید واسق ہے کہ ان کی تحریک مثبت انداز میں جاری رہے گی۔
Fixitکے عالمگیر سمیت ذرائع ابلاغ کی انتظامیہ کی توجہ مبذول کرانے کیلئے اک Mis Fit تحریک کی بھی ضرورت ہے جو شہر قائد میں ہی نہیں پورے ملک میں مسائل کی جانب نشاندہی کرئے اور پھر ذمہ داران ان مسائل کو حل کر اکے انہیں Fixitکریں۔ اسی جانب اک آگے بڑھتے ہوئے اک معاملے کی جانب توجہ مبذول کرانا قلم کار کا مقصد تحریر ہے۔ ٹیوی چینلز پر ان دنوں منظم انداز میں پیپسی اور کوکالاکی کمپنیاں میوزک کے سپورٹرز کی حیثیت سے کام کررہی ہیں۔ کوکاکولا کوک اسٹوڈیو کے نام سے گذشتہ 13برسوں سے کام کررہا ہے جس میں گائیکی کے فن سے وابستہ گلوکاروں کو ڈھونڈا جاتاہے اور اس کے بعد انہیں مقابلے کے میدان میں لایا جاتاہے۔ بعدازاں ان کے مقابلے ہوتے ہیں اور اس طرح سے ان کی نظر میں یہ فن کی خدمت کی جارہی ہوتی ہے۔ کوک اسٹوڈیو گذشتہ کئی برسوں سے یہ کام سرانجام دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں نئے فنکاروں کو آگے لایا جاتاہے اور اس ہی طرح سے ان کو مزید آگے بڑھنے کا مواقع مل جاتے ہیں۔ کوکاکولا ماضی میں چند چینل پر اس کام کو کرتارہا ہے تاہم اب صورتحال قدرے مختلف ہے۔ اسی کام کو پیپسی نے بھی شروع کیا اور اسے Battle in Musicکانام دیا اس پلیٹ فارم کے خدوخال کو تبدیل کرکے پیپسی بھرپور انداز میں آگے آیا۔ نئے ہی نہیں انہوں نے پرانے فنکاروں کو اس پلیٹ فارم پر آنے کا موقع دیا اور ان کو یکجا کرکے گائیکی کے مقابلوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یوم آزادی کے موقع پر ہی نہیں کسی بھی اہم ملکی موقع پر ان کے کارکردگی سامنے آجاتی ہے۔
چوٹی کے گلوکاروں کو یکجا کرکے کوئی ملی نغمہ گواکر اسے ایک ٹی وی چینل پر نہیں قریبا تمام ہی چینلز پر لایا جاتاہے جس سے عوام پسند کرنے کے ساتھ ان کی زیادہ دیکھائے جانے کی وجہ سے ناپسند بھی کرتی ہیں۔ ٹی وی چینلز زیادہ تر خبروں کی اشاعت سمیت مختلف موضوعات پر بخث و مباحثوں کیلئے اپنا کردار اداکرتے ہیں۔ ماضی میں اک ٹی وی چینل ہواکرتا تھا جو حکومت کے ہی راگ الاپتا رہتا تھا تاہم جب سے پرائیوٹ ٹی وی چینلز آئے ہیں تب سے صورتحال میں تبدیلی آئی ہے۔
کوک اسٹوڈیو اور بیٹل ان میوزک کے اک اک گانے و نغمے کو بسا اوقات چینلز پر پروگرام کے وقفوں کے درمیان میں بھی دیکھایا جاتاہے، ان کا دورانیہ بڑھتا جارہاہے۔ جس سے مذہبی حلقوں میں اس کی مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کاروبار کو بڑھانے کیلئے بننے والے ایڈ پر بھی نقطہ اعتراض بڑھ رہے ہیں۔ کسی بھی طرح کے ایڈ سے لے کر پیپسی و کوکاکولاکے یہ سلسلے سب Mis Fit ہیں جنہیں اس طرز سے روکنے کی ضروت ہے انہیں اپنے رویئے کو درست کرنے کی بلکہ انہیں Fix itکرنے کی ضرورت ہے۔
ٹی وی چینل پر کوئی بھی پروگرام روزانہ کی بنیاد پر نہیں آتا ان کی اک ترتیب و دن طے ہوتے ہیں، اب ان ٹی وی چینلز کو اپنی معاشی ضرورتوں کو پوراکرنے کیلئے ایڈ کی بسا اوقات صرف ضرورت نہیں بلکہ سخت ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی بھی ایڈ ہزاروں نہیں لاکھوں روپے کے عیوض ہی ٹی وی چینل پر چلتے ہیں لہذا یہ طے ہے کہ کوک اور پیپسی کی انتظامیہ اپنی میوزک کیلئے خدمات کو عوام میں بڑھانے کے ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہونگے کہ ان کی اشیاء کی جانب عوام توجہ رکھیں اور انہیں اپنے گھر کے ماہانہ بجٹ میں لازمی شامل کریں۔ ماضی میں بھی متعدد فنکار گذرے ہیں ان کی آوازیں اور ان کی گائیکی میں خدمات کو عوام کبھی نہیں بھلاپائیں گے۔ یوم دفاع قریب آرہا ہے اسی یوم دفاع کے موقع پر ملکہ ترنم نورجہاں کے ملی نغمے آج بھی عوامی ذہنوں کے ساتھ دلوں میں بھی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر فنکار ماضی کے ایسے رہے ہیں جنہوں نے اس شعبہ میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ پیپسی و کوکاکولا کے ان پروگرامات کی انتظامیہ کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے ان سلسلوں کو غور سے دیکھیں اور جہاں انہیں مس فٹ نظر آئیں انہیں وہ صحیح کر کے فٹ کریں۔ انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بحیثیت مجموعی پاکستان کی عوام اک جذباتی عوام ہیں اور وطن عزیز کیلئے تن من دھن قربان کرنے کو ہرسوتیار ہیں۔ ختم نبوت کے حوالے سے تحریکوں کے حال سے لیکر اک عام فرد تک کی کاروائیوں کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔
کوک اسٹوڈیو اور بیٹل ان میوزک جیسی کاروائیوں کو انہوں نے جس انداز میں شروع کررکھا ہے ان پر ازسرنوغورکرکے انہیں عوام کے سامنے اس شعبہ سے لگاؤ رکھنے والوں کے سامنے پیش کرناچاہئے۔ تاکہ کہیں بھی انکے یہ پروگرام Mis Fit نہ ہوں