Buy website traffic cheap

Column, Muhammad Iqbal Abbasi, Flour Crisis, PM Imran Khan

لفظوں کے چاند اور محمد علی صابری

تحریر۔ محمد اقبال عباسی
الفاظ حروف تہجی سے بنتے ہیں اور جملہ الفاظ سے لیکن اگر یہی الفاظ کسی قادر الکلام شاعر کے ہاتھ لگ جائیں تو وہ اپنی مہارت اور فن سے ان الفاظ کو چاندجیسا بنا دیتا ہے،وہی الفاظ ایک گلاب کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور سامع و قاری کی روح میںایک سوندھی سوندھی خوشبو کی طرح اتر جاتے ہیں ۔ یہ اشعار کا ہی اعجاز ہے جس سے کوئی زندگی پا جاتا ہے تو کوئی زندگی کا مقصد، کسی کے حصے میں موٹیویشن آتی ہے تو کسی کو اپنے مسائل کا حل مل جاتا ہے ،یہاں تک کہ کسی کو اپنے دکھ مل جاتے ہیں ۔ روح کے زخموں کا علاج یا تو ولیِ کامل کے پاس ہوتا ہے یا پھر شاعر کے اشعار میں ، ایسے ہی ایک شاعر سے میرا غائبانہ تعارف اس وقت ہوا جب میں نے ”روزنامہ آفتاب“ کے لئے لکھنا شروع کیا اور اکثر اپنے کالم کے عین اوپر، چہرے مہرے سے سادگی و معصومیت کا مرقّع جناب محمد علی صابری کا قطعہ پڑھنے کو ملتا ،جس میں پاکستانی عوام کے دکھ اور مسائل بیان کئے جاتے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے طفیل تعلق اتنا بڑھا کہ ایک دوسرے کے حال احوال کا سلسلہ بھی چل نکلا ، ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ دنوں ان کی خوبصورت کتاب ”گلاب پانی میں “میں کا ٹائٹل دیکھ کر دل میں ہوک سی اٹھی کہ اگر ٹائٹل کا انتخاب اتنا خوبصورت ہے تو شاعری بھی کمال ہو گی ،کرنا خدا کا کہ جلد ہی میرے حصے کی کتاب موصول ہوگئی ۔کتاب کو دیکھتے ہی احساس ہوا کہ ہماری پیش گوئی بحرف با حرف درست ثابت ہونے کو ہے اور ایسا ہی ہوا کہ ہمیں محمد علی صابری کی پرمغز مرصع کاری پڑھنے کو ملی ۔مجھے جب بھی کسی شاعر کو پڑھنے کا موقع ملتا ہے تو میرے ذہن میں مشہور سرائیکی صوفی شاعر کا یہ قطعہ گونجنے لگتا ہے ۔
محنت کمال کرتے ، اپنا مغز کھپا تے
لوظاں دے چن بنائے ہم ، چن چوڈیاں دے گھنسو
جانباز میڈا ناں ہے ، انجان ہا ں وپاری
ہیرے ودا وچینداں ، مُل کوڈیاں دے گھنسو
(بہت زیادہ محنت کر کے اور اپنا دماغ لڑا کر میں نے لفظوں سے چودھویں کے چاند بنائے ہیں ۔ میرا نام دلچسپ ہے اور میں انتہائی سستی قیمت میں ہیرے بیچ رہا ہوں ، کسی نے خریدنے ہیں تو مجھ سے لے لو) جہاں تک صابری صاحب کی شاعری اور ان کے تخیل کی بات ہے ، ان کی شاعری میں مجھے سادگی و پرکاری کے ساتھ ساتھ وہ جرّاحی نظر آرہی ہے جس سے وہ معاشرتی مسائل کو با احسن طریقے سے بیان کر کے نہ صرف ان کا حل بتاتے ہیں بلکہ ان کے کچھ اشعار ایسے بھی ہیں جو ضرب المثل کہلانے کے قابل ہیں ۔ موصوف کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے شاعری جیسی صنف کا اس مہارت سے استعمال کیا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے بے اختیار داد دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ مجھ ناچیز کی رائے کے مطابق ایک شاعر کو عوام میں اس وقت تک پذیرائی نہیں ملتی جب تک کہ اس کی شاعری میں مقصدیت اور معنویت نہ ہو کیونکہ موجودہ دور میں اکثر شعراءاپنی چند رومانوی غزلوں کی بدولت جھاگ کے بلبلے کی طرح اٹھے اور اسی طرح ہی بیٹھ گئے لیکن وہ شعراءامر ہو گئے جنہوں نے اپنے قلم اور ذہن و دل کی مدد سے نہ صرف معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا بلکہ قومی نظریات کی حفاظت میں بھی ممد و معان ثابت ہونے کی کوشش کرتے رہے ۔ محمد علی صابری کی شاعری نہ صرف معاشرے کے ناسور پہ کاری ضرب لگاتی نظر آتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قومی و معاشرتی اقدار کی بھی پاسبان نظر آتی ہے ۔ موجودہ حالات کے تناظر ان کی شاعری کا انداز کچھ یوں ہے
دھارے ہوئے ہیں بھیڑ ئیے معصومیت کا روپ
وحشی بسے ہوئے ہیں ہماری زمیں پر
اور ہو متحد جو صابری امت رسول کی
ہیبت رہے نہ کفر کی طاری زمیں پر
عشق مجازی اور عشق حقیقی کے درمیان ایک کمزور سا پردہ حائل ہے جس کو محسوس کرنے کے لئے ایک دیدہ و بینا نگاہ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی نگاہ اگر شاعر کی ہو تو انسان اور خدا کے درمیان موجود تمام حائل پردے ہٹ جاتے ہیں اور فنا فی الشیخ اور فنا فی الرسول ﷺ کی منازل طے کرتا ہو ا فنا فی اللہ کے مقام تک جا پہنچتا ہے ۔ اسی بات کا ادراک ہمیں موصوف کی شاعری میں بھی جا بجا نظر آتا ہے ۔ اور انہوں نے اپنی اس کتاب میں بھر پور کوشش کی ہے کہ قارئین کے لئے ایک جامع شاعری مجموعہ مرتب کر کے پیش کر سکیں جس میں نہ صرف مقصدیت ہو بلکہ قاری کی دلچسپی کا مکمل سامان موجود ہو۔ مجھ ناچیز کی رائے میں بلاغت اور بلوغت کسی شاعرکی دو ایسی خصو صیات ہیںجو اس کو دوسرے شعرا ءسے نہ صرف ممتاز بناتی ہیں بلکہ اس کی شاعری کو چار چاند لگا دیتی ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی شاعر کے کلام میں بلوغت کیسے آتی ہے؟ تمام قارئین جانتے ہیں کہ شاعری ایک خداد اد صفت ہے لیکن تشبیہات و تمثیلات، بحر اور عروض کا علم تجربات اور سیکھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے اورجیسے جیسے وہ اس سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے اس پہ نئے نئے انکشافات ہوتے ہیں ایسا ہی صابری صاحب کا کلام ہے جس کے مطالعے سے مجھ پر یہ وا ہوا کہ ان کو نہ صرف شاعری کی تمام اصناف پر گرفت ہے بلکہ الفاظ کو استعمال کرنے کے فن سے وہ بخوبی واقف ہیں ان کے کلام کے کچھ نمونہ جات کچھ یوں ہیں ۔
وہ سر جو کربلا میں کٹ گیا ہے
وہی وجہ ِبقائے لا الہ ہے
صابریکس پہ تباہی کا دھرے گی الزام
امن دنیا میں یہ دنیا نہیں ہونے دیتی
ٍ اغراض کا ایندھن ہوئیں اخلاص کی اقدار
ملنے لگے اب یار بھی اغیار کی صورت

یہ کیا ہوا کہ گریزاں ہوئے شجر سارے
سمجھ نہ آئے کہاں اپنا آشیاں رکھوں
٭٭٭٭٭