Buy website traffic cheap

Nawaz Sharif meets Chaudhry Shujaat after 15 years

نواز شریف کی 15 سال بعدچودھری شجاعت سے ملاقات

لاہور:پاکستان مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق نے آئندہ عام انتخابات مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے،ن لیگ کے قائد نوازشریف نے قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی تین سیٹوں پر تعاون کی پیشکش کردی ہے ۔تفصیل کے مطابق سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت سے ملاقات کی ہے ،نواز شریف تقریباً 15 سال بعد چوہدری شجاعت سے ملنے ان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں دونوں کے درمیان ملاقات آدھے گھنٹے تک جاری رہی، نواز شریف نے چوہدری شجاعت حسین سے صحت کے بارے میں خیریت دریافت کی ۔دونوں رہنماﺅں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال اور آئندہ عام انتخابات بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جبکہ آئندہ انتخابات میں ملکر لڑنے اور سیٹ ایڈ جسٹمنٹ پر پر بات چیت کی ،ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے ملاقات کے دوران چوہدری شجاعت کو 2 قومی اسمبلی اور3 صوبائی سیٹوں پر تعاون کی پیشکش کی ہے ، اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف 2009 میں چوہدری شجاعت کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے تھے۔نواز شریف کے ہمراہ ملاقات میں شہباز شریف، مریم نواز ، رانا ثنااللہ، ایاز صادق اور اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے،چوہدری شجاعت حسین کی طرف سے ملاقات میں چوہدری سالک حسین، چوہدری شافع حسین اور طارق بشیر چیمہ بھی شریک ہوئے،ذرائع کے مطابق ق لیگ نے ملاقات کے بعد اپنی پارٹی قیادت کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں مسلم لیگ ق کی قیادت لیگی قیادت سے ملاقات بارے اپنے رہنماو¿ں کو اعتماد میں لے گی۔مسلم لیگ ن نے مسلم لیگ ق کو 2 قومی اور 3 صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی پیشکش کر دی۔مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف نے چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مشکل وقت میں ساتھ دیا یہ بھول نہیں سکتا۔مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے مسلم لیگ ن کے قائد سے کہا کہ خواہش تھی کہ آپ کو لندن آکر ملتا مگر صحت نے اجازت نہیں دی، اچھا ہوا آپ ملنے آگئے بہت خوشی ہوئی۔چودھری شجاعت حسین نے مریم نوازشریف سے دلچسپ مکالمہ میں کہا کہ میں نے اور نوازشریف نے ایک جیسی واسکٹ پہن رکھی ہے زیادہ اچھی کس کی لگ رہی ہے، مریم نواز نے چودھری شجاعت حسین کے استفسار پر جواب میں کہا کہ زیادہ اچھی آپ کی لگ رہی ہے، شہبازشریف نے کہا کہ سالک حسین نے میری کابینہ میں فعال کردارادا کیا تھا۔دوسری جانب مسلم لیگ ق نے دعوی کیا کہ ن لیگ سے طے ہوا ہے کہ مسلم لیگ ق کو چار ایم این اے اور آٹھ ایم پی ایز نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ملے گی، مسلم لیگ ن سے یہ بھی طے ہوا ہے کہ جتنی ہماری سیٹیں سابق حکومت میں تھیں وہ ہمیں ملیں گی۔ق لیگ نے دعوی کرتے ہوئے مزید کہا کہ قیادت کی خواہش ہے کہ ایڈجسٹمنٹ میں سیٹیں مزید بڑھ جائیں۔