Buy website traffic cheap


کرونا نئی جہتیں

کرونا نئی جہتیں
مرادعلی شاہد دوحہ قطر
تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب بھی دنیا میں کوئی انقلاب رونما ہوا،جغرافیائی تبدیلی وقوع پزیر ہوئی،کسی قدرتی آفت کا شکار ہوئی یا جنگوں نے عالم کا نقشہ تبدیل کیا،حضرت انسان کو نئی سوچ،نئی جہت اور نئی راہیں انتخاب کرنے کا موقع ملا،جس کی دو مثالیں تاریخ کی کتب سے قارئین کی نذر کرنا چاہوں گا،اشوک دی گریٹ نے جب اپنے اقتدار کی سب سے بڑی جنگ لڑنے کے بعد کلنگہ کا دورہ کیا تو میدان جنگ میں بریدہ لاشوں کے انبار اور ہر سو پھیلے ہوئے تعفن نے اسے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ کیا اقتدار کا حصول انسانوں پر ظلم روا رکھنے سے ہوتا ہے،طاقت اور بادشاہت کا سنگھاسن عوام الناس کی لاشوں پر براجمان کیا جاتا ہے۔اس جنگ کے نتیجہ نے اشوک کے ضمیر کو اس قدر جھنجوڑا کہ اس نے میدان جنگ میں ہی اعلان کردیا کہ آئندہ کوئی جنگ نہیں ہوگی اور خود اس نے بدھ مذہب اختیار کرلیا۔تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اگر اشوک بدھ ازم کو اختیار نہ کرتا تو ہو سکتا ہے کہ آج بدھ کے نام لیوا دنیا میں کہیں نہ ہوتے،دوسری بات یہ کہ اشوک کے اس فیصلہ نے عام آدمی کے اندر بھی جذبہ حب الوطنی اور ذاتی دفاع کے عمل کو بیدار کیا۔دوسری مثال جنگ عظیم دوم کی ہے کہ جس کے دوران دنیا دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ گئی تھی یعنی ایک طاقت کو اتحادی اور دوسرے کو محوری قوت کہا گیا،محوری قوت میں جاپان ،جرمن ،اٹلی اور چند ممالک جبکہ دیگر ممالک اتحادیوں کے ساتھ تھے۔دوران جنگ جب جاپان نے امریکہ کی بندرگاہ پرل ہاربر پر حملہ کیا تو ایسا دکھائی دینے لگا کہ یہ جنگ جاپان اور اس کے اتحادی جیت جائیں گے لیکن صرف دو ایٹمی بموںجو کہ ہیرو شیما اور ناکا ساگی پر برسائے گئے تھے جنگ کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا۔اب اس جنگ کی شکست نے جاپان میں کیا تبدیلی رونما کی جو سب سے اہم بات ہے۔جاپان کی معیشت پر اس کے دو طرح کے فوائدواثرات مرتب ہوئے ایک تو یہ کہ انہوں نے اپنی تعلیم کی طرف توجہ دے کر سائنسی ایجادات واختراعات میں اپنا لوہا منوایا اور دوسرا یہ کہ جب انہیں اندازہ ہو گیا کہ تابکاری اثرات کی بدولت اب جاپان کے زرعی قطعات قابل کاشت نہیں رہے تو انہوں نے اسی زمین پر جدید فیکٹریاں لگانا شروع کردیں،جس کا نتیجہ آج پوری دنیا کے سامنے ہے کہ میڈ ان جاپان سے مراد ہے کہ اشیا کی پائیداری۔یعنی جنگ نے جاپان کو زرعی ملک سے جدید ٹیکنالوجی کا متحمل ملک بنا دیا۔
جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ ایک موذی مرض کرونا نے ووہان سے نکل کر اب پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،لاکھوں افراد اس کا شکار اور ہزاروں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔چونکہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجٹلائزیشن کا دور ہے تو مجھے قوی امید ہے کہ اللہ کی مدد شامل حال رہی تو اس بیماری اور آفت سے بہت جلد چھٹکارا نصیب ہو جائے گا۔لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس بیماری سے نجات کے بعد دنیا میں کوئی تبدیلی رونما ہو گی یا من وعن ایسے ہی کام چلتا رہے گا۔کیونکہ کرونا ایک بیماری ہی نہیں بلکہ اس نے بہت سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کو دنیا کے سامنے برہنہ کر کے رکھ دیا ہے کہ کون سے ایسے ادارے اور ممالک تھے جو محض زبانی جمع خرچ کر رہے تھے،کون سے ایسے تھے جن کا قدرت نے صرف بھرم ہی رکھا ہوا تھا۔کتنے ایسے ممالک ایسے ہیں جن کے بارے میں ماہرین خیال کرتے تھے کہ ان کی مالی اور معاشی حالت بہت سے ممالک سے بہتر ہے لیکن اس بیماری نے سب کی قلعی کھول کے رکھ دی۔کون سے ملک میں کتنے فی صد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،ان کی معاشی پالیسیاں کیسی ہیں،دنیا میں ان کا مقام کیا ہے یہ سب قدرت کی طرف سے آئی ہوئی ایک بیماری نے بتلا دیا۔
دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی اس مرض میں مبتلا ہے اور دن بہ دن کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے،مبصرین،تجزیہ کار اور حکومتی اراکین کا خدشہ ہے کہ اگر اس بیماری کو عوام الناس کی طرف سے سنجیدہ نہ لیا گیا تو تقریبا پچاس ہزار کے قریب لوگ اس وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔جو کسی لحاظ سے بھی پاکستان جیسے گنجان ملک کے لئے احسن نہیں ہے۔پاکستان میں زندگی کس قدر افلاس کا شکار ہے سوشل میڈیا نے سب کو دکھا دیا ہے کہ کیسے راشن کے حصول کے لئے لوگوں کا جم غفیر لشکر کشی کرتا ہے۔راشن کے لئے پکاری گئی ایک آواز پہ ایسے کان کھڑے کرتے ہیں جیسے طبل جنگ پر سپاہی۔کم از کم مجھے تو اندازہ ہو گیا کہ بہتر سالوں میں ہماری حکومتوں نے عوام کا کتنا خیال رکھا ہے۔پاکستان میں کرونا کیا تبدیلیاں لے کر آتا ہے اس کے بارے میں حتمی رائے تو نہیں دی جا سکتی لیکن گمان کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان مکمل طور پہ ڈیجٹلائز ہو جائے گا جو کہ وقت کا تقاضا بھی ہے،آن لائن ذریعہ تعلیم رواج پا جائے گا،لوگوں کے رویوں میں کسی حد تک مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملے گی،معیشت میں بہتری آئے گی،لوگ اپنے حقوق سے آگاہی پائیں گے،یوٹیلٹی بلز آن لائن ادا کرنے کا فیشن بڑھ جائے گا،لوگوں میں پس اندازی کی اہمیت کو بھی رواج ملے گا کیونکہ حالیہ ایمرجنسی نے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ برے وقت کے لئے بچانا عقلمندی اور وقت کا تقاضا ہے۔کیونکہ ہم پاکستانیوں کا خیال یہ ہے کہ ہمیں کل کے لئے کیوں بچانا ہے ہمیں اللہ پہ اتنا توکل کیوں نہیں تو میری ان سے گزارش ہے کہ سورة البقرہ کی روشنی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔
یاایھالذین اٰمنوا ادخلو فی السلم کافة ولا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین۔
اے ایمان والو،اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاﺅ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو،کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
اسی لئے کہتے ہیں کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اور پھر اسلام نے پس اندازی کو منع نہیں فرمایا اور نہ ہی دولت کے حصول کی ممانعت ہے البتہ گن گن کر رکھنے اور دولت کی حرص کو سختی سے منع فرمایا ہے،اس لئے کہ اسلام اعتدال پسند مذہب ہے،فرمایا کہ نہ ہاتھ کو کھول کر رکھو اور نہ ہی گردن سے لگا کر رکھو۔یعنی اعتدال کا راستہ اختیار کرو۔لہذا ایسے افراد جو کہ اپنی آمدنی سے کچھ نہ کچھ پس انداز کرنے کی استطاعت رکھتے ہیںا نہیں برے وقت کے لئے جمع کرنا کوئی بری عادت نہیں ہاں اس کی حرص و ہوس کی ممانعت ضرور ہے۔
ان سب سے بڑی بات جو میری دانست میںپاکستانی قوم میںپیدا ہونا چاہئے وہ ہے سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی جس کا ابھی تک ملک میں فقدان رہا ہے۔اگرچہ ہم وہ قوم ہیں جو مذہب اور وطن کی حفاظت کی خاطر تن من اور دھن نچھاور کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں تاہم اس بیماری کے بعد انشا اللہ ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ اپنے ان جذبات کو کیسے کنٹرول کرکے بوقت ضرورت استعمال میں لے کرآنا ہے۔اللہ کرے دنیا کی اس بیماری سے جلد جان چھوٹ جائیں تاکہ سماجی،معاشی اور اخلاقی رونقیں پھر سے بحال ہو جائیں اور انسان انسانیت کی فلاح وبہبود میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔آمین