Buy website traffic cheap


خواہشات کے پیچھے چلنا نہیں ،ڈاکٹر اختر حسین عزمی

مرزا یسین بیگ
۔۔۔۔بڑی بے صبری سے چھٹی کا انتظار کیا گھر پہنچتے ہی ناول پڑھنا شروع کردیا کسی کام کی ہوش نہ رہی ، رات کو لالٹین کی روشنی میں پڑھتے پڑھتے جب بہت زیادہ وقت ہوگیا تو والدہ نے لالٹین بجھانے اور سونے کا حکم دے دیا، اس وقت ہمارے گھر میں بجلی نہ تھی ،میں نے لالٹین بجھاد ی ، خوش قسمتی سے اس وقت چودھویں کا چاند جوبن پر تھا لہذا باقی ناول میں نے چاند کی چاندنی میں مکمل پڑھنے کے بعد سویا ۔صبح میں نے ناول اقبال چاند صاحب کو واپس کیا تو کہنے لگے کیا آپ نے پڑھ لیا ؟ میں شرمیلے پن کے باعث یہ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ پڑھنے کا اتنا ندیدہ ہوں ۔ لہذا جواب دیا کہ کچھ پڑھ لیا تھا ۔ اس کے بعد ان کے زریعے سے محمد بن قاسم ،قیصر و کسریٰ ، قافلہ حجاز اور نسیم حجازی کے دیگر ناول مل گئے ، کالج دور میں انٹر کی تعلیم کے دوران میں نے نسیم حجازی کے تمام ناول مکمل کرلیے تھے ۔ اس کے بعد تمام بڑے ناول نگار ، مزاح نگار اور افسانہ نگار پڑھتا رہا ۔
آفتاب: آپ نے نسیم حجازی کے ناولوں کا ذکر کیا، بعض حضرات کی رائے میں نسیم حجازی کے ناول فنی اعتبار سے ناول کے معیار پر پورا نہیں اترتے ۔ ان میں مسلمانوں کے عظمت رفتہ کے بیان کی اتنی مبالغت اتنی زیادہ ہے کہ یہ حقائق سے زیادہ پروپیگنڈا لگتا ہے ۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے ؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی: ہر بڑی کہانی لکھنے والے کی کہانی میں کوئی نہ کوئی جھول تو رہ سکتا ہے ، نسیم حجازی کے ناولوں میں خصوصا ”قیصر و کسریٰ “ میں تاریخ کا بیان یابعض ناولوں میں لمبی لمبی تقریریں ۔لیکن یہ معاملہ صرف نسیم حجازی کے ساتھ نہیں ہے ۔ میکسم گورکی کے ناول ”ماں“ کا بڑا شہرہ سنا تھا لہذا میں نے اسے پڑھا تو آدھا ناول بھی نہیں پڑھ سکا کہ اکتاہٹ شروع ہوگئی ۔ کمیونسٹ انقلاب کا واضح پروپیگنڈا دکھائی دے رہا تھا ۔ میں نے صرف اس کے فن کو جاننے کے لیے ناول کو مکمل کیا ۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ ادیب کے سامنے لکھنے کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ضرور ہوگا، لیکن ضروری ہے کہ اس مقصد کو اپنی کہانی کے کرداروں کے تضاد اور موافقت کے زریعے اس طرح آگے بڑھایا جائے قاری کی دلچسپی اگلے حصے کو جاننے پر اسے آمادہ و تیار رکھے ،تو یہی ایک ادیب کا فن ہے ۔نسیم حجازی فنی اعتبار سے کامیاب ہیں کہ ان کا ناول پڑھے بغیر آدمی چھوڑ نہیں سکتا اور بعض مقامات پر قارمی اپنے حسب حال اور حسب جذبات محسوس کرتا ہے ۔ وہ کرداروں کے ساتھ مغموم و ملول ہورہا ہوتا ہے ۔ درحقیقت نسیم حجازی کے ناول نگاری کو فنی لحاظ سے کمزور وہی طبقہ قرار دیتا ہے جو میکسم گورکی کے پروپیگنڈا ناول ماں کو اعلیٰ ادب پارہ کہتے نہیں تھکتے ۔ترقی پسندی اور روشن خیالی کے نام نہاد علمبردار دینی و اخلاقی اقدار کی طرف پلٹنے کو رجعت پسندی اور ترقی دشمنی قرار دیتے ہیں ۔ نسیم حجازی کا ہر ناول اپنے قاری کو آخر تک اپنے اندر جذب رکھتا ہے ۔ 80کی دہائی میں نسیم حجازی کے دو ناولوں ”شاہین“ اور ”آخری چٹان“ پر پی ٹی وی سے ڈرامے نشر کیے ۔ ہم ہاسٹل میں دیکھتے تھے کہ نوجوان ڈرامے کے وقت سے پندرہ بیس منٹ پہلے ہی ٹی وی لاﺅنج میں کرسیوں پر براجمان ہوجاتے تھے ۔اگر یہ ناول فنی اعتبار سے ناقص تھے تو یہ بات کیسے ممکن تھی کہ لوگ اتنی دلچسپی سے ایک تاریخی ڈرامے کا انتظار کرتے ۔
آفتاب: کہا جاتا کہ ادب کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نسیم حجازی یا کوئی ادیب خود کو مذہب میں مقید کرکے اپنے پیغام کی آفاقیت کو ختم نہیں کردیتا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی : یہ ٹھیک ہے کہ ادب کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن جو ادیب ادب کو تخلیق کرتا ہے اس کا تو کوئی مذہب یا نظریہ ضرور ہوتا ہے ۔ جس میں وہ انسانیت کا فلاح اور نجات تصور کرتا ہے ۔ادیب جس معاشرے میں رہتا ہے ، اس معاشرے کی کوئی تو اخلاقی اقدار ہوں گی، جن کے قیام اور تحفظ میں معاشرے کی وہ کامیابی تصور کرتا ہے یا معاشرے میں بگاڑ ہوگا تو ادیب کے سامنے اس کی اصلاح کا کوئی تو پروگرام ہوگا اور ہونا بھی چاہیے ۔ معروف دانشور کارلائل ادیب انسانیت کا مرشد ہوتا ہے ۔ اس حیثیت سے ادیب لیڈر قرار پاتا ہے نہ کہ مقلد محض۔ ادیب کا کام ہجوم کی خواہشات کے پیچھے چلنا نہیں ،میرا مطلب ہے کہ لوگوں کی ڈیمانڈ کے مطابق نہیں بلکہ جن کو وہ معاشرے کے لیے مفید سمجھتا ہے اس کے مطابق لکھتا ہے ۔
آفتاب: اس طرح تو ادیب غیر جانبدار نہ رہے گا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی: ادیب کا کام پر کھڑے ہونا اور انصاف کی اقدار کی دعوت دینا ہے ۔ منصف اور جج کا کام اصول انصاف کی روسے صحیح کو صحیح کہنااور غلط کو غلط کہنا ہے۔اگر غیر جانبداری کا مطلب کہ منصف کسی کو ناراض نہ کرے تو انصاف نہیں ہوسکتا ۔ دیکھیے اچھی تحریر کا کچھ تو اثر ہوتا ہے ناں۔ تحریر سے کچھ کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ احساس زیاں پیدا ہوکر عمل پر آمادگی پیدا ہوتی ہے یا کسی برائی کی تحریک ہوتی ہے ، مایوسی و افسردگی پیدا ہوتی ہے ۔ باقی رہ گئی آفاقیت کی بات کہ مذہب کے باعث پیغام کی آفاقیت متاثر ہوتی ہے میں یہ کہوں گا کہ مذہب کی تعلیم تو ہوتی ہی آفاقی ہیں۔ یہ تو نیشنل ازم ہے جس نے انسان کو قوموں ،قبیلوں، ملکوں، رنگوں اور نسلوں میں تقسیم کیا۔ یہ کمیونزم ہے جس نے خود کو مزدوروں تک محدود رکھا۔اسلام تو تمام انسانیت کی آزادی فکر، آزادی اظہار، مساوات ، انصاف کی بات کرتا ہے ۔ کم ازکم اسلام کا پیغام تو کسی ادیب کو کسی خاص قوم یا ملک تک محدود نہیں رہنے دیتا ۔ جو اسے نہیں مانتے یہ ان کے حقوق اور آزادی کی بھی بات کرتا ہے ۔ اقبال کی شاعری آفاقی شاعری اور اسلامی شاعری ہے ۔
آفتاب: : اگر ادیب اپنی کہانی، افسانے،ناول میں وعظ و تبلیغ یا پروپیگنڈا شروع کردے تو کیا یہ ادب رہ جائے گا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی:ایسا وعظ جو قاری کو متوحش کردے تو گویا ادیب نے اپنے قاری کو ذہنی طور پر اپنے خلاف کردیا ۔ ایسا کرنا غلط ہے ، مجھے یاد ہے کہ جب میں آٹھویں کا طالب علم تھا تو میں کتابیں خریدنے قریبی شہر گیا ۔ مجھے کہانیوں کی کتاب کی تلاش تھی نہ ملی تو بکڈپو نے کہا یہ ایک کتابچہ پڑا ہے ۔ جو میں نے خٰرید لیااس میں کہانی کم اور اور خاندانی منصوبہ بندی کا وعظ زیادہے تو مجھے ایسی کتاب خریدنے کا بہت افسوس ہوا۔ حالانکہ اس وقت میری عمر بمشکل تہرہ برس تھی تو ادیب اگر وعظ کرنا چاہتا ہے تو وہ سیدھا سیدھا واعظانہ مضمون لکھے وہ قاری کو وحشت زدہ نہیں کرے گاجبکہ کہانی کے نام پر بڑا وعظ جو نظر آرہا ہو یہ ٹھیک نہیں ہے ۔
آفتاب: آج کل جو ادب تخلیق ہوا اس سے مطمئن ہیں ؟
اختر حسین عزمی: اچھا ادب بھی تخلیق ہورہا ہے لیکن سرمایہ درانہ نظام کے غلبے کے باعث اور میڈیائی ریٹنگ کی دوڑ نے ادیب کو بھی کمرشل ازم کا شکار کردیا ہے ۔ اور ادب برائے فروخت ہوکچا ، کالم نگاری میں چند ایک نام چھوڑ کر لکشمی دیوی کی پوجا کی جارہی ہے ۔
آفتاب: لیکن کیا ادیب بھوکا رہے ، آخر اس کی بھی معاشی ضرورتیں ہیں۔
اختر حسین عزمی : یہ ٹھیک ہے ہر دور میں ادیب و شاعر کے معاشی مسائل رہے ہیں اور یہ معاشرے کے اہل ثروت اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشروں کو بینائی اور تفریح مہیا کرنے والوں کی ضروریا ت کا خیال رکھے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فن ہمیشہ غربت میں ہی پروان چڑھتا ہے ۔ فرانسیسی کہاوت ہے کہ خوشحال لوگوں کی پیٹ بھرے لوگوں کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی اور کارلائل کے بقول ادیب کے لیے غریب ہونا عیب کی بات نہیں ۔ ایک ادیب کو یہ بات مدنظر رکھنا کہ اللہ کے نبی نے فقر کو اپنے لیے باعث فخر قرار دیا ہے ، دولت کو نہیں ، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہم اپنے رب کی تقسیم پر راضی ہیں کہ اس نے جاہلوں کے لیے مال اور ہمارے لیے علم رکھا ہے ۔
آفتاب: کن مصنفین کی تحریریں پسند آئیں ؟
افسانہ نویسی میں پریم چند، غلام عباس،جیلانی بی اے ، احمد ندیم قاسمی ناول نگاری میں نسیم حجازی، طارق اسماعیل ساگر، فضل کریم فضلی ، بانو قدسیہ ، طنزومزاح میں شوکت صدیقی ،کنہیا لعل کپور، شفیق الرحمان ،مشتاق احمد یوسفی اور پطرس کی تحریریں بہت پسند ہیں ، جبکہ موجودہ دور میں زاہد حسن اور محمد سجاد جہانیہ بھی بہت اچھا فکشن لکھ رہے ہیں ۔
آفتاب: نوجوان نسل کو کس طرح ادب و کتب بینی کی طرف لایا جاسکتا ہے ۔
اختر حسین عزمی : آج کل سیمینارز اور ورکشاپس سے کسی بھی شعبہ میں بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں ، اس لیے کتب بینی اور ادب کی ترویج کے لیے حکومتی اور نجی سطحی پر منظم سیمینارز سے بہت بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ میں پاکستان رائٹرز کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایسی چند ورکشاپس میں شامل ہوچکا ہوں ، میں نے معنویت اور مقصدیت کے اعتبار سے ان پروگراموں کو بہترین پایا اس سلسلے میں مرزا محمد یسین بیگ، الطاف احمد اور حسیب اعجاز عاشر جیسے نوجوانوں کی خدمات مثالی کہی جاسکتی ہیں ۔