Buy website traffic cheap

مائنس ون کا نہیں عہد وفا کا وقت ہے!

اپوزیشن حلوے سے محروم ہی رہے گی!

تحریر:شاہد ندیم احمد
اپوزیشن کی اے پی سی درحقیقت مولانا فضل الرحمن کا خواب ہے اور اس کی تعبیر دیکھنا چاہتے ہیں،وہ ایک مدت سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین پر زور دے رہے تھے کہ اے پی سی بلا کر عمران حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا جائے، لیکن زبانی کلامی وعدوں کے سوا کوئی عملی قدم اُٹھانے کو تیار نہ تھا ،لیکن اے پی سی کی تاریخ طے ہونے کے بعد حضرت مولانا کو اُمید ین بر آئی ہیں،لیکن اے پی سی میں مولا نا کے حسب منشائ، وہ کچھ نہیں ہو پائے گا جو چاہتے ہیں ،لیکن عوام کو دکھانے اور بتانے کے لیے کچھ نہ کچھ طے ضرور پا جائے گا۔ مولانا کو اے پی سی نتائج سے زیادہ اپنے حلوے کی فکر ہے ،عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ حلواکھانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ہیں۔ مولانا نے بے نظیر اور جنرل پرویز مشرف سے لے کر صدرزرداری تک سب سے بنا کر رکھی اور کشمیر کمیٹی کا حلوا انہیں پلیٹ میں رکھ کر ملتا رہا ہے، اگر مولانا انتخابات میں شکست نہ کھاتے تو مسلم لیگ (ق) کی طرح حکومت کا حصہ ہوتے اور عمران خان کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ انہیں طشتری میں رکھ کر پیش کرتے،لیکن ایسا نہ ہوسکا اور حکومت سے مولانا کی ٹھنی ہوئی ہے۔مولا نا نے حکومت کے خلاف دھرنا اپنے بَل بوتے پر دیا تھا ،لیکن اے پی سی کسی ون مین شوکا نام نہیں ہے۔ مولانا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو بڑی مشکل سے حلوے کا لالچ دے کر ایک ٹیبل پر لے تو آئے ہیں، لیکن یہ لوگ پہلے ہی بدہضمی کا شکار نیب کے زیر علاج ہیں اور نیب ان کے حلق سے حلوا نکلوانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس لیے اے پی سی میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی شرکت کے باوجو د کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا ،سب حلوے اور جلوے سے محروم ہی رہیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ اپوزیشن حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہے ،مگر دوسال کا عرصہ گزرنے کے باوجوابھی تک طے نہیںکیا جاسکا کہ حکومت سے کیسے نجات حاصل کی جائے،مولانا فضل الرحمن اپوزیشن پارٹیوں کا باہمی اعتماد بحال کرنے میں پیش پیش رہے ہیں ،یہ انہیں کی کاﺅشوں کا نتیجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کی میزبانی میں ہو رہی ہے،جس میں مسلم لیگ(ن) کا ایک بڑا وفد صدر شہباز شریف کی صدارت میں شریک ہو گا، محترمہ مریم نواز بھی وفد کاحصہ ہوں گی،ڈرامائی طور پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آخری وقت پر ایک اہم سیاسی چال چلتے ہوئے لندن میں مقیم مسلم لیگ(ن) کے رہبر میاں نواز شریف کو وڈیو لنک سے خطاب کرنے کی دعوت دی ہے۔میاںنواز شریف کوایک عدالت نے اشتہاری قرار دے رکھا ہے اور دوسری نے اپیل کیس میں طلب کر رکھا ہے،اِس لئے مخالفین ان پر حاشیہ آرائی کر رہے ہیں کہ جو ملزم عدالت میں پیش نہیں ہو سکتا ،سیاست کیسے کرسکتاہے۔میاں نواز شریف اے پی سی سے خطاب کرتے ہیں یا نہیں، اس میں کوئی خاص شخصیات آتی ہیں یا نہیں، لیکن کانفرنس کا انعقاد بہرحال ہو جائے گا۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ملک کی سیاسی قیادت کو جب بھی موقع ملا، انہوں نے اقتدار کے حصول کے لئے جمہوری اصولوں اور اپنے بلند بانگ دعوﺅں کی قربانی دی ہے ،انہیںایوان اقتدار میں پہنچ کر کبھی جمہوریت یاد رہی ،نہ آئین و قانون کی حکمرانی اور نہ سول بالادستی کا آموختہ جو اپوزیشن کے زمانے میں اپنے حلقہ نشینوں کے سامنے دہراتے ہیں،دور ابتلا میں بھی انہوں نے ذاتی اور خاندانی مراعات و آسائشوں کے لئے سمجھوتہ کیا اور اب بھی خود کو بچانے کے لیے کسی این آر او کے منتظر ہیں۔ میاں نواز شریف کی بظاہرمزاحمتی پالیسی بھی مسلم لیگ( ن) عقاب صفت کارکنوں اور رہنماﺅں کے علاوہ ملک کی جمہوریت پسند قوتوں کو بے وقوف بنانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ میاں شہباز شریف اور مریم نواز بنیادی طور پر میاں نواز شریف کے دو چہرے ہیں،راتوں کو ملاقاتوں اور حصول مراعات کے لئے میاں شہباز شریف اور دن کے اجالے میں بچہ جمورا سیاسی کارکنوں کے لئے مریم نواز کارآمد ہیں۔ میاں نواز شریف کی میڈیا لنک اور مریم نواز شریف کی براہ راست شرکت سے آل پارٹیز کانفرنس کی ساکھ میں کتنا اضافہ ہو تا ہے اور حکومت کس قدر دباﺅ میں آئے گی؟یہ بہت جلد واضح ہو جائے گا،لیکن اگر مولانا فضل الرحمن کی تجویز کے مطابق میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے اسمبلیوں سے استعفوں کی آپشن پر صاد کیا تو حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور موجودہ بُرا بھلا جمہوری نظام بھی خطرے میں پڑ جائے گا، لیکن اگرمحض عمران خان سے استعفیٰ کے مطالبہ کے بعد نیا اتحاد بنا کرسب اپنے گھروں کو چل دیے تو اپوزیشن اپنا رہا سہا بھرم بھی کھو بیٹھے گی۔
اس وقت اپوزیشن کی طرف سے جو اعلانات اور اشارے سامنے آ رہے ہیں، ان سے فی الوقت کوئی ایسی بات دکھائی نہیں دے رہی کہ جس سے اُمید کی جاسکے کہ آل پارٹیز کانفرنس تقریروں اور نعروں سے آگے بڑھ سکے گی۔ اگر اپوزیشن نواز شریف اور آصف زرداری کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میثاق جمہوریت طرز کی کسی دستاویز یا معاہدے پر متفق ہونے میں کامیاب ہوجائے تو اس سے ملک میں جمہوری سیاست کی تاریخ کو ایک نیا موڑ ضرور دیا جاسکتا ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں خود کو بچانے کی غرض سے عمران خان کے استعفیٰ پر اصرار کرنے کی بجائے میثاق جمہوریت کی ایسی دستاویزپر اتفاق کرنے کی کوشش کریں جو پہلے میثاق جمہوریت کا حصہ نہیں بن سکے تھے،لیکن ایسا لگتا ہے کہ اے پی سی میں شریک جماعتیں،وہ حلوا نہیں کھا سکیں گی جس کا ذکر مولانا فضل الرحمن نے کیا تھا ،یہ سارا حلوا ایک بار پھرحکومت ہی ہڑپ کرجائے گی،جیسا کہ گزشتہ دوسال سے ہورہا ہے کہ حکومت حلوا کھا رہی ہے اور اپوزیشن اسے للچائی نظروں سے دیکھے جا رہی ہے۔