Buy website traffic cheap

JHONSONS & JHONSONS

درد کش ادویات میں افیون کی ملاوٹ پر دوا ساز کمپنی کو 572 ملین ڈالر جرمانہ

واشنگٹن (ہیلتھ ڈیسک) امریکی ریاست اوکلاہامہ کی ایک ضلعی عدالت نے ہم وطن فارما سوٹیکل کمپنی ”جانسن اینڈ جانسن” کو درد کش ادویات میں افیون کی ملاوٹ پر 572 ملین ڈالر (469 ملین پائونڈ سٹرلنگ) جرمانہ عائد کردیا، تاہم کمپنی نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فارماسوٹیکل کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے درد کش ادویات میں افیون کی ملاوٹ کی تھی جس کے باعث اسے کلیولینڈ کائونٹی کی ضلعی عدالت سے جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔اس قبل رواں سال ہی اوکلاہامہ میں درد کش دوا آکسی کانٹن بنانے والی امریکی فارما سوٹیکل کمپنی ”پرڈیو فارما ” کو اسی طرح کے الزام کے تحت 270 ملین ڈالر اور ٹیوا کمپنی کو 85 ملین ڈالر جرمانہ کیا تھا۔ اوکلاہامہ کی کلیولینڈ کائونٹی کی ضلعی عدالت کے جج تھاڈ بالکمین نے فیصلے میں کہا کہ پراسیکیوٹر نے یہ ثابت کیا ہے کہ جانسن اینڈ جانسن کا درد کش ادویات میں کوکین کے استعمال کا عمل منشیات کے عادی افراد کے ساتھ دھوکہ ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ یہ عمل اوکلاہامہ کے ہزاروں شہریوں کی صحت و سلامتی کے ساتھ سودے بازی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ اوکلاہامہ کے شہریوں کے لیے شدید خطرہ بھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جرمانے کی رقم منشیات کے عادی افراد کے علاج اور ان کی دیکھ بھال پر خرچ کی جائے گی۔امریکی مرکز برائے انسداد امراض کے مطابق 1999 ء سے 2017 ء کے دوران افیون کے زیادہ استعمال کے باعث 4 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2000 ء سے اب تک صرف اوکلاہامہ میں 6000 افراد کی اموات اسی باعث واقع ہوئیں۔یاد رہے کہ امریکا افیون استعمال کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اس کے بعد بالترتیب کینیڈا اور جرمنی کا نمبر ہے۔