Buy website traffic cheap


پاکستانی اور فن لینڈ کے ماہرین نے مفید پروبایوٹک کی نئی قسم تیارکرلی

ہیلسنکی: پاکستانی اور فِن لینڈ کے ماہرین کی ٹیم نے دودھ ، دہی، خمیری مشروم اور دیگر غذاو¿ں میں پائے جانے والے مفید بیکٹیریا اور خمیری اجزا، پروبایوٹک کو جینیاتی تبدیلی سے گزارے بغیر ایک نئی قسم تیار کی ہے جو اب بہ آسانی دودھ کا حصہ بن کر بالخصوص بچوں اور دیگر افراد کو بہتر صحت فراہم کرسکتی ہے۔

پروبایوٹک کی ایک مشہور قسم ’لیکٹی کیسی بیکیلس رامنوسِس جی جی‘ کو مختصراً ایل جی جی کہا جاتا ہے۔ یہ بہت مفید ہے لیکن دودھ کے کاربوہائیڈریٹس اسے تباہ کردیتے ہیں اور یوں بچوں کو نہیں دیئے جاسکتے اور انہیں مصنوعی طور پر دودھ میں ملایا جاتا ہے۔

اگر یہ دودھ کا حصہ بن جائے تو شیرخوار بچوں کے کئی ہاضماتی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے قبل ایل جی جی کو دودھ میں شامل کرنے کے جینیاتی طریقے اپنائے گئے جن میں کامیابی نہیں مل سکی۔
اب فِن لینڈ کی جامعہ ہیلسنکی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بایوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینیئرنگ (نبجی) کے سائنسدانوں نے کسی جینیاتی تبدیلی کے بغیر ایل جی جی کو دودھ میں ملانے اور پروان چڑھانے کا طریقہ وضع کیا ہے۔

اس عمل کو ’کنجیوگیشن‘ کہتے ہیں جس میں ایک بیکٹیریئم کے خواص دوسرے بیکٹیریا میں منتقل کئے جاتے ہیں۔ اس عمل میں پہلے وہ چھلے دار ڈی این اے (پلازمِڈ) کی نقل دوسرے بیکٹیریئم میں بنائی جاتی ہے۔ اس طرح ایک خردنامئے کے خواص دوسرے میں پیدا ہونے لگتے ہیں۔

اس طرح اب ممکن ہوا ہے کہ اسے کسی بھی ڈیری مصنوعات میں شروع سے ہی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ یہاں پیداواری سطح تک ہی ان ایل جی جی کی آبادی اچھی خاصی بڑھ جاتی ہے اور بعد ازاں اسے مصنوعی طور پر شامل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

ایل جی جی کی یہ نئی قسم بچوں کے معدے میں بھی موجود رہتی ہے۔ اس طرح ماں کے دودھ میں موجود لیکٹوس اور کیسائن سے ان کی تعداد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس طرح ایل جی جی لیکٹک ایسڈ بڑھاتا ہے جو بچوں کو کئی بیماریوں سے بچاسکتا ہے۔

یہ تحقیق اپلائیڈ اینڈ مائیکروبائیلوجی جرنل میں شائع ہوئی ہے جس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بایوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینیئرنگ کی پروبایوٹک لیبارٹری سے وابستہ پروفیسر نذر حسین، محمد طارق اور ارسلان زیدی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ماہرین یہاں تک کہہ رہے کہ ایل جی جی کو ڈیری میں شامل کرنے کا طریقہ نہ صرف بچوں کے کئی امراض کو ختم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے بلکہ پروبایوٹک تھراپی کا مو¿ثر طریقہ بھی سامنے آئے گا۔