Buy website traffic cheap


ٹیکہ تو لگا مگر خبر نہ ہوئی

محمد یاسین شاکر
میرے عزیز دوستو پاکستان میں کئی ایسے کام ہوتے ہیں, قوانین پاس ہوتے ہیں،واقعات رونما ہوتے ہیں جن کو دیکھتے،سنتے یہ الفاظ زبان زدِ عام ہوتے ہیں کہ یہ سب امریکہ کروا رہا ہے، مغربی آقاو¿ں کو خوش کیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔ لیکن ایک بہت گہری، بڑی اور اہم بات نہایت سادہ الفاظ میں بتانا چاہتا ہوں حکومت وقت نے جو FATF کا بل پاس کیا اسکی اصل کہانی ہے کیا ؟؟پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے یہ سب ڈرامہ رچایا جا رہا ہے یہ سچ میں ڈیمانڈ کی گئی ہے کہ مسجد و مدارس کو کنٹرول کیا جائے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر بات ہاتھ سے نکلتی نظر آتی ہے آئیں اسی پہ ایک حکائیت سنتے ہیں کہتے ہیں کہ
ایک نالائق شخص وزیر تعمیرات بن گیا۔ وہ اتنا نالائق تھا کہ اسے رشوت وصول کرنے کا بھی سلیقہ نہیں تھا۔اس کے پاس ایک ٹھیکیدار آیا اور ایک فائل پر منظوری کے عوض بیس لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا۔ وزیر نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ، جھٹ سے فائل منگوائی اور اس پر Approved لکھ دیا۔اب فائل منظور ہو گئی مگر ٹھیکیدار کہیں نظر ہی نہیںآیا۔دو چار دن انتظار کرنے کے بعد وزیر بہت پریشان ہوا کہ اب کیا کرے؟ اسی اثنا میں اس کے چپڑاسی نے اپنے وزیر کا ا±ترا ہوا چہرہ اور طبیعت کی بے کلی دیکھ کر اندازہ لگایا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ وہ وزیر کے پاس آیا اور رازداری سے کہنے لگا‘ حضور!
ہوں تو میں چپڑاسی مگر کافی عرصہ سے یہ وزارت میں ہی چلا رہا ہوں۔ آپ مجھے اپنی پریشانی کی وجہ بتائیں،میں کوئی حل نکال دوں گا۔وزیر نے کہا فائل اپروو کر دی ہے مگر اب ٹھیکیدار ہاتھ نہیں آرہا۔ چپڑسی نے کہا فائل واپس منگوا لیں۔ وزیر نے کہا اب اس پر کٹنگ کس طرح کروں؟ چپڑاسی نے کہا جناب پریشان نہ ہوں، کوئی کٹنگ نہیں ہو گی۔فائل واپس آئی۔ چپڑاسی نے کہا آپ اس Approved سے پہلے Not لکھ دیں۔ مقصد پورا ہو جائے گا اور کوئی کٹنگ وغیرہ بھی نہیں ہو گی۔وزیر نے ایسا ہی کیا۔ اب ٹھیکیدار کو پتہ چلا تو بھاگا بھاگا آیا اور بیس لاکھ روپے کا بریف کیس پکڑایا۔ اب وزیر پھر پریشان ہو گیا اور پھر چپڑاسی کو بلایا کہ اب کیا کروں؟ چپڑاسی بولا جناب عرصہ ہوا یہ وزارت میں ہی چلا رہا ہوں۔ آپ نے فائل پر جہاں Not لکھا ہے وہاں ”ٹی“ کے بعد ”ای“ لگا دیں۔
یعنی Not کو Note بنا دیں۔ اب یہ ہو گیا
Note: Approved
وزیر نے ایسا ہی کیا اور من کی مراد پائی۔
یوں لگتا ہے جیسے پاکستان میں بھی بہت سے محکمہ جات وزیر خود نہیں چلا رہے کبھی ایک چیز اپروو ہوتی ہے مگر پھر تبدیلی آ جاتی جو کہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے. تو جنابFATF BILL 2020منظور بھی ھو گیا۔ ھمیں نہ حزب اقتدار نے بتایا اور نہ حزب اختلاف نے آگاہ کیا کہ بل میں ھے کیا؟مدارس و مساجد کے نظام پہ وہ ھاتھ ھو گیا ھے کہ ھم نسلوں تک شرمندہ رھیں گے۔مذھبی جماعتوں،رہنماو¿ں کی ترجیحات و بیداری کو سات سلام
منی لانڈرنگ کے شور میں دینی اوقاف پہ قبضہ !مجھے نہیں لگتا کہ بل کی منظوری سے قبل ھم میں سے کسی نے فٹف بل میں اوقاف کی بات بھی سنی ھو! بل کی دستیاب دستاویزات سے معلوم پڑتا ھے کہ بل تین اجزاءپر مشتمل ھے۔
1۔ اینٹی منی لانڈرنگ۔ ( رقوم کی منتقلی )
2۔ اینٹی ٹیررازم۔ ( دھشت گردی )
3۔ اوقاف کنٹرول پالیسی۔
اوقاف کنٹرول پالیسی بل کی تفصیلات پہ اگر غور کیا جائے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ھیں۔
مساجد و مدارس کا جب دھشت گردی سے تعلق کبھی بھی ثابت نہیں ھو پایا ھے تو مدارس و مساجد پہ قابو پانے کی پالیسیوں کا کیا مقصد ھو سکتا ھے ؟
مساجد کے خطبوں تک کا کنٹرول اس بل کے نفاذ سے یہاں تک ھو جائیگا کہ خطیب بات کرنے کو بھی ترسے گا !
وقف جگہ پہ مسجد ،مدرسہ تبھی بن پائے گا جب وہ جگہ اوقاف میں رجسٹرڈ ھوگی۔ اور یہ بات جاننے والے جانتے ھیں کہ نہ نو من تیل ھوگا نہ رادھا ناچے گی !جو مسجد مدرسہ کو زمین یا فنڈ دے گا وہ ساتھ اپنی منی ٹریل بھی دے گا۔۔ کہاں سے لئے پیسے ؟؟
کیا اس پیسے کا ٹیکس دیا ؟؟
کیا وہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہے ؟وقف زمین پر عمارت کی تعمیر کا مکمل ریکارڈ دینا ہو گا
اگر مسجد مدرسہ کسی موقعے پر مکمل اخراجات۔ فنڈ دینے والوں کی تفصیل یا منی ٹریل نہ دے سکا تو وہ عمارت حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی
تعمیر ہونے کے بعد بھی مسجد مدرسہ بنانے کےلئے پہلے وقف رجسٹر کرانا ضروری ہو گا۔۔
انجمن کے تمام عہدیداران کی مکمل ویرفیکشن ہو گی۔۔
ٹیکس ریکارڈ بھی چیک کیا جائے گا۔۔
یعنی مسجد مدرسے پر جو رقم لگا رہا ہے وہ کما کہاں سے رہا ہے۔ اس پر ٹیکس بھی دے رہا ہے کہ نہیں۔
ذرا سی شکایت پر بغیر وارنٹ۔ بغیر کسی وارننگ کے مسجد مدرسہ تعمیر کرنے والے کو چھ ماہ تک کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے جو ناقابل ضمانت ہو گا۔
اس دوران کوئی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔۔
خطبے یا تقریر کی شکایت کی صورت میں بھی چھ ماہ تک رکھا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی جرم نہ نکلا تو رہائی ہو جائے گی البتہ چھ ماہ کی قید پر پوچھا نہیں جا سکتا ہے۔
دین پسندو !
ہاتھ یہ ہوا ہے کہ اپوزیشن نے شور مچانے ، کچھ اراکین کو غیر حاضر رکھنے کا کردار ادا کیا۔
اور حکمران جماعت نے بل منظور کر لیا !
اپوزیشن کا ڈرامہ دیکھئے کہ
جب ترامیم ارسال کرنے کا وقت تھا ، ترامیم ارسال نہیں کیں، اور اجلاس میں کھڑے ھو کر ٹائم مانگنے کا ڈھونگ رچایا !
اپوزیشن ھمیں اس بل کے منی لانڈرنگ سے آگاہ کرتی رھی ، اوقاف کے تذکرہ کی کسی نے بات ھی نہ کی !
حکمران جماعت نے تو یہی کھیل کھیلنا تھا ، مگر حزب مخالف نے ھمیں اندھیرے میں نہیں رکھا ھے کیا ؟
اللہ تعالی وطن عزیز کا حامی و ناصر ھو۔ آمین