Buy website traffic cheap


پاکستان آن لائن ویزا سسٹم کی اپگریڈیشن مکمل، وفاقی وزیر داخلہ نے افتتاح کر دیا

اسلام آ باد:وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے آج یہاں نادرا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں “پاکستان آن لائن ویزا سسٹم” کو جدید تقاضوں کے مطابق استوارکرنے کا افتتاح کر دیا

یہ سسٹم مارچ 2019 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ موجودہ حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس سہولت کو سمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے ذریعے استعمال کرنے کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔

سسٹم اپگریڈ کے بعد پاکستان آن لائن ویزا سسٹم میں نئی کیٹیگریز شامل کی گئی ہیں جن میں میڈیکل ٹورزم، سی پیک ویزا، زائرین کے لئے پلگرم ویزا، کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کے لئے ویزاقابل ذکر ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بزنس ویزا پالیسی کو ازسرنو تشکیل دیا گیا ہے جس کے بعد اب یہ ویزا چوبیس گھنٹے کے اندر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

نادرا نے پاکستان آن لائن ویزا سسٹم کے ذریعے ویزا درخواست کی تمام تر کارروائی کو ٹیکنالوجی کے جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے دنیا بھر سے درخواست گذاروں کے لئے آسانی اور سہولت پیدا کردی ہے۔

سسٹم اپ گریڈ کے بعد اب یہ استعمال میں پہلے سے زیادہ آسان اور محفوظ بنا دیا گیا ہے جو موبائل اور ٹیبلٹ سمیت تمام ڈیوائسز پر رسائی ممکن ہو گئی۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ آن لائن ویزا درخواست کی بدولت نہ صرف پاکستان میں سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ یہ ملک کی مثبت ساکھ کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ آن لائن ویزا سسٹم کے ذریعے رسائی میں آسانی پیدا ہونے سے ملک میں ہونے والی غیرملکی سرمایہ کاری میں بھی بہتری آئی گی اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی پیدا ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آن لائن ویزا سسٹم کے ذریعے اب تک دنیا بھر سے 6لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نادرا طارق ملک نے کہا کہ پاکستان آن لائن ویزا کی سسٹم اپگریڈیشن کے نتیجے میں درخواست کی کارروائی پر لگنے والا وقت پہلے کی نسبت آدھا رہ جائے گا۔ بین الاقوامی سفر میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ویزا منظوری کا تناسب 94 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا مشن ہے کہ نادرا کی تمام خدمات کا جائزہ شہریوں کے نقطہ نظر سے لیا جائے اور اس کی روشنی میں بہتری لاتے ہوئے عوامی خدمات کو سب کی رسائی میں لایا جائے۔