Buy website traffic cheap

افغان قوم

وزیراعظم عمران خان نے افغان قوم کے لیے اہم پیغام جاری کردیا

لاہور(ویب ڈیسک): وزیراعظم عمران خان نے افغان قوم کے لیے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا طالبان امن مذاکرات میں مدد کی ،دعا ہے افغان عوام کی مشکلات ختم ہوں۔وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا طالبان امن مذاکرات میں مدد کی ،دعا ہے افغان عوام کی مشکلات ختم ہوں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعاگوہیں،دعاہے افغان عوام کو 3دہائیوں سے درپیش مشکلات کاخاتمہ ہو،امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے ہرممکن مددکریں گے.

عمران خان سعودیہ ایک ہی شلوار قمیض میں گئے اور اس پر چائے گر گئی، دلچسپ قصہ
لاہور(ویب ڈیسک): سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم عمران خان کو ڈرئسنگ بہتر کرنے کا مشورہ دے دیا۔ان کا ایک انٹر ویو کے دوران کہنا تھا کہ میں نے سنا ہے جب عمران خان سعودیہ گئے تھے تو ایک ہی شلوار قمیض میں گئے تھے اور ان کے کپڑوں پر چائے گر گئی۔مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ یہ بات صحیح ہے یا غلط لیکن میں یہ بات ضرور سنی ہے۔پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کو یہی نصیحت کروں گا کہ وہ اپنے پاس تین چار شلوار قمیض رکھیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں بھی بہت ان فارمل اور کھلنڈرا آدمی تھا لیکن جب وزیراعظم بن جائیں تو پھر کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے عمران خان ہر جگہ چپل پہن کر جاتے ہیں اور چپل پہن کر ہی پریڈ کو ریویو کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہونا چاہئیے ا سلیے میرے خیال سے عمران خان کو اپنی ڈریسنگ میں تھوڑی سی تبدیلی لانی چاہئیے اور مجھے تھوڑی تبدیلی نظر بھی آتی ہیں کیونکہ وہ اب شیروانی بھی پہنتے ہیں۔اور عمران خان کے اس اقدام کا کوئی نقصان نہیں ہو گا اس لیے انہیں اپنی ڈریسنگ پر توجہ دینی چاہئیے۔واضح رہے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ اسلامی تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔سعودی عرب نے ہر مشکل حالت میں پاکستان کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ عملی اقدامات بھی کئیے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے بھی ہر عالمی اور علاقائی معاملے پر سعودی حکومت کا ساتھ دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے دو بار سعودیہ کا دورہ کیا تھا۔ عمران خان سعودی عرب میں ہونے والی ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ سعودی عرب نے وزیراعظم عمران خان کا تاریخی استقبال کیا تھا۔ سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض کو پاکستان پرچوں سے سجا دیا گیا،اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر سعودی عرب اور پاکستان کے پرچم ایک ساتھ لہرا ئے گئے