Buy website traffic cheap

Column, Boot, Faisal Vawda, Boot, Talk Show, Army

پولٹری انڈسٹری، مافیا اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

 معلوم نہیں کہ حکومت کے پاس کون سی ایسی معلومات ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان کی اہم ترین انڈسٹری، جس کا براہ راست تعلق نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے ہے، اس کے خلاف ذمہ دار ترین سطح پر مافیا کا لفظ استعمال کرتے ہوئے اس سے ٹکر لینے کااعلان کر دیاگیا۔ اگر کوئی ایسی معلومات ہیں تو پہلے انویسٹی گیشن کرلینی چاہئے اور نتائج کو منظر عام پر لاکر پھر کسی انڈسٹری کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرنے چاہئےں ۔
محترمہ فردوس عاشق اعوان کی جانب سے بیان دیا گیا کہ چینی مافیا کی طرح پولٹری مافیا سے بھی ٹکر لیں گے اور شکست دیں گے۔ ممکنہ طور پر یہ بیان پولٹری پروڈکٹس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں ہو سکتا ہے۔ لیکن یہاں یہ پہلو اہم ترین ہے کہ اگر یہ انڈسٹری ایک مافیا ہے تو پھر یہ کیسا کمزور اور فضول مافیا ہے کہ گزشتہ سال یہ مسلسل نقصان میں رہا اور انتہائی کم قیمت پر مرغی کا گوشت فروخت ہوتا رہا۔ ریکارڈ پر ہے کہ پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر چکن کی فروخت کی جانب حکومت کی توجہ دلائی جاتی رہی ۔
چلیں گزشتہ سال تو کرونا وباءکے باعث معاملات مختلف تھے، اس سے گزشتہ سالوں میں بھی پولٹری مصنوعات کی قیمتیں کم رہیں اور پولٹری فارمرز مسلسل نقصان کا سامنا کرتے رہے۔ میڈیا پر چوزوں کو فارموں میں ڈالنے کی بجائے سڑکوں پر مفت بانٹنے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر سب کی نظروں سے گزریں۔ یہ کیسا عجیب اور بے بس مافیا ہے کہ کروڑوں کا نقصان کرتا رہا مگر اُس وقت اپنی مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھا سکا۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولٹری انڈسٹری گزشتہ پانچ دہائیوں سے عوام کو سستی اور معیاری پروٹین مہیا کر رہی ہے اور اس کا یہ صلہ دیا جا رہا ہے!
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کی پریس کانفرنس سے یوں لگتا ہے کہ جیسے انہیں پولٹری انڈسٹری کے متعلق بالکل بھی علم نہیں ۔اس حوالے سے منعقدہ اجلاس میں پولٹری انڈسٹری کے ممبران نے بیان پر شدیددکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولٹری کا ریٹ طلب ورسد کے اصولوں کے تحت مختص ہوتا ہے اور پولٹری فارمرز کا قیمتیں تعین کرنے میں کوئی عمل دخل نہیں۔ ممبران کا کہنا تھا کہ مرغی کا گوشت ایک Perishable پراڈکٹ ہے جس کو محفوظ نہیں کیا جاسکتا اوراسے فوری فروخت کرنا مجبوری ہوتی ہے۔ چاہے اس وقت جو بھی قیمت چل رہی ہو فروخت کرنا ہی پڑتا ہے۔
یہ پہلو بڑا واضح ہے کہ پولٹری کو سٹاک نہیں کیا جا سکتا ۔ 35 سے 40 دن کے بعد جب چوزہ تیار ہوتا ہے تو اس وقت مارکیٹ ریٹ کے مطابق فروخت کرنا فارمر کی مجبوری ہوتی ہے۔ اس فارمنگ سسٹم میں ہر درجے کا فارمر موجود ہے جسے بعض دفع شدید نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اکثر اوقات کئی کئی فلاک مسلسل گھاٹے میں جاتے ہیں۔ دوسری جانب جب کبھی ریٹ بہتر ہوتا ہے تو یقیناََ اس میں نفع بھی کمایا جاتا ہے۔
چکن کا ریٹ کسی جگہ کنٹرول نہیں کیا جاتا۔ یہ اوپن مارکیٹ کے تحت ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصول پر مارکیٹ فورسز طے کرتی ہیں۔ جب کبھی پیداوار کم ہو جائے اور طلب میں اضافہ ہو جائے تو ریٹ خود بخود بڑھ جاتا ہے۔ اس کے بر عکس مارکیٹ میں موجود طلب کے مقابلے میں زیادہ مال ریٹ کو گرا دیتا ہے۔ پیدا وار کیوں کم ہوتی ہے، اس کے بھی مختلف پہلو ہیں جن کے بارے مارکیٹ سے تعلق رکھنے والے لوگ بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں شوگر کی طرح کوئی ایسا منظم سرکاری ادارہ نہیں جو پولٹری مصنوعات یا پولٹری فارمنگ کی Inputs میں کسی جگہ اثر انداز ہوتا ہو۔ پولٹری فارمنگ میں چوزے سے لے کر دیگرInputs کی قیمتیں بھی مارکیٹ فورسز کے مطابق متعین ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ ڈیمانڈ نہ ہونے کے باعث چوزوں کی خریداری کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
پاکستان میں دیگر لائیوسٹاک پروڈکٹس کے مقابلے میں پولٹری پروڈکٹس کی قیمتیں Decapped ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انڈسٹری خود اپنے پاﺅں پر کھڑی ہوئی اور بدترین حالات سے گزرنے کے بعد بھی سنبھل جاتی ہے۔ اس سیکٹر کے کسی بھی ذیلی شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ یہاں نفع اور نقصان دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر پولٹری کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں تنقید کرنے والے اس وقت کہاں غائب ہو جاتے ہےں جب یہ مرغی کا گوشت انتہائی سستے داموں فروخت ہو رہا ہوتا ہے۔ اگر حکومت زیادہ قیمت کی صورت میں اثر انداز ہونا چاہتی ہے تو پھر نقصان کی صورت میں فارمر کو سہارا دینے کا بھی میکانزم بنائے۔
حکومتی ذمہ داران کی جانب سے کاروباری حلقوں کے لئے اس طرح کے الفاظ کا استعمال اور انہیں ڈرانے دھمکانے کا یہ انداز اگر اسی طرح جاری رہا توکاروبار کی فضا بری طرح متاثر ہو گی اور مجموعی طور پر نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ معیشت پہلے ہی تباہ ہے اب ایسے بیانات سے اس شعبہ کو تباہ نہ کریں جس کی وجہ سے غریب کے نوالے کو بھی بوٹی میسر ہو جاتی ہے۔