Buy website traffic cheap


ادب کے گوہر نایاب دبستان وارثیہ کے روح رواں قمر وارثی

 

اب کہاں جاﺅںتڑپتے دل کی فرمائش نکال۔۔۔اے مدینے کی زمیں میری بھی گنجائش نکال
انٹرویو: شہزاد احمد شیخ
دبستان وارثےہ عرصہ تےس سال سے ملک خداداد مےں اےک اےسا عظےم کام سر انجام دے رہی ہے جس کی پوری دنےا مےں کوئی مثال نہےں ملتی۔ 1994 مےں اس پلےٹ فارم سے ردےفی نعتےہ مشاعرے کا سلسلہ شروع کےا جسے ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل ہے۔ اس تنظےم کے روح رواں محترم جناب قمر وارثی کا تعلق شہر کراچی سے ہے آپ بنےادی طوریہ قومی نغموں کے شاعر ہیں مگر آپﷺ سے محبت و الفت نے انہیں نعتےہ شاعری کی جانب مائل کیا۔ادب کے اس گوہر نایاب کا روزنامہ آفتاب کیلئے خصوصی انٹرویو باذوق قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔
س۔ نعت کہنے کا سلسلہ کب شروع کےا
ج۔نعت کہنے کا شوق مجھ مےں 1990 مےں پےدا ہوا۔ در اصل مےں نے شعراءمےں اےک چےز دےکھی ہے کہ ان کے نعتےہ کلام مےں اےک ہی طلب نظر آتی ہے کہ مدےنے بلا لو، کسی طرح سے مدےنے چلا جاﺅں۔ مےں نے ےہ سمجھا کہ اس طرح تو نعت نا مکمل ہے۔ صرف طلب کی بنےاد پر ہی تو نعت مکمل نہےں ہوتی، آپ صلی اللہ علےہ وسلم کی سےرت ، اسوہءحسنہ اور صورت دونوں کو جب تک ےکجا کرکے آپ کی مدحت سرائی نہ کی جائے تو نعت مکمل نہےںہوگی لہذا کوئی نئی بات پےدا کی جائے۔
س۔ اس ردےفی نعتےہ مشاعرے کے شےڈول کے بارے مےں کچھ بتائےں
ج۔ہر کےلنڈر سال کے شروع مےں ہم شےڈول جاری کر دےتے ہےں اور اس شےڈول کو دسمبر مےں مکمل کردےتے ہےں۔ ہم ےہ شےڈول پاکستان کے تمام شہروں مےں رہنے والے دےگر منتظمےن سے مشورہ کر کے طے کرتے ہےں اور اس طرح پورے سال کے شےڈول کو جنوری مےں شائع کر دےتے ہےں اس طرح بہت پہلے دوسرے شہروں مےں رہنے والے منتظمےن اپنے دعوت نامے جاری کر دےتے ہےں اس طرح لوگوں کی دلچسپی بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ کسی قسم کی لفافہ بندی نہےں کی جاتی اس طرح سے مےزبانوں پر بہت بڑا بوجھ نہےں پڑتا۔ لےکن ےہ دےکھےں کہ اسی انتظام کی بنےاد پر لوگ عقےدت ، جوش، جذبے اور عشق نبی ہی ہمراہ لئے نہ صرف حاضری دےنے آتے ہےں بلکہ ان مشاعروں کہ کامےاب و کامران بھی بناتے ہےں ےہ سب ان پر اللہ کا اےک فضل ہے۔
س۔ فےملی مےں کوئی اور آپ کے ساتھ اس سلسلے مےںشامل
ج۔جی ہاں مےرا بےٹا سحر وارثی مےری بہت معاونت کرتا ہے۔ وہ ہر طرح سے مےرے ساتھ ہے۔مےں اگر اس دنےا مےں نہ رہا تو وہ انشاءاللہ اس سلسلے کو جاری و ساری رکھے گا
س۔ کبھی کسی مشاعرے کے سلسلے مےں کوئی دقت ےا پرےشانی ہوئی ہو
ج۔ جی ہاں اےک مرتبہ لاڑکانہ شہر والوں نے مشاعرہ مانگا ۔ مےں نے کہا ٹھےک ہے اگر آپ ARRANGE کر سکتے ہےں تو ہم آجاتے ہےں۔
جب ہم لاڑکانہ پہنچے تو انہوں نے بتاےا کہ ہم فلاں جگہ پر آ جائےں ۔ جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں کوئی نہےں تھا ۔ ہم نے انہےں فون کےا تو وہ آئے مےں نے ان سے پوچھا کہ ہم کہاں ٹھہرےں گے تو وہ اےک سوزوکی لے آئے اور ہمےں اےک چاول کے کارخانے مےںلے گئے وہاں انہوں نے جگہ صاف کرکے درےاں بچھا دےں ااور کہا کہ ہمارے پاس ےہ بندوبست ہے۔ وہاں نظامانی ہال مےں مشاعرے سے فارغ ہوا تو مےں اپنے اےک ساتھی سے مل کر مختلف ہوٹلوں مےں گےا پھر مےرے اےک دوست PWD مےں تھے ہم نے ان سے اےک جگہ لی اور پھر رات گزاری۔
س۔ اےک سال مےں کتنے مشاعرے ہو جاتے ہےں
ج۔الحمد ا اللہ اےک سال مےں بارہ سے زےادہ مشاعرے ہو جاتے ہےں۔ شروع مےں بارہ کا ہی شےڈول بناےا تھا لےکن پھر اےسا ہوا کہ اگر کسی مہےنے مےں اسلا م آباد کا شےڈول ہے تو دوسرے دن لاہور مےں بھی مشاعرے کا اہتمام کر لےا جاتا ہے۔ اسی طرح اےک دن ملتان ہو تو دوسرے دن ڈےرہ غازی خان مےں مشاعرہ ہو جاتا ہے ےعنی اےک سال مےں تقرےبا پندرہ مشاعرے ہو جاتے ہےں
س۔ مشہور نعت خواں جناب مظفر وارثی صاحب سے آپ کا کوئی تعلق
ج۔ جی ہاں وہ مےرے اس سلسلے والے بھائی تھے
س۔ آپنی تصانیف بارے کچھ بتائیے
ج۔ مےرے نعتےہ کلام کے چار مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں جس میں حضور وارث،عطائے ظہور،نثری مجموعہ آئنہءظہور، شمس الدجا، قافل ورا ، حرم سے حرم ، کلام مدینے شامل ہیں،جبکہ ےم تحرےک میرا مجموعہ غزل ہے
س۔ لوگوں کو کوئی پےغام دینا چاہےں گے
ج۔ مےرا پےغام ےہ ہے کہ لوگ اس معاملے مےں جتنی شرکت زیادہ کریں گےاتنی ہی زےادہ روشنی حاصل ہوگی اور جب روشنی حاصل ہوگی تو لوگ اس فےض سے زےادہ سے زےادہ مستفےد ہو سکےں گے
بھائی عمر یہ سرخ کلر والا میٹر ایک باکس میں لگا دینا اسی انٹرویو کے درمیان
قمر وارثی کا کہنا ہے کہ مےں عمرے پر گےا تھا جب مےں جنت ا لبقےع مےں تھا، ےاد رہے کہ جنت ا لبقےع کا دروازہ صرف فجر اور عصر کی نماز کے بعد کھلتا ہے مےں فجر کی نماز کے بعد وہاں گےا تو حضرت عثمان غنی کی قبر مبارک کے پاس کے پاس پہنچا اور پھر وہاں بےٹھ گےا،کےسی کےسی عظےم ہستےاں وہاں اللہ کرےم کی رحمتوں کے سائے مےں مدفون تھےں مےرے لئے اس سے بڑھ کر کوئی اور جگہ ہو ہی نہےں سکتی تھی وہاں میں نے ایک شعر کہا
اب کہاں جاﺅں تڑپتے دل کی فرمائش نکال
اے مدےنے کی زمےں مےری بھی گنجائش نکال
وہ سارا دن مےں نے وہیں پر گزارا پھر جب مےں کمرے مےں آےا تو اپنے آپ سے کہنے لگا کہ اے قمر اس مطلع کے بعد تم اب اور کےا کہو گے ؟ مگر مجھے تو نعت کہنی تھی مےں نے پھر روضہءرسول پر حاضری دی، تو سمجھئے جےسے کوئی بچہ ضد کرتا ہے۔ مےں تےن دن تک لگاتار حاضری دےتا رہا کوئی شعر نہےں ملا اور پھر بعد مےں مجھے اس گنبد خضراءکے فےض سے اور شعر حاصل ہوئے مےں نے کہا
جلوہ گاہ مصطفے مےں دل سے آئی ےہ صدا
آج کی تارےخ سے تارےخ پےدائش نکال
پےش کرتا ہوں قمر سرماےہء نعت نبی
حشر مےں جب حکم ہو لا نامہءپرسش نکال