Buy website traffic cheap


عدم استحکام کی وجوہات

وزیراعظم عمران خان ایک بحران سے نکلتے ہیں تو دوسرا چیلنج درپیش ہوتا ہے۔کابینہ میں تبدیلی بے سود اب تو ایسے فیصلے ناکامی کے اعتراف کے طور پر دیکھے جارہے ہیں۔بیانات، اعلانات اور بلند و بالا دعوے کچھ بھی تو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے معاملات کو بہتر بنانا کپتان کے بس کی بات ہے ہی نہیں۔سیاسی فیصلے بصیرت سے عاری، معاشی پالیساں بے نتیجہ، زرعی شعبہ رو بہ زوال، کھیلوں میں مسلسل ناکامیاں، کورونا سے نمٹنے کے لیے فیصلے غیر تسلی بخش، عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ عوامی مشکلات کے ادراک کے باوجود حکومت عام آدمی کو ریلیف دینے میں یکسر ناکام ہے۔ حکومتی ترجمانوں کی فوج ظفر موج فقرہ بازی اور مخالفین پر تنقید کے سوا حکومت کے امیج کو بہتربنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کر پا رہے۔
قارئین کرام! ہمارا مطمع نظر حکومت پر تنقید نہیں اور نہ صرف مسائل کی نشان دہی ہے بلکہ حکومت کا ناکامیوں سے نکل کر کامیابیوں کی طرف سفر کے آغاز کی خواہش ہے۔
عمران خان نے ایسے خواب بیچے جِسے آنکھوں میں سجائے نوجوان طبقہ میدان سیاست میں نکلا۔الیکشن کی شفافیت پر سوال ایک طرف،عوام تبدیلی کی منتظر تھی۔ کابینہ میں تبدیلی سے بہتر ہے پی ٹی آئی اپنی سوچ تبدیل کر کے بہتر سمت کا تعیّن کرے۔ موجودہ مسائل کا حل باہمی اتفاق رائے پیدا کرنا غیر ممکن نہیں، جبکہ کپتان اپنی ذات سے باہر کسی کو ایمان دار تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ سیاست ناممکنات کو ممکن بنانے کا نام ہے لیکن ستم ظریفی موجودہ ملکی قیادت سیاسی انداز اختیار کرنے کی بجائے الزامات اور بیانات کے ذریعے معاملات چلانا چاہتی ہے۔
گڈ گورنس کے دعوے، عوامی فلاح بہبود کے نعرے، احتساب کا بیانیہ سب پر مایوسیوں کی دھند چھائی ہوئی ہے۔ مایوسی کے بعد نا امیدی اور پھر حکومت کو رخصت کرنے کے مطالبہ کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا۔اپوزیشن اتحاد یہ ٹارگٹ حاصل کرنے میں تاحال ناکام ہے لیکن حکومت خود کو اس منزل کی طرف لیکر آگے بڑ ھ رہی ہے۔ شوگر سکینڈل اور جہانگیر ترین کا کردار، احتجاجی سیاست اور پر تشدد مظاہرے حکومتی نا عاقبت اندیشی، کمزور اور مبہم فیصلے،کورونا وبا ءاور مکمل لاک ڈوان سے گریزاں نامکمل فیصلے ہمیں معاشی اور صحت کے دونوں مسائل سے دوچار کر رہے ہیں۔
زرعی اور صنعت شعبہ بدحالی سے دوچار ہوچکا ہے۔ خارجہ پالیسی میں بھی مشکلات، مہنگائی کا طوفان، سیاسی عدم استحکام لیکن شہباز گِل اور فرودس عاشق اعوان فقرے بازی سے سیاسی کامیابی حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومتی نمائندے اس صورتحال کا مکمل ادارک رکھتے ہیں اور اضطراب کا شکار ہیں۔
بادی النظر میں اب صرف ایک ہی راستہ ہے کہ حکومت کو ملکی حالات کا رخ بہتری کی طرف موڑنے کے لیے سیاسی قیادت سے مذاکرات کا آغاز کرے۔ اور احتساب کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دیں۔ عوام کی بہتری کے لیے باہمی اتفاق سے فیصلہ سازی کی جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی تو ہمیشہ ہی ملکی مفاد اور جہموریت کے استحکام کے لیے سسٹم کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کی قائل ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف بھی ضمانت پر رہائی پاچکے ہیں۔ مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن جیسے ہاڈ لائینرز سے توجہ ہٹا کر حکومت باقی سیاسی قیادت پر توجہ دے۔ اعتماد سازی کی فضا قائم کرے۔ کرونا وباءپر قومی پالیسی تشکیل دے ۔ اسطرح خارجہ، اور معاشی معاملات پر بھی مشاورت کے اصول کو اپنائے۔ بیان بازی اور کردارکشی سے مسائل حل ہونے والے نہیں ۔عمران خان کی ناکام سیاست سے عوام کے عدم دلچسپی بڑھے گی۔ ہمیں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ناکامی کو مایوسی میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔
سیاسی عدم استحکام کا فائدہ غیر ملکی طاقتیں بھی اٹھائیں گی اور انتہاپسند نظریات کے حامل گروپ بھی سیاسی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھائیں گے۔ آج سیاسی قیادت کی اہلیت کا امتحان ہے۔ عمران خان کی ناکامی کو سیاست کی ناکامی ثابت نہ ہونے دیا جائے۔ معاشی کامیابی سیاسی استحکام سے ہی ممکن ہے حکومتی ناکامی کا ازالہ بھی تبھی ممکن ہے جب سسٹم کو خطرات سے محفوظ رکھا جائے۔ وقت کا تقاضا ہے سیاسی قیادت اس نقطہ پر متفق ہو۔ اور اس کےلئے پیش بندی کی جائے ۔