Buy website traffic cheap


آرٹیکل 63 اےسے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل، عدالتی رائے آج سنائی جائے گی

سپریم کورٹ نے منحرف اراکین اسمبلی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل کرلی۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے ساڑھے 5 بجے سنائیں گے۔سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت میں مو¿قف اپنایا کہ عدالت ایڈوائزری اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے، صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یاعوامی دلچسپی کے معاملہ پر رائے مانگی جاسکتی ہے۔عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظرمیں بھی دیکھے۔اٹارنی جنرل کے دلائل پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ صدرکو صدارتی ریفرنس کیلئے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینےکی ضرورت نہیں، آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں ریفرنس ناقابل سماعت ہے؟ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کردیا جائے؟جسٹس منیب نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا، اب بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا مو¿قف دے سکتے ہیں۔اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لےکر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا، قانونی ماہرین کی رائے میں تضاد ہوتا تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں۔آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے۔آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہآرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں۔ ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں، دوسرا فریقین سیاسی جماعت ہوتی ہے۔مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا، تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں۔ان کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ کافی آگے نکل چکا۔ڈیرھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے ساڑھے 5 بجے سنائیں گے۔