Buy website traffic cheap


قومی اسمبلی کا آج کا اجلاس بھی ہنگامہ خیز ہونے کا امکان

اسلام آباد: اپوزیشن کی سائیڈ لینے پر حکومتی ارکان نالاں جب کہ اپوزیشن وفاقی وزرائکے خلاف کارروائی نہ کرنے پر برہم ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس آج پھر ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ہے، اور موجودہ صورتحال نے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے لئے مشکل پیدا کردی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ اجلاس میں نازیبا زبان استعمال کرنے والے اراکین پارلیمنٹ پر اجلاس میں شرکت پر پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد اپوزیشن کی سائیڈ لینے پر حکومتی ارکان نالاں ہیں اور وفاقی وزراءکے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اپوزیشن برہم ہے۔

گزشتہ روز معاملات کو درست سمت کی جانب لے جانے کے لئے حکومت کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی

جس کو اپوزیشن سے مذاکرات کرنے اور اسمبلی میں تعاون کے لئے تیار کرنے کا ہدف دیا گیا تھا،

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن میں رسمی مذاکرات بھی نہ ہونے کا امکان ہے، اور اپوزیشن کی طرف سے تاحال مذاکرات کی پیش کش کو قبول نہیں کیا گیا، جس کی بڑی وجہ خود اپوزیشن میں دو دھڑے بن جانا ہے۔

اپوزیشن کے ایک دھڑے کے رہنما چار سے زائد وفاقی وزراء کے خلاف سپیکر کی جانب سے کارروائی کی منتظر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہ کئے جائیں

جو بھی مذاکرات ہوں گے پارلیمان کے اندر ہوں گے، حکومت بجٹ کے تین دن ضائع کرنے کے بعد کس منہ سے مذاکرات کی بات کر رہی ہے، حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اجلاس کے دوران اپنے رویہ پر معذرت کرنا ہوگی۔